<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:12:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:12:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوزی لینڈ: مساجد میں دہشتگردی، حملہ آور کی سفاکیت کا مکمل احوال
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099532/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیوزی لینڈ میں نمازِ جمعہ کے وقت ہونے والے حملے میں کم از 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملہ آور نے جس کا تعلق آسٹریلیا سے بتایا جارہا ہے، فائرنگ کے لیے جاتے ہوئے کیمرے کی مدد سے پوری کارروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں سماجی رابطے کے دو سب سے بڑے پلیٹ فارم ٹوئٹر اور فیس بک دونوں حرکت میں آئے اور مذکورہ ویڈیوز کو نہ صرف شیئر کرنے سے منع کیا بلکہ پوسٹ شدہ ویڈیوز کو سیکنڈوں میں ہٹایا جانے لگا، حتیٰ کے پرائیویٹ میسج میں بھیجی جانے والی ویڈیو بھی ڈیلیٹ کردی گئی جس سے فیس بک کی صارفین کی پرائیویسی میں عمل دخل کا اندازاہ لگایا جاسکتا ہے.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو تو ڈیلیٹ ہوگئی لیکن آیے ہم آپ کو ویڈیو کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099506/"&gt;نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملہ آور نے ویڈیو کا آغاز ڈرائیونگ کرتے ہوئے کیا، اس نے مسجد کے بالکل برابر والی گلی میں گاڑی کو پارک کیا، حملہ آور نے سیاہ یونیفارم نما لباس اور زیتونی ہرے رنگ کے دستانے پہنے ہوئے تھے جبکہ گاڑی میں برطانوی فوج کے مارچ پاسٹ کی روایتی دھن ’دی برٹش گرینیڈیئرز‘ بج رہی تھی جو 17 ویں صدی کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گاڑی رکتے ہی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر 3 رائفلز موجود تھیں، جس کے بعد حملہ آور بھاری آٹومیٹک شاٹ گن لے کر گاڑی سے اترا جس کی فلیش لائٹ مسلسل جل رہی تھی اور اس کی سیٹ کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b87f61d728.jpg"  alt="گاڑی میں مجود جدید اسلحہ جس پر مخلتف الفاظ درج ہیں" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گاڑی میں مجود جدید اسلحہ جس پر مخلتف الفاظ درج ہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد اس نے گاڑی کی ڈگی کھولی جس کا نمبر ’کے ایس ایچ 90 تھا،  اور یہ جاپانی ساختہ گاڑی سوبارو کا 2005 کا ماڈل تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈگی میں 2 سرخ کین کچھ وردی نما کپڑے، جن پر پراؤڈلی کیوی ایز‘ لکھا ہوا اور نیوزی لینڈ کا قومی نشان کیوی کا پر بنا ہوا تھا، جب کے ان اشیا کے ساتھ جدید ترین ایس ایم جی، اور شاٹ گن موجود تھی، جس میں سے اس نے شاٹ گن اٹھائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملہ آور کی منصوبہ بندی اور جنونیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام ہتھیاروں پر اس نے سفید رنگ سے مختلف علامتیں اور نعرے لکھے ہوئے تھے، جبکہ ایک گن پر آئی سی ایس آئی کے الفاظ اور 14 نمبر نمایاں تھا، جس کے بعد وہ دونوں مشین گن  لے کر نہایت اطمینان سے مسجد کی جانب بڑھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099521/' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b871457d64.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راستے میں 2 افراد اس کے سامنے آئے جس میں ایک مسجد کے باہر فٹ پاتھ پر دوسرا مسجد کے اندر گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا لیکن اس نے انہیں نظر انداز کردیا کیوں کہ اسے شاید مسجد کے اندر سے حملے کا آغاز کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسجد کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر اس نے اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کردیں، 8 فائر کے نتیجے میں مسجد کے مرکزی دروازے پر موجود شخص موقع پر ہی جاں بحق جبکہ اندر موجود شخص زخمی ہوگیا، جس نے دائیں ہاتھ پر موجود ہال میں داخل ہونے کی کوشش کر کے جان بچانے کی کوشش کی لیکن مسلسل فائرنگ کرتے ہوئے حملہ آور نے دروازے پر ہی اس زخمی شخص کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دائیں ہاتھ کے ہال میں موجود شخص جو غالباً فائرنگ کی آواز سن کر مدد کے لیے آگے بڑھا تھا لیکن حملہ آور کو دیکھ کر الٹے قدموں دوسرے دروازے کی طرف بھاگا جس پر بھی اس نے فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فائرنگ کی آواز سن کر سیدھی راہداری کے دوسرے سرے پر موجود مرکزی ہال میں تمام افراد جان بچانے کے لیے کمرے کے 2 کونوں میں سمٹ کر زمین پر لیٹ گئے لیکن سفاک قاتل نے ان کا پیچھا وہاں بھی نہیں چھوڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملہ آور نے دوسری گن راہداری میں پھینکی اور مرکزی ہال کی جانب بڑھا اور سامنے موجود شخص پر فائرنگ کی جو موقع پر گر گیا اور اس پر مزید فائرنگ کر کے یقینی بنایا کہ وہ بچ نہ سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b87f61eec2.jpg"  alt="حملہ آور مرکزی دروازے سے فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;حملہ آور مرکزی دروازے سے فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد وہ دائیں جانب سمٹے ہوئے لوگوں کی طرف مڑا اور اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے بعد وہ پیچھے ہو کر راہداری کی طرف مڑا تو بائیں جانب سے ایک شخص نے راہداری میں بھاگ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی، حملہ آور نے اس پر بھی متعدد گولیاں برسائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راہداری میں واپس آکر اس نے گن کا میگزین تبدیل کیا اور دوبارہ مرکزی ہال میں داخل ہوا اور اب بائیں جانب سمٹے ہوئے لوگوں پر گولیاں برسادیں جس کے بعد وہ دوبارہ دائیں کونے میں موجود لوگوں کی جانب مڑا اور دونوں طرف دوبارہ فائرنگ کہ کوئی بچ نہ سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوبارہ راہداری میں آکر ایک مرتبہ پھر میگزین لوڈ کیا اور انتہائی سفاکیت سے مسلسل دونوں کونوں میں موجود لوگ جو اب لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے تھے، پر مسلسل گولیاں برساتا رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بار پھر میگزین نکال کر دوبارہ لگایا اور اسی دوران ہال سے بھاگتے ہوئے ایک شخص کو مرکزی دروازے کی طرف بھاگتا ہوا دیکھا تو اس پر بھی فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099520/"&gt;مساجد پر حملہ: پاکستان سمیت متعدد ممالک کا اظہارِ مذمت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد حملہ آور بائیں کونے میں موجود افراد کے کچھ قریب گیا ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی راہداری میں آیا ایک پھر میگزین لوڈ کیا اور مسجد سے باہر نکلا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حملہ آور مرکزی گزرگاہ سے ہوتا ہوا باہر آیا فٹ پاتھ پر دائیں اور بائیں دونوں جانب گولیاں برسائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد وہ دوبارہ گاڑی کے پاس آیا اور ڈگی کھول کر اپنی گن اتاری اور دوسری گن نکالی جب کہ سرخ کین بھی اٹھاتا ہوا نظر آیا جسے اس نے واپس رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی گن کے ساتھ وہ دوبارہ مسجد کی طرف آیا اور مسجد کے ساتھ دوسری طرف موجود گلی میں بھی گولیاں برسائیں اور ایک مرتبہ پھر دوسرے دروازے سے مسجد کے احاطے میں داخل ہوا اور مرکزی دروازے سے ہوتا ہوا سیدھا مرکزی ہال میں پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہاں دائیں طرف کے ڈھیر میں موجود ایک شخص حملہ آور کے چلے جانے کا سمجھ کر اٹھ بیٹھا جسے دیکھتے ہیں اس نے ایک مرتبہ پھر گولیاں برسائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک خاتون جو فائرنگ سے بائیں جانب بچ کر دیوار کی آڑ میں کونے میں سمٹ گئی تھیں، قریب آکر حملہ آور نے ان پر بھی فائرنگ کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتاردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد وہ دونوں ہالوں کا جائزہ لے کر اور تمام افراد کی موت کا یقین ہوجانے کے بعد مرکزی دروازے سے باہر آیا جہاں 2 افراد فرار ہوتے نظر آئے تو اس نے ان پر فائرنگ کی جس سے خاتون باہر فٹ پاتھ پر زخمی ہو کر گر گئیں اور مدد کے لیے پکار نے لگیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن حملہ آور تیزی سے فائرنگ کرتے ہوئے ان کے قریب آیا اور بالکل سرہانے کھڑے ہو کر انہیں بھی موت کی نیند سلا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تمام کارروائی تقریباً 6 منٹ میں مکمل کرنے کے بعد وہ اطمینان سے اپنی کار کی ڈگی بند کر کے ایک مرتبہ پھر گاڑی میں بیٹھ گیا جس میں اب بھی وہی موسیقی بج رہی تھی جبکہ لائیو اسٹریمنگ میں بھی جاری تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آگے جا کر سڑک پر اسے ایک شخص نظر آیا تو گاری روک کر اندر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے اس پر فائر کیے اور گاڑی آگے بڑھا کر مزید فائر بھی کیے اور اطمینان سے سڑک پر گاڑی دوڑاتا رہا اور لائیو اسٹریمنگ پر گفتگو بھی کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیوزی لینڈ میں نمازِ جمعہ کے وقت ہونے والے حملے میں کم از 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔</p>

<p>حملہ آور نے جس کا تعلق آسٹریلیا سے بتایا جارہا ہے، فائرنگ کے لیے جاتے ہوئے کیمرے کی مدد سے پوری کارروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔</p>

<p>بعد ازاں سماجی رابطے کے دو سب سے بڑے پلیٹ فارم ٹوئٹر اور فیس بک دونوں حرکت میں آئے اور مذکورہ ویڈیوز کو نہ صرف شیئر کرنے سے منع کیا بلکہ پوسٹ شدہ ویڈیوز کو سیکنڈوں میں ہٹایا جانے لگا، حتیٰ کے پرائیویٹ میسج میں بھیجی جانے والی ویڈیو بھی ڈیلیٹ کردی گئی جس سے فیس بک کی صارفین کی پرائیویسی میں عمل دخل کا اندازاہ لگایا جاسکتا ہے.</p>

<p>ویڈیو تو ڈیلیٹ ہوگئی لیکن آیے ہم آپ کو ویڈیو کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099506/">نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق</a></strong> </p>

<p>حملہ آور نے ویڈیو کا آغاز ڈرائیونگ کرتے ہوئے کیا، اس نے مسجد کے بالکل برابر والی گلی میں گاڑی کو پارک کیا، حملہ آور نے سیاہ یونیفارم نما لباس اور زیتونی ہرے رنگ کے دستانے پہنے ہوئے تھے جبکہ گاڑی میں برطانوی فوج کے مارچ پاسٹ کی روایتی دھن ’دی برٹش گرینیڈیئرز‘ بج رہی تھی جو 17 ویں صدی کی ہے۔</p>

<p>گاڑی رکتے ہی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر 3 رائفلز موجود تھیں، جس کے بعد حملہ آور بھاری آٹومیٹک شاٹ گن لے کر گاڑی سے اترا جس کی فلیش لائٹ مسلسل جل رہی تھی اور اس کی سیٹ کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b87f61d728.jpg"  alt="گاڑی میں مجود جدید اسلحہ جس پر مخلتف الفاظ درج ہیں" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گاڑی میں مجود جدید اسلحہ جس پر مخلتف الفاظ درج ہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جس کے بعد اس نے گاڑی کی ڈگی کھولی جس کا نمبر ’کے ایس ایچ 90 تھا،  اور یہ جاپانی ساختہ گاڑی سوبارو کا 2005 کا ماڈل تھا۔</p>

<p>ڈگی میں 2 سرخ کین کچھ وردی نما کپڑے، جن پر پراؤڈلی کیوی ایز‘ لکھا ہوا اور نیوزی لینڈ کا قومی نشان کیوی کا پر بنا ہوا تھا، جب کے ان اشیا کے ساتھ جدید ترین ایس ایم جی، اور شاٹ گن موجود تھی، جس میں سے اس نے شاٹ گن اٹھائی۔</p>

<p>حملہ آور کی منصوبہ بندی اور جنونیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام ہتھیاروں پر اس نے سفید رنگ سے مختلف علامتیں اور نعرے لکھے ہوئے تھے، جبکہ ایک گن پر آئی سی ایس آئی کے الفاظ اور 14 نمبر نمایاں تھا، جس کے بعد وہ دونوں مشین گن  لے کر نہایت اطمینان سے مسجد کی جانب بڑھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099521/' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b871457d64.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>راستے میں 2 افراد اس کے سامنے آئے جس میں ایک مسجد کے باہر فٹ پاتھ پر دوسرا مسجد کے اندر گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا لیکن اس نے انہیں نظر انداز کردیا کیوں کہ اسے شاید مسجد کے اندر سے حملے کا آغاز کرنا تھا۔</p>

<p>مسجد کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر اس نے اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کردیں، 8 فائر کے نتیجے میں مسجد کے مرکزی دروازے پر موجود شخص موقع پر ہی جاں بحق جبکہ اندر موجود شخص زخمی ہوگیا، جس نے دائیں ہاتھ پر موجود ہال میں داخل ہونے کی کوشش کر کے جان بچانے کی کوشش کی لیکن مسلسل فائرنگ کرتے ہوئے حملہ آور نے دروازے پر ہی اس زخمی شخص کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔</p>

<p>دائیں ہاتھ کے ہال میں موجود شخص جو غالباً فائرنگ کی آواز سن کر مدد کے لیے آگے بڑھا تھا لیکن حملہ آور کو دیکھ کر الٹے قدموں دوسرے دروازے کی طرف بھاگا جس پر بھی اس نے فائرنگ کی۔</p>

<p>فائرنگ کی آواز سن کر سیدھی راہداری کے دوسرے سرے پر موجود مرکزی ہال میں تمام افراد جان بچانے کے لیے کمرے کے 2 کونوں میں سمٹ کر زمین پر لیٹ گئے لیکن سفاک قاتل نے ان کا پیچھا وہاں بھی نہیں چھوڑا۔</p>

<p>حملہ آور نے دوسری گن راہداری میں پھینکی اور مرکزی ہال کی جانب بڑھا اور سامنے موجود شخص پر فائرنگ کی جو موقع پر گر گیا اور اس پر مزید فائرنگ کر کے یقینی بنایا کہ وہ بچ نہ سکے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8b87f61eec2.jpg"  alt="حملہ آور مرکزی دروازے سے فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">حملہ آور مرکزی دروازے سے فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جس کے بعد وہ دائیں جانب سمٹے ہوئے لوگوں کی طرف مڑا اور اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے بعد وہ پیچھے ہو کر راہداری کی طرف مڑا تو بائیں جانب سے ایک شخص نے راہداری میں بھاگ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی، حملہ آور نے اس پر بھی متعدد گولیاں برسائیں۔</p>

<p>راہداری میں واپس آکر اس نے گن کا میگزین تبدیل کیا اور دوبارہ مرکزی ہال میں داخل ہوا اور اب بائیں جانب سمٹے ہوئے لوگوں پر گولیاں برسادیں جس کے بعد وہ دوبارہ دائیں کونے میں موجود لوگوں کی جانب مڑا اور دونوں طرف دوبارہ فائرنگ کہ کوئی بچ نہ سکے۔</p>

<p>دوبارہ راہداری میں آکر ایک مرتبہ پھر میگزین لوڈ کیا اور انتہائی سفاکیت سے مسلسل دونوں کونوں میں موجود لوگ جو اب لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے تھے، پر مسلسل گولیاں برساتا رہا۔</p>

<p>ایک بار پھر میگزین نکال کر دوبارہ لگایا اور اسی دوران ہال سے بھاگتے ہوئے ایک شخص کو مرکزی دروازے کی طرف بھاگتا ہوا دیکھا تو اس پر بھی فائرنگ کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099520/">مساجد پر حملہ: پاکستان سمیت متعدد ممالک کا اظہارِ مذمت</a></strong></p>

<p>جس کے بعد حملہ آور بائیں کونے میں موجود افراد کے کچھ قریب گیا ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی راہداری میں آیا ایک پھر میگزین لوڈ کیا اور مسجد سے باہر نکلا۔</p>

<p>حملہ آور مرکزی گزرگاہ سے ہوتا ہوا باہر آیا فٹ پاتھ پر دائیں اور بائیں دونوں جانب گولیاں برسائیں۔</p>

<p>اس کے بعد وہ دوبارہ گاڑی کے پاس آیا اور ڈگی کھول کر اپنی گن اتاری اور دوسری گن نکالی جب کہ سرخ کین بھی اٹھاتا ہوا نظر آیا جسے اس نے واپس رکھ دیا۔</p>

<p>نئی گن کے ساتھ وہ دوبارہ مسجد کی طرف آیا اور مسجد کے ساتھ دوسری طرف موجود گلی میں بھی گولیاں برسائیں اور ایک مرتبہ پھر دوسرے دروازے سے مسجد کے احاطے میں داخل ہوا اور مرکزی دروازے سے ہوتا ہوا سیدھا مرکزی ہال میں پہنچ گیا۔</p>

<p>جہاں دائیں طرف کے ڈھیر میں موجود ایک شخص حملہ آور کے چلے جانے کا سمجھ کر اٹھ بیٹھا جسے دیکھتے ہیں اس نے ایک مرتبہ پھر گولیاں برسائیں۔</p>

<p>ایک خاتون جو فائرنگ سے بائیں جانب بچ کر دیوار کی آڑ میں کونے میں سمٹ گئی تھیں، قریب آکر حملہ آور نے ان پر بھی فائرنگ کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتاردیا۔</p>

<p>جس کے بعد وہ دونوں ہالوں کا جائزہ لے کر اور تمام افراد کی موت کا یقین ہوجانے کے بعد مرکزی دروازے سے باہر آیا جہاں 2 افراد فرار ہوتے نظر آئے تو اس نے ان پر فائرنگ کی جس سے خاتون باہر فٹ پاتھ پر زخمی ہو کر گر گئیں اور مدد کے لیے پکار نے لگیں۔</p>

<p>لیکن حملہ آور تیزی سے فائرنگ کرتے ہوئے ان کے قریب آیا اور بالکل سرہانے کھڑے ہو کر انہیں بھی موت کی نیند سلا دیا۔</p>

<p>یہ تمام کارروائی تقریباً 6 منٹ میں مکمل کرنے کے بعد وہ اطمینان سے اپنی کار کی ڈگی بند کر کے ایک مرتبہ پھر گاڑی میں بیٹھ گیا جس میں اب بھی وہی موسیقی بج رہی تھی جبکہ لائیو اسٹریمنگ میں بھی جاری تھی۔</p>

<p>آگے جا کر سڑک پر اسے ایک شخص نظر آیا تو گاری روک کر اندر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے اس پر فائر کیے اور گاڑی آگے بڑھا کر مزید فائر بھی کیے اور اطمینان سے سڑک پر گاڑی دوڑاتا رہا اور لائیو اسٹریمنگ پر گفتگو بھی کرتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099532</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Mar 2019 14:49:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c8b87f601ab2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c8b87f601ab2.jpg"/>
        <media:title>حملہ آور نے پوری کارروائی کے بعد بھی لائیو اسٹریمنگ جاری رکھی—فوٹو اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
