<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:12:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:12:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں میں لکھنے کا شوق کس طرح بڑھایا جائے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099168/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب آپ کے بچے ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہوں تو آپ کو ان کی ہر سطح پر مدد کرنی چاہیے۔ دنیا کے تمام والدین تعلیم اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علم کے ساتھ انسان میں لکھنے کا فن بھی ہونا ضروری ہے، لہٰذا اگر آپ اسکول جانے والے بچوں کے والدین ہیں تو یہی صحیح وقت ہے ان میں تحریر کے فن کو اجاگر کرنے کا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحریر میں ہم آپ کے اسکول جانے والوں بچوں کو فنِ تحریر اور لکھنے کا شوق پیدا کرنے کے لیے ضروری تجاویز دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098189/"&gt;جب ننّھے منّے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگیں تو کیا کیا جائے؟ &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c865b5318274'&gt;تحریر ہر جگہ موجود ہوتی ہے&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;آپ جابجا خود کو لفظوں اور جملوں میں گھرا ہوا پائیں گے۔ جہاں بھی چلے جائیں چاہے ریلوے اسٹیشن ہو یا بازار، سڑک ہو یا ہسپتال، دیواروں اور سائن بورڈز پر پڑھنے کو نہ جانے کتنا مواد مل جاتا ہے۔ لہٰذا جب آپ کے ساتھ آپ کے بچے ہوں گے تو وہ بھی یہ سب کچھ پڑھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c865b5318326'&gt;ہر تحریر ایک جیسی نہیں ہوتی&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;بچوں کو یہ بتائیے کہ تحریر 2 طرح کی ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلی تحریر پیشہ وارانہ اعتبار سے لکھی جاتی ہے اور اس کا فنِ تحریر آپ کا ہنر ہوتا ہے، جبکہ دوسری تحریر روزانہ کی زندگی میں استعمال ہوتی ہے جو مخصوص طرز میں لکھی جاتی ہے۔ مثلاً جیسی تحریر ہم ملازمت کی درخواست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو ان دونوں تحاریر میں فرق بتانا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c865b531836b'&gt;سوال پوچھیے&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کا بچہ یہ جملہ کہہ دے کہ اسے لکھنا پسند نہیں تو اس سے پوچھیے کہ کیوں؟ اسے اپنی مدد کی آفر کریں اور پوچھیں کہ کیا ہم آپ کی کوئی مدد کرسکتے ہیں؟ آپ کی پریشانی کی اصل وجہ کیا ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c865b53183ac'&gt;دھیان دیجیے&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;اکثر لکھاری مخصوص صورتحال یا خاص ماحول ملنے کے بعد قلم سے شاہکار تحاریر لکھتے ہیں۔ وہی مخصوص حالات لکھاریوں میں لکھنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097828/"&gt;کیا 3 دن کے بچے بھی الفاظ سمجھ لیتے ہیں؟ &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ وہ کون سا ماحول یا چیز ہے جس کی مدد سے آپ کا بچہ بڑے آرام سے تحریری کام انجام دے سکتا ہے۔ آپ بچے سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کو ماحول میں کسی خاص قسم کی آواز درکار ہے یا پھر آپ کو بالکل خاموشی چاہیے؟ آپ کو جگہ کیسی چاہیے؟ انہی باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے بچوں کو ان کا مطلوب ماحول فراہم کیجیے تاکہ جب وہ لکھنے بیٹھیں تو ان کا ذہن ہم آہنگ ہو اور انہیں لکھنے کی تحریک ملے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8509ee771ed.jpg"  alt="&amp;mdash;تصویر شٹراسٹاک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—تصویر شٹراسٹاک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c865b531840a'&gt;بچوں کی تحریر سنیے&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;بچے جو کچھ لکھیں، انہیں غور سے سنیے اور ان سے ان کی تحریر سے متعلق سوالات بھی کیجیے۔ اس طرح بچے میں اعتماد بڑھے گا اور وہ تحریر میں مزید دلچسپی بھی لینے لگے گیں&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب آپ کے بچے ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہوں تو آپ کو ان کی ہر سطح پر مدد کرنی چاہیے۔ دنیا کے تمام والدین تعلیم اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ </p>

<p>علم کے ساتھ انسان میں لکھنے کا فن بھی ہونا ضروری ہے، لہٰذا اگر آپ اسکول جانے والے بچوں کے والدین ہیں تو یہی صحیح وقت ہے ان میں تحریر کے فن کو اجاگر کرنے کا۔</p>

<p>اس تحریر میں ہم آپ کے اسکول جانے والوں بچوں کو فنِ تحریر اور لکھنے کا شوق پیدا کرنے کے لیے ضروری تجاویز دیں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098189/">جب ننّھے منّے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگیں تو کیا کیا جائے؟ </a></strong></p>

<h2 id='5c865b5318274'>تحریر ہر جگہ موجود ہوتی ہے</h2>

<p>آپ جابجا خود کو لفظوں اور جملوں میں گھرا ہوا پائیں گے۔ جہاں بھی چلے جائیں چاہے ریلوے اسٹیشن ہو یا بازار، سڑک ہو یا ہسپتال، دیواروں اور سائن بورڈز پر پڑھنے کو نہ جانے کتنا مواد مل جاتا ہے۔ لہٰذا جب آپ کے ساتھ آپ کے بچے ہوں گے تو وہ بھی یہ سب کچھ پڑھ سکیں گے۔</p>

<h2 id='5c865b5318326'>ہر تحریر ایک جیسی نہیں ہوتی</h2>

<p>بچوں کو یہ بتائیے کہ تحریر 2 طرح کی ہوتی ہے۔ </p>

<p>پہلی تحریر پیشہ وارانہ اعتبار سے لکھی جاتی ہے اور اس کا فنِ تحریر آپ کا ہنر ہوتا ہے، جبکہ دوسری تحریر روزانہ کی زندگی میں استعمال ہوتی ہے جو مخصوص طرز میں لکھی جاتی ہے۔ مثلاً جیسی تحریر ہم ملازمت کی درخواست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو ان دونوں تحاریر میں فرق بتانا بھی ضروری ہے۔</p>

<h2 id='5c865b531836b'>سوال پوچھیے</h2>

<p>اگر آپ کا بچہ یہ جملہ کہہ دے کہ اسے لکھنا پسند نہیں تو اس سے پوچھیے کہ کیوں؟ اسے اپنی مدد کی آفر کریں اور پوچھیں کہ کیا ہم آپ کی کوئی مدد کرسکتے ہیں؟ آپ کی پریشانی کی اصل وجہ کیا ہے؟ </p>

<h2 id='5c865b53183ac'>دھیان دیجیے</h2>

<p>اکثر لکھاری مخصوص صورتحال یا خاص ماحول ملنے کے بعد قلم سے شاہکار تحاریر لکھتے ہیں۔ وہی مخصوص حالات لکھاریوں میں لکھنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097828/">کیا 3 دن کے بچے بھی الفاظ سمجھ لیتے ہیں؟ </a></strong></p>

<p>آپ یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ وہ کون سا ماحول یا چیز ہے جس کی مدد سے آپ کا بچہ بڑے آرام سے تحریری کام انجام دے سکتا ہے۔ آپ بچے سے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کو ماحول میں کسی خاص قسم کی آواز درکار ہے یا پھر آپ کو بالکل خاموشی چاہیے؟ آپ کو جگہ کیسی چاہیے؟ انہی باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے بچوں کو ان کا مطلوب ماحول فراہم کیجیے تاکہ جب وہ لکھنے بیٹھیں تو ان کا ذہن ہم آہنگ ہو اور انہیں لکھنے کی تحریک ملے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8509ee771ed.jpg"  alt="&mdash;تصویر شٹراسٹاک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—تصویر شٹراسٹاک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='5c865b531840a'>بچوں کی تحریر سنیے</h2>

<p>بچے جو کچھ لکھیں، انہیں غور سے سنیے اور ان سے ان کی تحریر سے متعلق سوالات بھی کیجیے۔ اس طرح بچے میں اعتماد بڑھے گا اور وہ تحریر میں مزید دلچسپی بھی لینے لگے گیں</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099168</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Mar 2019 17:57:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c863dec4605b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c863dec4605b.jpg"/>
        <media:title>اگر آپ کا بچہ یہ جملہ کہہ دے کہ اسے لکھنا پسند نہیں تو اس سے پوچھیے کہ کیوں؟
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
