<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:18:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:18:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب: پولیس افسران کو 120 سال پرانے اختیارات واپس مل گئے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099578/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور: پنجاب میں اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو برطانوی دورِ کے ایک صدی پرانے قانون کے تحت قابلِ ضمانت اور ناقابلِ ضمانت جرائم میں ملزمان کو ضمانت دینے کے عدالتی اختیارات واپس مل گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے پنجاب پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) امجد سلیم نے محکمہ پولیس کے تمام افسران کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس اسٹیشنز کے انچارج کو مذکورہ اختیارات، سال 1898 کے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آرپی سی) کی شق 169،496 اور 497 کے تحت تفویض کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084514"&gt;’نظام انصاف کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ اقدام پولیس اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد اٹھایا گیا جس میں استغاثہ اور عدلیہ کے حوالے کو 6 پولیس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان آصف سعید کھوسہ، جو کمیشن برائے قانون و انصاف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، نے جرائم سے متعلق نظامِ انصاف میں اصلاحات کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1079493' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8c79ed9defc.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سی پی آر سی کے تحت پولیس اسٹیشن کا انچارج کسی مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم کو رہا اور ٹھوس وجوہات پر اس کی گرفتاری ملتوی بھی کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی جی پنجاب کے ارسال کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا کہ ’اس قانون کے تحت اگر کسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران پولیس اسٹیشن کے سربراہ کو یہ محسوس ہو کہ ملزم کا جرم ثابت کرنے کے شواہد ناکافی ہیں جس پر اسے میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا تو افسر حراست میں موجود اس شخص کو ضمانت کے ساتھ اور بغیر ضمانت کے رہا کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب یہ معاملہ میجسٹریٹ کی سامنے آئے گا تو ضرورت پڑنے پر افسر کو پولیس رپورٹ کے ساتھ پیش ہونا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پولیس اصلاحات کے چیئرمین نے سپریم کورٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ضمانت کے لیے عدالتوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی غور کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084514"&gt;پولیس کا نظام درست نہ ہو تو نظام انصاف پر اثر پڑتا ہے، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کمزور مقدمات کی وجہ سے معصوم شہریوں کو ضمانت کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا  ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ اجلاس میں پولیس کی جانب غیر ضروری گرفتاریوں پر بھی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تمام معاملات پر تفصیلی غور کے بعد عدالتوں سے اضافی بوجھ کم کرنے اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پولیس سربراہان کو سی آر پی سی کی مذکورہ دفعات کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 16 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور: پنجاب میں اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو برطانوی دورِ کے ایک صدی پرانے قانون کے تحت قابلِ ضمانت اور ناقابلِ ضمانت جرائم میں ملزمان کو ضمانت دینے کے عدالتی اختیارات واپس مل گئے۔</strong></p>

<p>اس حوالے سے پنجاب پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) امجد سلیم نے محکمہ پولیس کے تمام افسران کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔</p>

<p>پولیس اسٹیشنز کے انچارج کو مذکورہ اختیارات، سال 1898 کے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آرپی سی) کی شق 169،496 اور 497 کے تحت تفویض کیے گئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084514">’نظام انصاف کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ یہ اقدام پولیس اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد اٹھایا گیا جس میں استغاثہ اور عدلیہ کے حوالے کو 6 پولیس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>کمیٹی اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان آصف سعید کھوسہ، جو کمیشن برائے قانون و انصاف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، نے جرائم سے متعلق نظامِ انصاف میں اصلاحات کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1079493' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c8c79ed9defc.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ سی پی آر سی کے تحت پولیس اسٹیشن کا انچارج کسی مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم کو رہا اور ٹھوس وجوہات پر اس کی گرفتاری ملتوی بھی کرسکتا ہے۔</p>

<p>آئی جی پنجاب کے ارسال کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا کہ ’اس قانون کے تحت اگر کسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران پولیس اسٹیشن کے سربراہ کو یہ محسوس ہو کہ ملزم کا جرم ثابت کرنے کے شواہد ناکافی ہیں جس پر اسے میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا تو افسر حراست میں موجود اس شخص کو ضمانت کے ساتھ اور بغیر ضمانت کے رہا کرسکتا ہے۔</p>

<p>جب یہ معاملہ میجسٹریٹ کی سامنے آئے گا تو ضرورت پڑنے پر افسر کو پولیس رپورٹ کے ساتھ پیش ہونا پڑسکتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پولیس اصلاحات کے چیئرمین نے سپریم کورٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ضمانت کے لیے عدالتوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی غور کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084514">پولیس کا نظام درست نہ ہو تو نظام انصاف پر اثر پڑتا ہے، چیف جسٹس</a></strong> </p>

<p>جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کمزور مقدمات کی وجہ سے معصوم شہریوں کو ضمانت کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا  ہے۔</p>

<p>اس کے ساتھ اجلاس میں پولیس کی جانب غیر ضروری گرفتاریوں پر بھی غور کیا گیا۔</p>

<p>ان تمام معاملات پر تفصیلی غور کے بعد عدالتوں سے اضافی بوجھ کم کرنے اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پولیس سربراہان کو سی آر پی سی کی مذکورہ دفعات کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 16 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099578</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Mar 2019 10:15:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c8c7a888db9a.jpg?r=640291479" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c8c7a888db9a.jpg?r=635020396"/>
        <media:title>آئی جی پنجاب نے نیا حکم نامہ تمام افسران کو ارسال کردیا — فوٹو بشکریہ فیس بک پنجاب پولیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
