<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:07:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:07:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان نے بھارت میں برآمدات کیلئے نیا راستہ اختیار کرلیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098312/</link>
      <description>&lt;p&gt;کابل: زمینی راستوں سے گھرے جنگ زدہ علاقے افغانستان نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ایرانی پورٹ کے ذریعے بھارت میں بر آمدات کے سلسلے کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ 57 ٹن خشک میوہ جات، ٹیکسٹائل، کارپیٹ اور معدنی مصنوعات پر مشتمل 23 ٹرک مغربی افغانستان کے شہر زرنج سے ایران کے چابہار پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشیا بھارت کے شہر ممبئی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067189"&gt;بھارت کا براستہ ایران چاہ بہار افغانستان سے تجارت کاآغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے بر آمداتی راستے کے افتتاح پر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی بر آمدات میں آہستہ آہستہ اضافہ کر رہا ہے تاکہ اس کا تجارتی خسارہ کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’چابہار پورٹ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے اور اس سے یقینی معاشی ترقی سامنے آئے گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایرانی پورٹ کے ذریعے افغانستان کو سمندر تک آسان رسائی ملی ہے اور بھارت نے اس راستے کو قائم کرنے میں مدد فراہم کی جس سے دونوں ممالک کو پاکستان سے ہٹ کر تجارتی سرگرمیاں کرنے کی رسائی حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095374"&gt;بھارت اور افغانستان سمیت 5 وسط ایشائی ممالک کے درمیان اہم مذاکرات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال امریکی حکومت نے چند پابندیوں سے استثنیٰ دیتے ہوئے افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے اور پابندی کا سامنا نہ کرنے والے اشیا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چابہار پورٹ کو نیا ٹرانسپورٹیشن کوریڈور بنانے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری طرف بھارت کی جانب سے 11 لاکھ ٹن گندم اور 2 ہزار ٹن دالیں افغانستان کو چابہار کے ذریعے بھیجی جاچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ممالک نے 2017 میں فضائی کوریڈور قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2018 میں افغانستان کی بھارت کو بر آمدات 74 کروڑ ڈالر رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 26 فروری 2019 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کابل: زمینی راستوں سے گھرے جنگ زدہ علاقے افغانستان نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ایرانی پورٹ کے ذریعے بھارت میں بر آمدات کے سلسلے کا آغاز کردیا۔</p>

<p>حکام کا کہنا ہے کہ 57 ٹن خشک میوہ جات، ٹیکسٹائل، کارپیٹ اور معدنی مصنوعات پر مشتمل 23 ٹرک مغربی افغانستان کے شہر زرنج سے ایران کے چابہار پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشیا بھارت کے شہر ممبئی جائیں گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067189">بھارت کا براستہ ایران چاہ بہار افغانستان سے تجارت کاآغاز</a></strong></p>

<p>نئے بر آمداتی راستے کے افتتاح پر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی بر آمدات میں آہستہ آہستہ اضافہ کر رہا ہے تاکہ اس کا تجارتی خسارہ کم کیا جاسکے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’چابہار پورٹ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے اور اس سے یقینی معاشی ترقی سامنے آئے گی‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ ایرانی پورٹ کے ذریعے افغانستان کو سمندر تک آسان رسائی ملی ہے اور بھارت نے اس راستے کو قائم کرنے میں مدد فراہم کی جس سے دونوں ممالک کو پاکستان سے ہٹ کر تجارتی سرگرمیاں کرنے کی رسائی حاصل ہوتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095374">بھارت اور افغانستان سمیت 5 وسط ایشائی ممالک کے درمیان اہم مذاکرات</a></strong></p>

<p>گزشتہ سال امریکی حکومت نے چند پابندیوں سے استثنیٰ دیتے ہوئے افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے اور پابندی کا سامنا نہ کرنے والے اشیا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چابہار پورٹ کو نیا ٹرانسپورٹیشن کوریڈور بنانے کی اجازت دی تھی۔</p>

<p>دوسری طرف بھارت کی جانب سے 11 لاکھ ٹن گندم اور 2 ہزار ٹن دالیں افغانستان کو چابہار کے ذریعے بھیجی جاچکی ہیں۔</p>

<p>دونوں ممالک نے 2017 میں فضائی کوریڈور قائم کیا تھا۔</p>

<p>2018 میں افغانستان کی بھارت کو بر آمدات 74 کروڑ ڈالر رہی تھی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 26 فروری 2019 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098312</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Feb 2019 12:03:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c74db54b8dff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c74db54b8dff.jpg"/>
        <media:title>مستعمل اشیا بھارت کے شہر ممبئی جائیں گے — اے ایف پی/فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
