<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:10:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:10:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف سربراہ کی پاکستان آمد، حکومت کی نظریں بیل آؤٹ پیکج پر مرکوز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100166/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: چین سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100140/"&gt;2ارب ڈالر سے زائد کا قرض موصول&lt;/a&gt; ہونے کے بعد جہاں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.58ارب ڈالر کے ساتھ اپریل 2018 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وہیں حکومت آئندہ 4 سے 6ماہ میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج پر حتمی بات چیت کے لیے پرامید ہے تاکہ آئندہ سال کے بجٹ کو تیار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1471927/pakistan-eyes-package-as-imf-mission-chief-arrives-today"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن کے نئے سربراہ ارنیستو ریمیریز ریگو آج پاکستان پہنچیں گے جہاں وہ وزیر خزانہ اسد عمر اور دیگر سینئر آفیشلز کے ہمراہ تین سالہ پروگرام کی تیاری کو حتمی شکل دیں گے، اس موقع پر آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ماریہ ٹریسا دبن بھی کراچی کا دورہ کریں گی تاکہ اگلے دن اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بات چیت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088842"&gt;کیا پی ٹی آئی کے پاس آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سینئر آفیشل نے ڈان کو بتایا کہ دو روزہ دورے کے دوران دونوں فریقین اگلے ماہ کے وسط تک رسمی مشن کے آغاز کے لیے تاریخ کا تعین کر لیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آفیشل نے بتایا کہ آئی ایم ایف سربراہ کے دورے سے قبل ان کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹیم گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ مسائل پر بات چیت میں مصروف تھی، دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان تجاویز کو آنے والے بجٹ کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ اس سے اگلے سال کی ابتدا میں عملدرآمد کے لیے ان کو منی بل 20-2019 کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے بتایا کہ اصلاحات کے ایجنڈے پر کامیابی سے عملدرآمد کو حکومت کے مقبول دور میں اترنے سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088831"&gt;پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی مشکل اصلاحات کی کامیابی کے لیے ابتدائی دو بجٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور پہلے مالی سال کا اختتام تقریباً ہمارے سر پر ہے اور تیسرا بجٹ الیکشن سائیکل کے انتہائی قریب ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پالیسی ایکشن میں سب سے زیادہ اہم توانائی کا شعبہ ہے جہاں متعلقہ حکام کو 1.6ٹریلین ڈالر پر موجود گردشی قرضوں کے حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرنی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت خزانہ پہلے ہی توانائی کے شعبے کو یہ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دے اور ساتھ ساتھ خبردار کیا کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیرف کی مد میں 120ارب روہے سے زیادہ کی سبسڈی نہیں دے سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088511"&gt;حکومت 'آئی ایم ایف' کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آفیشلز کا کہنا ہے کہ پہلے سال مکمل وصولی مشکل ہے لیکن مستحکم خسارہ یقینی بنانے کے لیے پہلے سال ٹیرف میں 20 سے 30فیصد اضافہ ناگزیر تھا جبکہ حکومت کو capacity payments کی مد میں آئندہ دو ماہ کے دوران 200ارب روپے کے اثرات بھی صارفین تک منتقل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ گیس کے ٹیرف میں بھی 15 سے 22 فیصد تک اجافہ کای جائے گا جہاں گیس کمپنیوں نے 145فیصد تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: چین سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100140/">2ارب ڈالر سے زائد کا قرض موصول</a> ہونے کے بعد جہاں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.58ارب ڈالر کے ساتھ اپریل 2018 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وہیں حکومت آئندہ 4 سے 6ماہ میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج پر حتمی بات چیت کے لیے پرامید ہے تاکہ آئندہ سال کے بجٹ کو تیار کیا جا سکے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1471927/pakistan-eyes-package-as-imf-mission-chief-arrives-today">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن کے نئے سربراہ ارنیستو ریمیریز ریگو آج پاکستان پہنچیں گے جہاں وہ وزیر خزانہ اسد عمر اور دیگر سینئر آفیشلز کے ہمراہ تین سالہ پروگرام کی تیاری کو حتمی شکل دیں گے، اس موقع پر آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ماریہ ٹریسا دبن بھی کراچی کا دورہ کریں گی تاکہ اگلے دن اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بات چیت کی جا سکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088842">کیا پی ٹی آئی کے پاس آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟</a></strong></p>

<p>ایک سینئر آفیشل نے ڈان کو بتایا کہ دو روزہ دورے کے دوران دونوں فریقین اگلے ماہ کے وسط تک رسمی مشن کے آغاز کے لیے تاریخ کا تعین کر لیں گے۔</p>

<p>آفیشل نے بتایا کہ آئی ایم ایف سربراہ کے دورے سے قبل ان کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹیم گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ مسائل پر بات چیت میں مصروف تھی، دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان تجاویز کو آنے والے بجٹ کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ اس سے اگلے سال کی ابتدا میں عملدرآمد کے لیے ان کو منی بل 20-2019 کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے۔</p>

<p>باخبر ذرائع نے بتایا کہ اصلاحات کے ایجنڈے پر کامیابی سے عملدرآمد کو حکومت کے مقبول دور میں اترنے سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088831">پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی مشکل اصلاحات کی کامیابی کے لیے ابتدائی دو بجٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور پہلے مالی سال کا اختتام تقریباً ہمارے سر پر ہے اور تیسرا بجٹ الیکشن سائیکل کے انتہائی قریب ہو گا۔</p>

<p>اس پالیسی ایکشن میں سب سے زیادہ اہم توانائی کا شعبہ ہے جہاں متعلقہ حکام کو 1.6ٹریلین ڈالر پر موجود گردشی قرضوں کے حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرنی ہے۔</p>

<p>وزارت خزانہ پہلے ہی توانائی کے شعبے کو یہ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دے اور ساتھ ساتھ خبردار کیا کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیرف کی مد میں 120ارب روہے سے زیادہ کی سبسڈی نہیں دے سکیں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088511">حکومت 'آئی ایم ایف' کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار</a></strong> </p>

<p>آفیشلز کا کہنا ہے کہ پہلے سال مکمل وصولی مشکل ہے لیکن مستحکم خسارہ یقینی بنانے کے لیے پہلے سال ٹیرف میں 20 سے 30فیصد اضافہ ناگزیر تھا جبکہ حکومت کو capacity payments کی مد میں آئندہ دو ماہ کے دوران 200ارب روپے کے اثرات بھی صارفین تک منتقل کرنا ہوں گے۔</p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ گیس کے ٹیرف میں بھی 15 سے 22 فیصد تک اجافہ کای جائے گا جہاں گیس کمپنیوں نے 145فیصد تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100166</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2019 00:25:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c99a518add34.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c99a518add34.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن کے نئے سربراہ ارنیستو ریمیریز ریگو آج پاکستان پہنچیں گے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
