<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:33:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:33:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمجھوتہ ایکسپریس دھماکا کیس فیصلہ محفوظ، 14مارچ کو سنایا جائے گا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099238/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہ بھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کر لیا گیا ہے، جسے 14 مارچ کو سنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;11سال کے بعد آج اس مقدمے کا فیصلہ پنچ کُلہ میں محفوظ کیا گیا جہاں 4 ملزمان کے خلاف زیرسماعت مقدمے میں متعدد گواہ اپنے بیان سے مکرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1042498"&gt;سمجھوتہ ایکسپریس تحقیقات میں تاخیر پر پاکستان کی تشویش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اب تک اس مقدمے میں کب، کیا اور کیسے ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c8653dbf05be'&gt;دھماکا کہاں ہوا؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 18 فروری 2007 میں ہریانہ کے پانی پت کے مقام پر دھماکا ہوا تھا جس میں 43 پاکستانی اور 10بھارتی شہریوں سمیت دھماکے میں مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 15افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، مرنے والوں میں 64 مسافر تھے جبکہ 4 کا تعلق ریلوے سے تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانیوں سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں ٹرین کی کئی کوچز جل گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اسے بھارت کی سالمیت، سیکیورٹی، خود مختاری اور اتحاد کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://indianexpress.com/article/explained/explained-samjhauta-express-blast-verdict-today-who-are-the-accused-what-did-the-nia-chargesheet-say-5620175/"&gt;بھارتی میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق ابتدائی طور پر ہریانہ پولیس نے مقدمے کی ایف آئی درج کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2010 میں اس حملے کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی منتقل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/53942"&gt;سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں ہندو تنظیم ملوث&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلی چارج شیٹ جون 2011 میں فائل کی گئی جس کے بعد اگست 2012 اور جون 2013 میں بالترتیب دو ضمنی چارج شیٹ دائر کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c8653dbf0644'&gt;ابتدائی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ رات 11 بج  کر 53منٹ پر پانی پت کے دیوانہ ریلوے اسٹیشن سے نکلنے والی ٹرین کی دو بوگیوں میں دھماکا خیز مواد اور آتش گیر مادے سے آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ 16کوچز پر مشتمل اٹاری ایکسپریس رات 10 بجکر 50منٹ پر دہلی سے اٹاری کے لیے روانہ ہوئی اور اس میں پانی پت اور دیوانہ کے درمیان دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1053667"&gt;سمجھوتہ ایکسپریس حملےکے ماسٹر مائنڈ کی بریت 'افسوسناک': دفترخارجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 16 میں سے 4 کوچز سیکنڈ کلاس لیبر کے لیے مختص تھیں جبکہ دھماکا ان دو کوچز میں ہوا جو مختص نہیں تھیں جہاں چار آئی ای ڈی نصب کیے گئے، اس کے نتیجے میں دو کوچز میں دھماکا ہوا جبکہ دو آئی ای ڈی کو بعد میں برآمد کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c8653dbf068c'&gt;مقدمے کے ملزمان کون تھے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دھماکے کا الزام 8 افراد پر عائد کیا گیا تھا جن میں سے صرف 4 نے مقدمات کا سامنا کیا، مقدمے میں مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند عرف نابا کمار سرکار تھا جسے 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیگر تین ملزمان کمال چوہان، راجیندر چوہدری اور لوکیش شرما سینٹرل جیل امبالا میں جوڈیشل حراست میں ہیں جبکہ تین ملزمان امیت چوہان، رام چندرا کال سنگرا اور سندیپ دانگے کو مقدمے میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ایک اور ملزم سنیل جوشی دسمبر 2007 میں مدھیا پردیش میں مار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اسیم آنند کو حیدرآباد دکن میں مکہ مسجد دھماکے اور اجمیر درگاہ دھماکے میں بری کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1053642/"&gt;اجمیر مزار حملہ: غیر معمولی طور پر ہندو انتہا پسند مجرم قرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا کہ اس سازش میں اصل معاونت اسیم آنند نے کی اور مقدمے کے دیگر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی معاونت بھی فراہم کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c8653dbf06d0'&gt;نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسیم آنند ہندوؤں کے مندروں جیسے اکشردھام مندر، رگھوناتھ مندر اور سنکت موچان پر دہشت گردوں کی جانب سے حملوں سے تنگ تھے اور اسی لیے انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پوری مسلمان برادری کے خلاف ’بم کا بدلہ بم‘ کی سوچ کی بنیاد پر ایک منصوبہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان نے مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور ان کے اجتماعات کے مقامات پر حملے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک بھر میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی اور اسی سلسلے میں سمجھوتہ ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا جسے پاکستان اور بھارت کے مسلمان سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوٹ کیس میں رکھا گیا بم دراصل کمال، لوکیش، راجیندر اور امیت کی جانب سے نصب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزم راجیندر چوہدری، سنیل جوشی، رام چندرا کال سنگرا ، لوکیش شرما، کمال چوہان، امیت اور  دیگر نے مدھیا پردیش کے علاقے دیواس کے جنگلات میں جنوری 2006 میں تربیت حاصل کی اور اس دوران بم بنانے کی تربیت لی اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپریل 2006 میں فرید آباد میں شوٹنگ کی تربیت حاصل کی اور ملزمان نے اپنے تئیں تفتیش کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کے لیے پرانے دہلی ریلوے اسٹیشن کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں پر کسی بھی قسم کی سیکیورٹی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c8653dbf0712'&gt;مقدمے میں کتنے گواہ تھے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;مقدمے میں تقریباً 299 گواہ تھے۔ ان گواہوں میں سے 13 کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن یہ 13 افراد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ 2013 میں متعدد گواہان اپنے بیان سے مکر گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098809"&gt;سمجھوتہ ایکسپریس 180 سے زائد مسافروں کو لے کر بھارت روانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال مقدمے کے خصوصی جج نے ٹرائل کی سست پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر ہفتے ایک دن بعد مقدمے کی سماعت ہونے کے باوجود پروسیکیوشن مقررہ تاریخوں پر صرف ایک یا دو گواہ پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقدمے کے آغاز سے اب تک 8 جج اس کی سماعت کر چکے ہیں اور اب آخر میں ریپ اور قتل کے مقدموں کی سماعت کے لیے مشہور سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ اگست 2018 سے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں لیکن ان کی تقرری سے قبل ہی اکثر گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہ بھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کر لیا گیا ہے، جسے 14 مارچ کو سنایا جائے گا۔</p>

<p>11سال کے بعد آج اس مقدمے کا فیصلہ پنچ کُلہ میں محفوظ کیا گیا جہاں 4 ملزمان کے خلاف زیرسماعت مقدمے میں متعدد گواہ اپنے بیان سے مکرچکے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1042498">سمجھوتہ ایکسپریس تحقیقات میں تاخیر پر پاکستان کی تشویش</a></strong></p>

<p>آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اب تک اس مقدمے میں کب، کیا اور کیسے ہوا۔</p>

<h3 id='5c8653dbf05be'>دھماکا کہاں ہوا؟</h3>

<p>لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 18 فروری 2007 میں ہریانہ کے پانی پت کے مقام پر دھماکا ہوا تھا جس میں 43 پاکستانی اور 10بھارتی شہریوں سمیت دھماکے میں مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 15افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، مرنے والوں میں 64 مسافر تھے جبکہ 4 کا تعلق ریلوے سے تھا۔</p>

<p>بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانیوں سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں ٹرین کی کئی کوچز جل گئی تھیں۔</p>

<p>بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اسے بھارت کی سالمیت، سیکیورٹی، خود مختاری اور اتحاد کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا تھا۔</p>

<p><a href="https://indianexpress.com/article/explained/explained-samjhauta-express-blast-verdict-today-who-are-the-accused-what-did-the-nia-chargesheet-say-5620175/">بھارتی میڈیا</a> کے مطابق ابتدائی طور پر ہریانہ پولیس نے مقدمے کی ایف آئی درج کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2010 میں اس حملے کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی منتقل کردیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/53942">سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں ہندو تنظیم ملوث</a></strong></p>

<p>پہلی چارج شیٹ جون 2011 میں فائل کی گئی جس کے بعد اگست 2012 اور جون 2013 میں بالترتیب دو ضمنی چارج شیٹ دائر کی گئیں۔</p>

<h3 id='5c8653dbf0644'>ابتدائی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟</h3>

<p>ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ رات 11 بج  کر 53منٹ پر پانی پت کے دیوانہ ریلوے اسٹیشن سے نکلنے والی ٹرین کی دو بوگیوں میں دھماکا خیز مواد اور آتش گیر مادے سے آگ لگ گئی۔</p>

<p>تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ 16کوچز پر مشتمل اٹاری ایکسپریس رات 10 بجکر 50منٹ پر دہلی سے اٹاری کے لیے روانہ ہوئی اور اس میں پانی پت اور دیوانہ کے درمیان دھماکا ہوا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1053667">سمجھوتہ ایکسپریس حملےکے ماسٹر مائنڈ کی بریت 'افسوسناک': دفترخارجہ</a></strong></p>

<p>رپورٹ کے مطابق 16 میں سے 4 کوچز سیکنڈ کلاس لیبر کے لیے مختص تھیں جبکہ دھماکا ان دو کوچز میں ہوا جو مختص نہیں تھیں جہاں چار آئی ای ڈی نصب کیے گئے، اس کے نتیجے میں دو کوچز میں دھماکا ہوا جبکہ دو آئی ای ڈی کو بعد میں برآمد کر لیا گیا۔</p>

<h3 id='5c8653dbf068c'>مقدمے کے ملزمان کون تھے؟</h3>

<p>دھماکے کا الزام 8 افراد پر عائد کیا گیا تھا جن میں سے صرف 4 نے مقدمات کا سامنا کیا، مقدمے میں مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند عرف نابا کمار سرکار تھا جسے 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔</p>

<p>دیگر تین ملزمان کمال چوہان، راجیندر چوہدری اور لوکیش شرما سینٹرل جیل امبالا میں جوڈیشل حراست میں ہیں جبکہ تین ملزمان امیت چوہان، رام چندرا کال سنگرا اور سندیپ دانگے کو مقدمے میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا۔</p>

<p>تاہم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ایک اور ملزم سنیل جوشی دسمبر 2007 میں مدھیا پردیش میں مار دیا گیا تھا۔</p>

<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اسیم آنند کو حیدرآباد دکن میں مکہ مسجد دھماکے اور اجمیر درگاہ دھماکے میں بری کیا جا چکا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1053642/">اجمیر مزار حملہ: غیر معمولی طور پر ہندو انتہا پسند مجرم قرار</a></strong></p>

<p>سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا کہ اس سازش میں اصل معاونت اسیم آنند نے کی اور مقدمے کے دیگر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی معاونت بھی فراہم کی۔</p>

<h3 id='5c8653dbf06d0'>نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟</h3>

<p>عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسیم آنند ہندوؤں کے مندروں جیسے اکشردھام مندر، رگھوناتھ مندر اور سنکت موچان پر دہشت گردوں کی جانب سے حملوں سے تنگ تھے اور اسی لیے انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پوری مسلمان برادری کے خلاف ’بم کا بدلہ بم‘ کی سوچ کی بنیاد پر ایک منصوبہ بنایا۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان نے مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور ان کے اجتماعات کے مقامات پر حملے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک بھر میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی اور اسی سلسلے میں سمجھوتہ ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا جسے پاکستان اور بھارت کے مسلمان سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔</p>

<p>سوٹ کیس میں رکھا گیا بم دراصل کمال، لوکیش، راجیندر اور امیت کی جانب سے نصب کیا گیا تھا۔</p>

<p>ملزم راجیندر چوہدری، سنیل جوشی، رام چندرا کال سنگرا ، لوکیش شرما، کمال چوہان، امیت اور  دیگر نے مدھیا پردیش کے علاقے دیواس کے جنگلات میں جنوری 2006 میں تربیت حاصل کی اور اس دوران بم بنانے کی تربیت لی اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔</p>

<p>انہوں نے اپریل 2006 میں فرید آباد میں شوٹنگ کی تربیت حاصل کی اور ملزمان نے اپنے تئیں تفتیش کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کے لیے پرانے دہلی ریلوے اسٹیشن کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں پر کسی بھی قسم کی سیکیورٹی نہیں تھی۔</p>

<h3 id='5c8653dbf0712'>مقدمے میں کتنے گواہ تھے؟</h3>

<p>مقدمے میں تقریباً 299 گواہ تھے۔ ان گواہوں میں سے 13 کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن یہ 13 افراد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ 2013 میں متعدد گواہان اپنے بیان سے مکر گئے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098809">سمجھوتہ ایکسپریس 180 سے زائد مسافروں کو لے کر بھارت روانہ</a></strong></p>

<p>گزشتہ سال مقدمے کے خصوصی جج نے ٹرائل کی سست پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر ہفتے ایک دن بعد مقدمے کی سماعت ہونے کے باوجود پروسیکیوشن مقررہ تاریخوں پر صرف ایک یا دو گواہ پیش کرتا ہے۔</p>

<p>مقدمے کے آغاز سے اب تک 8 جج اس کی سماعت کر چکے ہیں اور اب آخر میں ریپ اور قتل کے مقدموں کی سماعت کے لیے مشہور سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ اگست 2018 سے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں لیکن ان کی تقرری سے قبل ہی اکثر گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099238</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Mar 2019 17:26:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c86420f05a6c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c86420f05a6c.jpg"/>
        <media:title>سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں 43 پاکستانیوں سمیت 68افراد ہلاک ہوئے تھے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
