<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:13:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:13:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متنازع بیان پر افغان مشیر کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا امکان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1099820/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکا نے افغان صدر اشرف غنی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اب مزید افغان مشیر برائے قومی سلامتی حمداللہ محب سے کوئی معاملہ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099577' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c91e812ccdc7.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1470725/us-tells-afghan-president-it-wont-deal-with-his-nsa"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق غیر ملکی خبررساں ادارے نے بتایا تھا کہ 15 مارچ کو امریکی انڈر سیکریٹری اسٹیٹ برائے امورِ سیاسیات ڈیوڈ ہیل نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور انہیں آگاہ کیا کہ حمداللہ محب کے واشنگٹن آنے پر ان کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی امریکی عسکری و سیاسی حکام ان سے کسی قسم کا کوئی معاملہ کریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے یہ اقدام حمداللہ محب کی برطرفی کے لیے افغان صدر پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں امریکی ٹیم اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے 5 دور ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد وہ مذاکرات کے حوالے سے امریکی عہدیداروں اور افغان حکام کو آگاہ کرنے کے لیے کابل بھی گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085650"&gt;: افغانستان میں سیاسی بھونچال،2سیکیورٹی حکام،وزیرداخلہ و دفاع مستعفی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے افغان مشیر قومی سلامتی کی جانب سے متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ زلمے خلیل زاد جان بوجھ کر افغان حکومت کو مذاکراتی عمل سے دور رکھ رہے ہیں کیوں کہ وہ افغانستان کے آئندہ وائسرائے بننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ بیان سامنے آنے پر امریکی حکومت کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے طلب بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متنازع بیان کے باعث امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے بھی افغان مشیر قومی سلامتی کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی اور انہیں بتایا گیا کہ ہوسکتا ہے انہیں مستبل میں امریکا آنے کے لیے ویزا ہی جاری نہ کیا جائے، حالانکہ ان کی اہلیہ امریکی شہری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060046"&gt;افغانستان کا ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردی کا الزام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ واشنگٹن نے حمد اللہ محب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ امریکا نے افغان حکومت کو کمزور کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ جاری مفاہمتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی حکام نے کہا کہ ان کی جانب سے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر راضی کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں تاہم وہ اب تک انکاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر افغان حکومت نے تجویز دی تھی کہ اگر طالبان افغان حکومت سے بات چیت پر راضی نہیں ہوتے تو امریکا کو بھی یہ صورتحال ناقابلِ قبول قرار دے کر ان مذاکرات سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096491"&gt;کیا افغانستان میں امن کا سفر شروع ہوچکا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ صورتحال پر حمداللہ محب کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا البتہ انہوں نے ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے صرف اتنا کہا کہ وہ امریکا اور ابوظہبی کے دورے کے بعد کابل واپس جا کر افغان صدر کو اس بارے میں بریف کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکا نے افغان صدر اشرف غنی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اب مزید افغان مشیر برائے قومی سلامتی حمداللہ محب سے کوئی معاملہ نہیں کرے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1099577' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c91e812ccdc7.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1470725/us-tells-afghan-president-it-wont-deal-with-his-nsa">رپورٹ</a></strong> کے مطابق غیر ملکی خبررساں ادارے نے بتایا تھا کہ 15 مارچ کو امریکی انڈر سیکریٹری اسٹیٹ برائے امورِ سیاسیات ڈیوڈ ہیل نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کیا۔</p>

<p>اور انہیں آگاہ کیا کہ حمداللہ محب کے واشنگٹن آنے پر ان کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی امریکی عسکری و سیاسی حکام ان سے کسی قسم کا کوئی معاملہ کریں گی۔</p>

<p>اس بارے میں ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے یہ اقدام حمداللہ محب کی برطرفی کے لیے افغان صدر پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اٹھایا گیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں امریکی ٹیم اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے 5 دور ہوچکے ہیں۔</p>

<p>جس کے بعد وہ مذاکرات کے حوالے سے امریکی عہدیداروں اور افغان حکام کو آگاہ کرنے کے لیے کابل بھی گئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085650">: افغانستان میں سیاسی بھونچال،2سیکیورٹی حکام،وزیرداخلہ و دفاع مستعفی</a></strong></p>

<p>تاہم گزشتہ ہفتے افغان مشیر قومی سلامتی کی جانب سے متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ زلمے خلیل زاد جان بوجھ کر افغان حکومت کو مذاکراتی عمل سے دور رکھ رہے ہیں کیوں کہ وہ افغانستان کے آئندہ وائسرائے بننا چاہتے ہیں۔</p>

<p>مذکورہ بیان سامنے آنے پر امریکی حکومت کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے طلب بھی کیا۔</p>

<p>متنازع بیان کے باعث امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے بھی افغان مشیر قومی سلامتی کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی اور انہیں بتایا گیا کہ ہوسکتا ہے انہیں مستبل میں امریکا آنے کے لیے ویزا ہی جاری نہ کیا جائے، حالانکہ ان کی اہلیہ امریکی شہری ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060046">افغانستان کا ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردی کا الزام</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ واشنگٹن نے حمد اللہ محب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ امریکا نے افغان حکومت کو کمزور کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ جاری مفاہمتی عمل کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کیں۔</p>

<p>امریکی حکام نے کہا کہ ان کی جانب سے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر راضی کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں تاہم وہ اب تک انکاری ہیں۔</p>

<p>جس پر افغان حکومت نے تجویز دی تھی کہ اگر طالبان افغان حکومت سے بات چیت پر راضی نہیں ہوتے تو امریکا کو بھی یہ صورتحال ناقابلِ قبول قرار دے کر ان مذاکرات سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096491">کیا افغانستان میں امن کا سفر شروع ہوچکا ہے؟</a></strong></p>

<p>مذکورہ صورتحال پر حمداللہ محب کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا البتہ انہوں نے ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے صرف اتنا کہا کہ وہ امریکا اور ابوظہبی کے دورے کے بعد کابل واپس جا کر افغان صدر کو اس بارے میں بریف کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1099820</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Mar 2019 12:23:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c91e838b97b1.jpg?r=319288232" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c91e838b97b1.jpg?r=301843432"/>
        <media:title>افغان مشیر قومی سلامتی امریکا کے دورے پر موجود تھے—فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
