<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:02:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:02:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا روس سے جوہری آبدوز کیلئے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099072/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے روس سے دس سالہ لیز پر تیسری جوہری آبدوز کے حصول کے لیے  3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردیے جس سے بھارت نے روایتی حریف پاکستان اور چین کے خلاف بحیرہ ہند میں اپنی طاقت میں اضافہ کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کی تکمیل میں کئی مہینے لگے جو پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں چین کے اثر و رسوخ کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیرملکی خبرایجنسی کو بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق نہیں کی لیکن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے روس سے تیسری آبدوز لیز پر لینے کا معاہدہ کیا ہے جو 2025 میں فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098859/"&gt;پاک بحریہ نے پاکستانی حدود میں بھارتی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ روس اور بھارت سرد جنگ کے اتحادی ہیں اور بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے روس اہم ملک ہے جبکہ امریکا نے ماسکو سے اسلحے کی خریداری پر پابندیاں بھی عائد کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ برس اکتوبر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں بھارت کا روس سے ایس-400 ائرمیزائل کے 5 ارب 20 کروڈ ڈالر کے دفاعی منصوبے کا معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا نے بھارت کے آبدوز کے معاہدے کو نہ صرف پاکستان سے کشیدگی کا نتیجہ قرار دیا ہے بلکہ بحیرہ ہند میں چین کے بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مقابلے کی تیاری بھی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا کی طرح بھارت کو بھی چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت سے خوف ہے کیونکہ بھارت بھی اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین اور بھارت کی فوجیں 2017 میں ہمالیہ میں آمنے سامنے آئی تھیں جس پر چین اور بھارتی اتحادی بھوٹان دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098866"&gt;’بھارتی آبدوز کا سراغ لگانا پاک بحریہ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیلٹ اینڈ روڑ منصوبے کے تحت چین کے سری لنکا اور مالدیپ سے رابطوں کو بھارت خطے میں اثر و رسوخ کے طور پر دیکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے درمیان پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں آزاد کشمیر کو بھی شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے روس سے آبدوز کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجیوں پر حملے کے بعد 26 فروری کو بھارت نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے اگلے روز بھارتی کی جانب سے دخل اندازی کی دوسری کوشش کو ناکام بناتے ہوئے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098391"&gt;&lt;strong&gt;دو طیارے مار گرادیے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد کشیدگی عروج کو پہنچ گئی تھی اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے تاہم پاکستان نے خیرسگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں پاکستان نیوی نے بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کوناکام بنا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے روس سے دس سالہ لیز پر تیسری جوہری آبدوز کے حصول کے لیے  3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردیے جس سے بھارت نے روایتی حریف پاکستان اور چین کے خلاف بحیرہ ہند میں اپنی طاقت میں اضافہ کرلیا۔</p>

<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کی تکمیل میں کئی مہینے لگے جو پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں چین کے اثر و رسوخ کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔</p>

<p>غیرملکی خبرایجنسی کو بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے معاہدے کی تصدیق نہیں کی لیکن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے روس سے تیسری آبدوز لیز پر لینے کا معاہدہ کیا ہے جو 2025 میں فراہم کی جائے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098859/">پاک بحریہ نے پاکستانی حدود میں بھارتی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ روس اور بھارت سرد جنگ کے اتحادی ہیں اور بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے روس اہم ملک ہے جبکہ امریکا نے ماسکو سے اسلحے کی خریداری پر پابندیاں بھی عائد کردی ہے۔</p>

<p>گزشتہ برس اکتوبر میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں بھارت کا روس سے ایس-400 ائرمیزائل کے 5 ارب 20 کروڈ ڈالر کے دفاعی منصوبے کا معاہدہ ہوا تھا۔</p>

<p>میڈیا نے بھارت کے آبدوز کے معاہدے کو نہ صرف پاکستان سے کشیدگی کا نتیجہ قرار دیا ہے بلکہ بحیرہ ہند میں چین کے بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مقابلے کی تیاری بھی قرار دیا ہے۔</p>

<p>امریکا کی طرح بھارت کو بھی چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت سے خوف ہے کیونکہ بھارت بھی اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔</p>

<p>چین اور بھارت کی فوجیں 2017 میں ہمالیہ میں آمنے سامنے آئی تھیں جس پر چین اور بھارتی اتحادی بھوٹان دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098866">’بھارتی آبدوز کا سراغ لگانا پاک بحریہ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے‘</a></strong></p>

<p>بیلٹ اینڈ روڑ منصوبے کے تحت چین کے سری لنکا اور مالدیپ سے رابطوں کو بھارت خطے میں اثر و رسوخ کے طور پر دیکھتا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے درمیان پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں آزاد کشمیر کو بھی شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>

<p>بھارت نے روس سے آبدوز کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجیوں پر حملے کے بعد 26 فروری کو بھارت نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔</p>

<p>پاکستان نے اگلے روز بھارتی کی جانب سے دخل اندازی کی دوسری کوشش کو ناکام بناتے ہوئے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098391"><strong>دو طیارے مار گرادیے</strong></a> تھے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد کشیدگی عروج کو پہنچ گئی تھی اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے تاہم پاکستان نے خیرسگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں پاکستان نیوی نے بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کوناکام بنا دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099072</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Mar 2019 19:38:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c826f9295a5b.jpg?r=368604855" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c826f9295a5b.jpg?r=1738194418"/>
        <media:title>مودی اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں ائر ڈیفنس نظام کا معاہدہ بھی ہوا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
