<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:09:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:09:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 22 فیصد تک اضافہ کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098680/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے قدرتی گیس کی مقرر کردہ شرح میں 22 فیصد اضافے کی اجازت دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1467170/ogra-notifies-22pc-rise-in-gas-price"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق موجودہ سال کے لیے نظرثانی شدہ آمدنی کی ضروریات کے تحت قیمتوں کے الگ الگ تعین میں اوگرا نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے مقرر کردہ قیمت میں 119 روپے 68 پیسے فی یونٹ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے 69 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کی اجازت دی ہے تاکہ 19-2018 کے لیے آمدنی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے جو اوسط مقررہ قیمت 631 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کے مطابق موجودہ سال کے دوران پورا نہ ہونے والی ضروریات کے لیے مقررہ قیمت میں تقریباً 111 روپے فی یونٹ اضافہ ضروری تھا کیونکہ گزشتہ برس اکتوبر میں کم ٹیرف میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹرکچر کے تحت حکومت نے سال کے 9 ماہ میں 90 فیصد صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو نہیں روکا اور موسم سرما کے 3 ماہ میں اس میں مزید اضافہ کیا جس کی عوام نے مخالفت کی تھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیرو ریٹڈ سیکٹرز کے لیے ٹیرف میں واضح طور پر کمی کی گئی اور اسے خاص روٹی اور تندور کے لیے مختص کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے نتیجے میں گیس کمپنیاں ضروری آمدنی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور اسی وجہ سے انہیں فی ایم ایم بی ٹی یو تقریباً 120 روپے کے نئے اضافے کی ضرورت پیش آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت نے اکتوبر میں صارفین سے اضافی 95 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی تھی اور صارفین کے لیے 143 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیصلے سے دونوں گیس کمپنیوں کے لیے 75 ارب روپے کے اضافی ریونیو کی اجازت ہوگی جس میں 50 ارب ایس این جی پی ایل اور 25 ارب ایس ایس جی سی ایل کے لیے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ایس ایس جی سی کی مقرر کردہ کم قیمت سے سندھ اور بلوچستان میں صارفین کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت حکومتی فارمولا اس پر گامزن ہے کہ وہ پورے ملک میں قدرتی گیس کا ایک ٹیرف برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صارفین سے اضافی ٹیرف کے حصول کا مقصد یکساں نظام کو یقینی بنانا ہے جس سے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج صوبوں کو گیس پیداوار میں حصے کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے قدرتی گیس کی مقرر کردہ شرح میں 22 فیصد اضافے کی اجازت دے دی۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1467170/ogra-notifies-22pc-rise-in-gas-price"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق موجودہ سال کے لیے نظرثانی شدہ آمدنی کی ضروریات کے تحت قیمتوں کے الگ الگ تعین میں اوگرا نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے مقرر کردہ قیمت میں 119 روپے 68 پیسے فی یونٹ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے 69 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کی اجازت دی ہے تاکہ 19-2018 کے لیے آمدنی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے جو اوسط مقررہ قیمت 631 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رکھی گئی تھی۔</p>

<p>حکام کے مطابق موجودہ سال کے دوران پورا نہ ہونے والی ضروریات کے لیے مقررہ قیمت میں تقریباً 111 روپے فی یونٹ اضافہ ضروری تھا کیونکہ گزشتہ برس اکتوبر میں کم ٹیرف میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>

<p>اسٹرکچر کے تحت حکومت نے سال کے 9 ماہ میں 90 فیصد صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو نہیں روکا اور موسم سرما کے 3 ماہ میں اس میں مزید اضافہ کیا جس کی عوام نے مخالفت کی تھی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیرو ریٹڈ سیکٹرز کے لیے ٹیرف میں واضح طور پر کمی کی گئی اور اسے خاص روٹی اور تندور کے لیے مختص کردیا گیا۔</p>

<p>جس کے نتیجے میں گیس کمپنیاں ضروری آمدنی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور اسی وجہ سے انہیں فی ایم ایم بی ٹی یو تقریباً 120 روپے کے نئے اضافے کی ضرورت پیش آئی۔</p>

<p>اس کے علاوہ حکومت نے اکتوبر میں صارفین سے اضافی 95 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی تھی اور صارفین کے لیے 143 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>اس فیصلے سے دونوں گیس کمپنیوں کے لیے 75 ارب روپے کے اضافی ریونیو کی اجازت ہوگی جس میں 50 ارب ایس این جی پی ایل اور 25 ارب ایس ایس جی سی ایل کے لیے ہوں گے۔</p>

<p>دوسری جانب ایس ایس جی سی کی مقرر کردہ کم قیمت سے سندھ اور بلوچستان میں صارفین کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت حکومتی فارمولا اس پر گامزن ہے کہ وہ پورے ملک میں قدرتی گیس کا ایک ٹیرف برقرار رکھے۔</p>

<p>صارفین سے اضافی ٹیرف کے حصول کا مقصد یکساں نظام کو یقینی بنانا ہے جس سے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج صوبوں کو گیس پیداوار میں حصے کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098680</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Mar 2019 16:19:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c7a4bfd3ddce.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c7a4bfd3ddce.jpg"/>
        <media:title>موسم سرما کے 3 ماہ میں گیس کی قیمت میں اضافے سے عوام غصے کا شکار ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
