<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:54:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:54:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کا نیوزی لینڈ واقعے کی 15 لاکھ ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099668/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دہشتگردی کے واقعے کے 24 گھنٹے کے بعد اس نے حملہ آور کی لائیو اسٹریم ویڈیو کی 15 لاکھ نقول کو اپنی سائٹ سے ڈیلیٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099540' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c8e83006403e.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر دہشت گردی کے اس واقعے میں 50 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر پر پر بتایا گیا کہ اس نے اپ لوڈ کے دوران 12 لاکھ ویڈیوز کو بلاک کیا گیا جبکہ دہشتگرد کی ستائش یا حمایت پر مبنی لاکھوں ویڈیوز کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے کمپنی نے آٹومیٹڈ ٹیکنالوجیز اور انسانی ماڈریٹرز کی مدد لی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے یہ نہیں بتایا کہ آخر وہ 3 لاکھ ویڈیوز کو اپ لوڈ کرنے کے موقع پر پکڑنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکی، اس طرح ناکامی کی شرح 20 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک کی ترجمان میا گارلیک نے بتایا کہ کمپنی اس ویڈیو کے ایسے ایڈٹ ورژن بھی ڈیلیٹ کررہی ہے جس میں تشدد کو نہیں دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرائسٹ چرچ میں دہشتگرد حملے کے بعد سے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب نے اس کی ویڈیوز ہٹانے کا کام شروع کردیا تھا مگر یہ کمپنیاں گھنٹوں تک اسے پھیلنے میں روکنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/fbnewsroom/status/1107117981358682112"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان ویڈیوز کو کتنی بار دیکھا گیا، شیئر کتنے ہوئے یا ری ایکشن کی شرح کیا رہی، یعنی یہ کس حد تک پھیلنے میں کامیاب ہوئیں یہ واضح نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حملے کے بعد متعدد عالمی رہنماﺅں نے فیس بک پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کے مواد کی روک تھام کے لیے اپنے کردار کو مزید بہتر بنائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ لائیو اسٹریمنگ کے بارے میں کمپنی سے بات کرنا چاہتی ہیں اور کمپنی کو اس طرح کے واقعات پر اپنے ردعمل کے بارے میں سوالات کا جواب دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دہشتگردی کے واقعے کے 24 گھنٹے کے بعد اس نے حملہ آور کی لائیو اسٹریم ویڈیو کی 15 لاکھ نقول کو اپنی سائٹ سے ڈیلیٹ کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099540' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c8e83006403e.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر دہشت گردی کے اس واقعے میں 50 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>

<p>فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر پر پر بتایا گیا کہ اس نے اپ لوڈ کے دوران 12 لاکھ ویڈیوز کو بلاک کیا گیا جبکہ دہشتگرد کی ستائش یا حمایت پر مبنی لاکھوں ویڈیوز کو بھی اپنے پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کیا۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے کمپنی نے آٹومیٹڈ ٹیکنالوجیز اور انسانی ماڈریٹرز کی مدد لی گئی۔</p>

<p>فیس بک نے یہ نہیں بتایا کہ آخر وہ 3 لاکھ ویڈیوز کو اپ لوڈ کرنے کے موقع پر پکڑنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکی، اس طرح ناکامی کی شرح 20 فیصد بنتی ہے۔</p>

<p>فیس بک کی ترجمان میا گارلیک نے بتایا کہ کمپنی اس ویڈیو کے ایسے ایڈٹ ورژن بھی ڈیلیٹ کررہی ہے جس میں تشدد کو نہیں دکھایا گیا۔</p>

<p>کرائسٹ چرچ میں دہشتگرد حملے کے بعد سے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب نے اس کی ویڈیوز ہٹانے کا کام شروع کردیا تھا مگر یہ کمپنیاں گھنٹوں تک اسے پھیلنے میں روکنے میں ناکام رہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/fbnewsroom/status/1107117981358682112"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>فیس بک نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان ویڈیوز کو کتنی بار دیکھا گیا، شیئر کتنے ہوئے یا ری ایکشن کی شرح کیا رہی، یعنی یہ کس حد تک پھیلنے میں کامیاب ہوئیں یہ واضح نہیں کیا گیا۔</p>

<p>اس حملے کے بعد متعدد عالمی رہنماﺅں نے فیس بک پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کے مواد کی روک تھام کے لیے اپنے کردار کو مزید بہتر بنائے۔</p>

<p>نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ لائیو اسٹریمنگ کے بارے میں کمپنی سے بات کرنا چاہتی ہیں اور کمپنی کو اس طرح کے واقعات پر اپنے ردعمل کے بارے میں سوالات کا جواب دینا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099668</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Mar 2019 22:27:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c8e83228829e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c8e83228829e.jpg"/>
        <media:title>فیس بک نے ایک ٹوئیٹ میں یہ بتایا — اے پی فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
