<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:16:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:16:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کا بھارت کیلئے ترجیحی تجارتی درجہ ختم کرنے کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098861/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر منصفانہ طور پر امریکی کاروباروں کو بند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی &lt;a href="https://edition.cnn.com/2019/03/05/economy/india-us-trade/index.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں بھارت سے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ پروگرام ترقی پذیر ممالک کی امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086536"&gt;امریکا اور بھارت مذاکرات، اہم دفاعی معاہدے پر دستخط&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ایس پی 121 ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کی برآمدات پر کم ڈیوٹیز کا درجہ دیتا ہے جبکہ بھارت 2017 میں پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی صدر نے اپنے خط میں لکھا کہ بھارتی حکومت نے ’امریکا کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ اسے بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی این این نے امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے جاری بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس کو لکھے گئے خط کی 60 روز کی میعاد شروع ہونے سے قبل ٹرمپ کارروائی کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب بھارت کے سیکریٹری تجارت انوپ ودھاون کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کا درجہ واپس لینے سے بھارت کی امریکا کو برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سیکریٹری تجارت کا &lt;a href="https://timesofindia.indiatimes.com/business/india-business/india-says-no-plan-to-impose-retaliatory-tariffs-on-us-goods/articleshow/68264822.cms"&gt;&lt;strong&gt;کہنا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھا کہ ’جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جی ایس پی کے تحت کیمیکل، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں سے کم از کم 19سو بھارتی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097382"&gt;بھارتی فوج کا امریکی کمپنی سے 72 ہزار سے زائدخودکار رائفلز کا معاہدہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارت کے عام انتخابات صرف 2 ہفتے کی دوری پر ہیں، جہاں نریندر مودی دوبارہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے امریکی مصنوعات پر بھارتی ڈیوٹی کے خلاف بھی بات کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ امریکی سیکریٹری تجارت ولبر روز نے بھی اپنے بھارتی دورے کو بھی منسوخ کردیا تھا، تاہم نیوز رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ولبر روز نے اپنے دورے کو خراب موسم کی وجہ سے منسوخ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر منصفانہ طور پر امریکی کاروباروں کو بند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی <a href="https://edition.cnn.com/2019/03/05/economy/india-us-trade/index.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں بھارت سے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ یہ پروگرام ترقی پذیر ممالک کی امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086536">امریکا اور بھارت مذاکرات، اہم دفاعی معاہدے پر دستخط</a></strong></p>

<p>جی ایس پی 121 ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کی برآمدات پر کم ڈیوٹیز کا درجہ دیتا ہے جبکہ بھارت 2017 میں پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔</p>

<p>امریکی صدر نے اپنے خط میں لکھا کہ بھارتی حکومت نے ’امریکا کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ اسے بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا‘۔</p>

<p>سی این این نے امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے جاری بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس کو لکھے گئے خط کی 60 روز کی میعاد شروع ہونے سے قبل ٹرمپ کارروائی کرسکتے ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب بھارت کے سیکریٹری تجارت انوپ ودھاون کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کا درجہ واپس لینے سے بھارت کی امریکا کو برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔</p>

<p>ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سیکریٹری تجارت کا <a href="https://timesofindia.indiatimes.com/business/india-business/india-says-no-plan-to-impose-retaliatory-tariffs-on-us-goods/articleshow/68264822.cms"><strong>کہنا</strong></a> تھا کہ ’جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے‘۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق جی ایس پی کے تحت کیمیکل، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں سے کم از کم 19سو بھارتی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ہوتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097382">بھارتی فوج کا امریکی کمپنی سے 72 ہزار سے زائدخودکار رائفلز کا معاہدہ</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارت کے عام انتخابات صرف 2 ہفتے کی دوری پر ہیں، جہاں نریندر مودی دوبارہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔</p>

<p>اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے امریکی مصنوعات پر بھارتی ڈیوٹی کے خلاف بھی بات کی گئی تھی۔</p>

<p>گزشتہ ماہ امریکی سیکریٹری تجارت ولبر روز نے بھی اپنے بھارتی دورے کو بھی منسوخ کردیا تھا، تاہم نیوز رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ولبر روز نے اپنے دورے کو خراب موسم کی وجہ سے منسوخ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098861</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Mar 2019 13:36:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c7e28aa16c7a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c7e28aa16c7a.jpg"/>
        <media:title>یہ پروگرام ترقی پذیر ممالک کی امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
