<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:33:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:33:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاہ محمود قریشی، سشما سوراج کی ابو ظہبی میں ملاقات متوقع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی دہلی: پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان یکم مارچ کو ابو ظہبی کے مقام پر ملاقات کے امکان کا اظہار کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرلت کے لیے مدعو کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی وزارت برائے امور خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے 46 ویں سیشن میں شرکت کے لیے مدعو کیا جانا خوش آئند اور 18 کروڑ 50 لاکھ مسلمانوں کی آبادی والے ملک بھارت کی اسلامی دنیا میں شراکت کے اعتراف کا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اجلاس ابو ظہبی میں یکم اور 2 مارچ کو منعقد ہوگا جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید بن النہیان نے انہیں ’اعزازی مہمان‘ کے طور پر مدعو کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097942"&gt;پاک-بھارت کشیدگی پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، سعودی وزیرخارجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے امکانات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی کو ’مسلم دنیا کی مجموعی آواز‘ تصور کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد مسلم امہ کے مفادات کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا اور دنیا کے دیگر لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماضی میں اس گروپ کی جانب سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کو او آئی سی اجلاس کے لیے دعوت دیا جانا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان اور بھارت کے دورے کے بعد سامنے آیا جنہوں نے دونوں ممالک میں امن پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098098"&gt;کئی ممالک پاک۔بھارت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکی صدر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی نے اپنی رکنیت مسلم اکثریت ممالک تک محدود کر رکھی ہے، اجلاس میں روس، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کو نگرانی کی حیثیت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مئی 2018 میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے 45ویں اجلاس میں میزبان ملک نے تجویز دی تھی کہ بھارت ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا 10 فیصد آباد ہے اور اسے بھی نگراں کا درجہ دیا جانا چاہیے تاہم پاکستان نے اس پیشکش کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے باوجود پہلی مرتبہ بھارت کو اعزازی مہمان کے طور پر مدعو کیا جانا نئی دہلی کے لیے سفارتی جیت ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 24 فروری 2019 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی دہلی: پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان یکم مارچ کو ابو ظہبی کے مقام پر ملاقات کے امکان کا اظہار کیا جارہا ہے۔</strong></p>

<p>واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرلت کے لیے مدعو کیا ہے۔</p>

<p>بھارت کی وزارت برائے امور خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے 46 ویں سیشن میں شرکت کے لیے مدعو کیا جانا خوش آئند اور 18 کروڑ 50 لاکھ مسلمانوں کی آبادی والے ملک بھارت کی اسلامی دنیا میں شراکت کے اعتراف کا ثبوت ہے۔</p>

<p>یہ اجلاس ابو ظہبی میں یکم اور 2 مارچ کو منعقد ہوگا جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید بن النہیان نے انہیں ’اعزازی مہمان‘ کے طور پر مدعو کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097942">پاک-بھارت کشیدگی پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، سعودی وزیرخارجہ</a></strong></p>

<p>بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے امکانات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔</p>

<p>او آئی سی کو ’مسلم دنیا کی مجموعی آواز‘ تصور کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد مسلم امہ کے مفادات کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا اور دنیا کے دیگر لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔</p>

<p>ماضی میں اس گروپ کی جانب سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کی جاچکی ہے۔</p>

<p>بھارت کو او آئی سی اجلاس کے لیے دعوت دیا جانا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان اور بھارت کے دورے کے بعد سامنے آیا جنہوں نے دونوں ممالک میں امن پر زور دیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098098">کئی ممالک پاک۔بھارت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکی صدر</a></strong></p>

<p>انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی نے اپنی رکنیت مسلم اکثریت ممالک تک محدود کر رکھی ہے، اجلاس میں روس، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کو نگرانی کی حیثیت حاصل ہے۔</p>

<p>مئی 2018 میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے 45ویں اجلاس میں میزبان ملک نے تجویز دی تھی کہ بھارت ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا 10 فیصد آباد ہے اور اسے بھی نگراں کا درجہ دیا جانا چاہیے تاہم پاکستان نے اس پیشکش کی مخالفت کی تھی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے باوجود پہلی مرتبہ بھارت کو اعزازی مہمان کے طور پر مدعو کیا جانا نئی دہلی کے لیے سفارتی جیت ہے‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 24 فروری 2019 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098164</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Feb 2019 21:11:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c72470e3037b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c72470e3037b.jpg"/>
        <media:title>او آئی سی کا اجلاس یکم اور 2 مارچ کو ابو ظہبی میں منعقد ہوگا — اے ایف پی/فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
