<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:37:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:37:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098214/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملے کے بعد وادی میں بڑھتے ہوئے مظالم کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے 26 فروری کو رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس پاکستان کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ اجلاس 26 فروری کو او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ میں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم خود موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اعلیٰ ترجیحاتی مشن کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098138"&gt;پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی کے رابطے گروپ کا معمول کے اجلاس کا 46 واں سیشن یکم مار چ سے 2 مارچ تک ابوظہبی میں شیڈول ہے جہاں رکن ممالک کے وزرا خارجہ کا اجلاس ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;او آئی سی نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098164/"&gt;دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرلت کے لیے مدعو&lt;/a&gt; کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی وزارت برائے امور خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے 46 ویں سیشن میں شرکت کے لیے مدعو کیا جانا خوش آئند اور 18 کروڑ 50 لاکھ مسلمانوں کی آبادی والے ملک بھارت کی اسلامی دنیا میں شراکت کے اعتراف کا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر خود کش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097511/"&gt;&lt;strong&gt;44 فوجی ہلاک ہوگئے تھے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جس کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف علاقوں میں موجود کشمیریوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں موجود تاجر، طلبا، مزدور اور دیگر افراد سمیت 700 سے زائد افراد واپس مقبوضہ کشمیر آنے پر مجبور ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں دو روز قبل 3 کشمیری نوجوانوں پر تشدد کیا گیا تھا اسی طرح دوسرے شہر پونے میں نوجوان صحافی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیری صحافی جبران نذیر پر حملہ کرنے والے افراد نے کہا تھا کہ وہ انہیں واپس کشمیر بھیج دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098172/"&gt;بھارت ہمیں مرعوب کرنے کا خیال ذہن سے نکال دے، وزیر خارجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں کشمیریوں کے خلاف بدترین تشدد پر سپریم کورٹ نے بھی پولیس سربراہ اور ریاستی حکومتوں کو ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے سربراہ کو بھی کشمیریوں کے خلاف تشدد پر نوٹس لے کر بھارت کو ان مظالم سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کو اپنے خط پلوامہ واقعے کے بعد درپیش صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے پیدا کردہ ہیجان کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر تشدد کی نئی لہر مسلط کردی گئی ہے اور کشمیری عوام کو خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا مطالبہ کرنے پر ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098070/"&gt;پلوامہ واقعہ: صورت حال عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہے، وزیرخارجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سلامتی کونسل کو کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان کی حالت زار پرتوجہ دیں اوران پر بہیمانہ بھارتی مظالم رکوانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملے کے بعد وادی میں بڑھتے ہوئے مظالم کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے 26 فروری کو رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔</p>

<p>او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق رابطہ گروپ کا ہنگامی اجلاس پاکستان کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ </p>

<p>اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ اجلاس 26 فروری کو او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ میں ہوگا۔</p>

<p>او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم خود موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اعلیٰ ترجیحاتی مشن کو یقینی بنائے گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098138">پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے</a></strong></p>

<p>او آئی سی کے رابطے گروپ کا معمول کے اجلاس کا 46 واں سیشن یکم مار چ سے 2 مارچ تک ابوظہبی میں شیڈول ہے جہاں رکن ممالک کے وزرا خارجہ کا اجلاس ہوگا۔</p>

<p>او آئی سی نے غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098164/">دہلی کو بھی اپنے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرلت کے لیے مدعو</a> کیا ہے۔</p>

<p>بھارت کی وزارت برائے امور خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے 46 ویں سیشن میں شرکت کے لیے مدعو کیا جانا خوش آئند اور 18 کروڑ 50 لاکھ مسلمانوں کی آبادی والے ملک بھارت کی اسلامی دنیا میں شراکت کے اعتراف کا ثبوت ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر خود کش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097511/"><strong>44 فوجی ہلاک ہوگئے تھے</strong></a> جس کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف علاقوں میں موجود کشمیریوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے تھے۔</p>

<p>بھارت میں موجود تاجر، طلبا، مزدور اور دیگر افراد سمیت 700 سے زائد افراد واپس مقبوضہ کشمیر آنے پر مجبور ہوئے تھے۔</p>

<p>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں دو روز قبل 3 کشمیری نوجوانوں پر تشدد کیا گیا تھا اسی طرح دوسرے شہر پونے میں نوجوان صحافی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>

<p>کشمیری صحافی جبران نذیر پر حملہ کرنے والے افراد نے کہا تھا کہ وہ انہیں واپس کشمیر بھیج دیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098172/">بھارت ہمیں مرعوب کرنے کا خیال ذہن سے نکال دے، وزیر خارجہ</a></strong></p>

<p>بھارت میں کشمیریوں کے خلاف بدترین تشدد پر سپریم کورٹ نے بھی پولیس سربراہ اور ریاستی حکومتوں کو ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے سربراہ کو بھی کشمیریوں کے خلاف تشدد پر نوٹس لے کر بھارت کو ان مظالم سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کو اپنے خط پلوامہ واقعے کے بعد درپیش صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے پیدا کردہ ہیجان کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر تشدد کی نئی لہر مسلط کردی گئی ہے اور کشمیری عوام کو خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا مطالبہ کرنے پر ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098070/">پلوامہ واقعہ: صورت حال عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہے، وزیرخارجہ</a></strong></p>

<p>سلامتی کونسل کو کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان کی حالت زار پرتوجہ دیں اوران پر بہیمانہ بھارتی مظالم رکوانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098214</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Feb 2019 20:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c72f77d44484.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c72f77d44484.jpg"/>
        <media:title>او آئی سی کا اجلاس 26 فروری کو ہوگا—فوٹو:بشکریہ عرب نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
