<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:03:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:03:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 6 سلیب متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099282/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: حکومت نے موبائل فون کی درآمدی مالیت پر 6 مختلف سلیبس میں 'فلیٹ ریٹس' پر ریگولیٹری ڈیوٹی متعارف کروادی، جس کا مقصد زیادہ قیمت کے موبائل فونز کے مقابلے میں عام فون پر کم ٹیکس عائد کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1469118/regulatory-duty-on-mobile-phone-import-restructured"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 30 ڈالر تک کے موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی پہلے کے 250 روپے کے مقابلے میں کم کرکے اب 180 روپے فی سیٹ چارج کی جائے گی جبکہ 500 ڈالر سے زائد کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 5 سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس سے قبل 60 ڈالر تک کی مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 250 روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی جبکہ 60 سے 130 ڈالر کے درمیان کی قیمت کے موبائل کے لیے 10 فیصد اور 130 ڈالر سے زائد پر 20 فیصد درآمدی قیمت ادا کرنا ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090173"&gt;غیر رجسٹرڈ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فنانس سپلیمنٹری (ترمیمی) بل 2018 کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی کے اسٹرکچر میں تبدیلی سے درآمدی مرحلے میں موبائل فون کی منصفانہ تقسیم کی سہولت کے ذریعے زیادہ آمدنی جمع کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسافروں کے سامان کے ذریعے ڈیوٹی فری درآمدات اور مارکیٹ میں کھلے عام فروخت کی رپورٹس کے تناظر میں موبائل فون کی درآمد پر سخت حکمت عملی اپنائی گئی ہے، موبائل فون کی اسمگلنگ سمیت اس تمام صورتحال کو دیکھنے کے لیے حکومت نے رجسٹریشن کے لیے ڈیوٹی کی ادائیگیوں کا علیحدہ نظام متعارف کروایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ مئی 2018 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی اے ٹی) نے ملک میں غیر معیاری اور استعمال شدہ موبائل فونز کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے (2019  کے ایس آر او 327) کے نوٹیفکیشن کے ذریعے موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے لیے 6 سلیب متعارف کروائے گئے ہیں، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے سلیب کے مطابق 30 سے 100 ڈالر مالیت کے درآمدی موبائل فون پر ایک ہزار 8 سو روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی لی جائے گی، اسی طرح 100 سے 200 ڈالر کے درمیان کے سیٹس کی درآمد پر 2 ہزار 7 سو روپے، 200 ڈالر سے زائد لیکن 350 ڈالر سے کم کے موبائل فون پر 3 ہزار 6 سو روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اگر درآمد کیے گئے موبائل فون کی قیمت 350 سے 500 ڈالر کے درمیان ہے تو 10 ہزار 500 روپے کے فلیٹ ریٹ چارج ہوں گے جبکہ 500 ڈالر سے زائد کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 500 روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی دینا پڑے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096487"&gt;موبائل فون ڈیوائسز کے لیے ڈیوٹی کا نیا طریقہ کار جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام سمجھتے ہیں کہ ہر سلیب کے لیے فلیٹ شرح موبائل فون کی قیمتوں سے قطع نظر ان کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے غیر واضح نفاذ کے خاتمے کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 18-2017 میں پاکستان کی موبائل فون کی قانونی درآمدی مالیت 84 کروڑ 76 لاکھ 56 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس سے قبل جب چین کے ساتھ مفت تجارتی معاہدے کے تحت کوئی ڈیوٹی نہیں تھی یا دیگر ممالک کے لیے بہت معمولی ڈیوٹی لاگو ہوتی تھی تو اسی درآمدات نے ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکومت کی جانب سے حال ہی میں ڈیوٹی اسٹرکچر پر نظرثانی کی گئی اور موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی گئی، جس کے وجہ قانونی درآمدات میں کمی اور ان کی اسمگلنگ میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: حکومت نے موبائل فون کی درآمدی مالیت پر 6 مختلف سلیبس میں 'فلیٹ ریٹس' پر ریگولیٹری ڈیوٹی متعارف کروادی، جس کا مقصد زیادہ قیمت کے موبائل فونز کے مقابلے میں عام فون پر کم ٹیکس عائد کرنا ہے۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1469118/regulatory-duty-on-mobile-phone-import-restructured"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 30 ڈالر تک کے موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی پہلے کے 250 روپے کے مقابلے میں کم کرکے اب 180 روپے فی سیٹ چارج کی جائے گی جبکہ 500 ڈالر سے زائد کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 5 سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس سے قبل 60 ڈالر تک کی مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 250 روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی جبکہ 60 سے 130 ڈالر کے درمیان کی قیمت کے موبائل کے لیے 10 فیصد اور 130 ڈالر سے زائد پر 20 فیصد درآمدی قیمت ادا کرنا ہوتی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090173">غیر رجسٹرڈ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>فنانس سپلیمنٹری (ترمیمی) بل 2018 کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی کے اسٹرکچر میں تبدیلی سے درآمدی مرحلے میں موبائل فون کی منصفانہ تقسیم کی سہولت کے ذریعے زیادہ آمدنی جمع کرنے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>مسافروں کے سامان کے ذریعے ڈیوٹی فری درآمدات اور مارکیٹ میں کھلے عام فروخت کی رپورٹس کے تناظر میں موبائل فون کی درآمد پر سخت حکمت عملی اپنائی گئی ہے، موبائل فون کی اسمگلنگ سمیت اس تمام صورتحال کو دیکھنے کے لیے حکومت نے رجسٹریشن کے لیے ڈیوٹی کی ادائیگیوں کا علیحدہ نظام متعارف کروایا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ مئی 2018 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی اے ٹی) نے ملک میں غیر معیاری اور استعمال شدہ موبائل فونز کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کا آغاز کیا تھا۔</p>

<p>حکومت کی جانب سے (2019  کے ایس آر او 327) کے نوٹیفکیشن کے ذریعے موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے لیے 6 سلیب متعارف کروائے گئے ہیں، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔</p>

<p>نئے سلیب کے مطابق 30 سے 100 ڈالر مالیت کے درآمدی موبائل فون پر ایک ہزار 8 سو روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی لی جائے گی، اسی طرح 100 سے 200 ڈالر کے درمیان کے سیٹس کی درآمد پر 2 ہزار 7 سو روپے، 200 ڈالر سے زائد لیکن 350 ڈالر سے کم کے موبائل فون پر 3 ہزار 6 سو روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔</p>

<p>اس کے علاوہ اگر درآمد کیے گئے موبائل فون کی قیمت 350 سے 500 ڈالر کے درمیان ہے تو 10 ہزار 500 روپے کے فلیٹ ریٹ چارج ہوں گے جبکہ 500 ڈالر سے زائد کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 500 روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی دینا پڑے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096487">موبائل فون ڈیوائسز کے لیے ڈیوٹی کا نیا طریقہ کار جاری</a></strong></p>

<p>حکام سمجھتے ہیں کہ ہر سلیب کے لیے فلیٹ شرح موبائل فون کی قیمتوں سے قطع نظر ان کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے غیر واضح نفاذ کے خاتمے کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>یاد رہے کہ 18-2017 میں پاکستان کی موبائل فون کی قانونی درآمدی مالیت 84 کروڑ 76 لاکھ 56 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس سے قبل جب چین کے ساتھ مفت تجارتی معاہدے کے تحت کوئی ڈیوٹی نہیں تھی یا دیگر ممالک کے لیے بہت معمولی ڈیوٹی لاگو ہوتی تھی تو اسی درآمدات نے ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرلیا تھا۔</p>

<p>تاہم حکومت کی جانب سے حال ہی میں ڈیوٹی اسٹرکچر پر نظرثانی کی گئی اور موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی گئی، جس کے وجہ قانونی درآمدات میں کمی اور ان کی اسمگلنگ میں اضافہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099282</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Mar 2019 14:32:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c873d913d907.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c873d913d907.jpg"/>
        <media:title>اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے الگ نظام متعارف کروایا گیا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
