<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:22:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:22:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دو انفرادی سنچریوں کے باوجود پاکستان کو مسلسل چوتھی شکست
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100395/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے لیے  اپنے کیریئر کا پہلا میچ کھیلنے والے عابد علی کی ریکارڈ ڈیبیو سنچری کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے چوتھے میچ میں قومی ٹیم کو 6 رنز سے مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دبئی میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ون ڈے میچ میں پاکستان کے قائم مقام کپتان عماد وسیم  نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عثمان خواجہ اور ایرون فنچ نے ایک مرتبہ پھر اچھی شروعات کیں اور ٹیم کو 56 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اپنے کیریئر کا دوسرا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے محمد حسنین نے سیریز کے کامیاب بلےباز فنچ کو آؤٹ کیا جنہوں نے 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 39 رنز بنائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عماد وسیم نے شان مارش کو آؤٹ کرکے دوسری کامیابی دلا دی لیکن عثمان خواجہ نے نئے بلے باز پیٹرہینڈز کومب کے ساتھ مل کر محتاط بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور اسکور کو 98 رنز تک پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی تیسری وکٹ بھی کپتان عماد وسیم نے حاصل کی جبکہ ہینڈز کومب نے صرف 7 رنز بنائے تھے، اسٹوئنس بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کرپائے اور یاسر شاہ کی گیند پر اپنی وکٹیں نہ بچا پائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عثمان خواجہ نے 101 رنز پر اسٹوئنس کے آؤٹ ہونے کے بعد میکسویل کے ساتھ مل کر اسکور کو 140 تک پہنچایا اور 62 رنز کی محتاط اننگز کھیلنے کے بعد یاسر شاہ کا شکار بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میکسویل اور کیری کے درمیان شان دار 134 رنز کی شراکت ہوئی اس دوران دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں جبکہ میکسویل محض دو رنز کے فرق سے اپنی سنچری نہ بناسکے تاہم کیری اپنے ایک روزہ کیریئر کی پہلی نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اننگز کے آخری اوور میں 274 رنز پر آؤٹ ہونے والے میکسویل نے 98 رنز بنائے تھے جنہیں شان مسعود نے محمد رضوان کی مدد سے رن آؤٹ کیا جس کے بعد کیری کو محمد حسنین نے حارث سہیل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی جانب سے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز کیری تھے جو 55رنز پر حسنین کا شکار بنے یوں آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں میں 277 رنز بنا لیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے محمد حسنین، عماد وسیم اور یاسر شاہ نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہدف کے تعاقب میں شان مسعود پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوگئے جس کے بعد محمد رضوان اور بین الاقوامی کرکٹ میں کیریئر کا آغاز کرنے والے عابد علی نے ریکارڈ شراکت کے ذریعے پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرکے سیریز میں پہلی کامیابی کی امید دلائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عابد علی نے 111 گیندوں پر سنچری مکمل کرکے ڈیبیو میچ میں 100 رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بننے کا اعزاز حاصل کیا اور پاکستان کی جانب سے پہلے میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی بن گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/1111688979294928897"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد رضوان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہوں نے بھی شراکت کے دوران اپنی نصف سنچری مکمل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ دونوں بلے بازوں نے 144 رنز کی شراکت قائم کی جو آسٹریلیا کے خلاف دوسری وکٹ میں بڑی شراکت بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عابد علی شاندار سنچری کے بعد 112 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 218 رنز تھا، نئے آنے والے بلے باز عمر اکمل تھے جو زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر پائے اور کاؤلٹر نائل کی وکٹ بن گئے، ڈیبیو کرنے والے سعد علی بھی 7 رنز بنا کر نائل کا شکار بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کپتان عماد وسیم اس وقت بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے جب ٹیم کو تیزی سے رنز بنانے کی ضرورت تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے اور صرف ایک رن کا اضافہ کرکے پویلین سدھار گئے تاہم اس دوران محمد رضوان نے اپنے کیریئر اور سیریز میں دوسری سنچری مکمل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد رضوان نے بہترین اننگز کھیلی اور 104 رنز بنا کر آخری اوور میں آؤٹ ہوگئے، ان کی اننگز میں 9 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، انہیں اسٹوئنس نے آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عثمان شنواری نے رضوان کے آؤٹ ہوتے ہی بلند و بالا چھکا لگا کر میچ کو سنسنی خیز بنا دیا تھا لیکن اگلی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور قومی ٹیم کی شکست یقینی بن گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بناکر چوتھی شکست سمیٹ لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے میچ میں واپسی کرتے ہوئے ذمہ دارانہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور میچ میں 6 رنز سے کامیابی حاصل کی اور مسلسل چوتھی فتح اپنے نام کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی جانب سے نائل نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، اسٹوئنس نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلین میکسویل کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1111579146076020736"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شعیب ملک انجری کے سبب میچ کا حصہ نہیں تھے جس کی وجہ سے عماد وسیم کو قیادت سونپی گئی جبکہ امام الحق بھی تیز بخار کے سبب میچ نہیں کھیل سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں کھلاڑیوں کی غیرموجودگی میں پاکستان نے عابد علی اور سعد علی کو ڈیبیو کرایا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1111584391560658944"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے بھی اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں، پیٹ کمنز اور جیسن بہرن ڈروف کی جگہ کین رچرڈسن اور نیتھن کاؤلٹر نائیل کو موقع دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پانچ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو 0-3 کی فیصلہ کن برتری حاصل تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ٹیمیں ان پر کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان&lt;/strong&gt;: عماد وسیم (کپتان)، شان مسعود، عابد علی، سعد علی، عمر اکمل، حارث سہیل، محمد رضوان، عماد وسیم، جنید خان، محمد حسنین، عثمان خان شنواری، یاسر شاہ&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا: ایرون فنچ(کپتان)، عثمان خواجہ، شان مارش، پیٹر ہینڈزکومب، مارکس اسٹوئنس، گلین میکس ویل، ایلکس کیری، پکین رچرڈسن، نیتھن کاؤلٹر، نیتھن لایون، ایڈم زیمپا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے لیے  اپنے کیریئر کا پہلا میچ کھیلنے والے عابد علی کی ریکارڈ ڈیبیو سنچری کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے چوتھے میچ میں قومی ٹیم کو 6 رنز سے مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔</p>

<p>دبئی میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ون ڈے میچ میں پاکستان کے قائم مقام کپتان عماد وسیم  نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔</p>

<p>عثمان خواجہ اور ایرون فنچ نے ایک مرتبہ پھر اچھی شروعات کیں اور ٹیم کو 56 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اپنے کیریئر کا دوسرا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے محمد حسنین نے سیریز کے کامیاب بلےباز فنچ کو آؤٹ کیا جنہوں نے 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 39 رنز بنائے تھے۔</p>

<p>عماد وسیم نے شان مارش کو آؤٹ کرکے دوسری کامیابی دلا دی لیکن عثمان خواجہ نے نئے بلے باز پیٹرہینڈز کومب کے ساتھ مل کر محتاط بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور اسکور کو 98 رنز تک پہنچا دیا۔</p>

<p>آسٹریلیا کی تیسری وکٹ بھی کپتان عماد وسیم نے حاصل کی جبکہ ہینڈز کومب نے صرف 7 رنز بنائے تھے، اسٹوئنس بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کرپائے اور یاسر شاہ کی گیند پر اپنی وکٹیں نہ بچا پائے۔</p>

<p>عثمان خواجہ نے 101 رنز پر اسٹوئنس کے آؤٹ ہونے کے بعد میکسویل کے ساتھ مل کر اسکور کو 140 تک پہنچایا اور 62 رنز کی محتاط اننگز کھیلنے کے بعد یاسر شاہ کا شکار بنے۔</p>

<p>میکسویل اور کیری کے درمیان شان دار 134 رنز کی شراکت ہوئی اس دوران دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں جبکہ میکسویل محض دو رنز کے فرق سے اپنی سنچری نہ بناسکے تاہم کیری اپنے ایک روزہ کیریئر کی پہلی نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔</p>

<p>اننگز کے آخری اوور میں 274 رنز پر آؤٹ ہونے والے میکسویل نے 98 رنز بنائے تھے جنہیں شان مسعود نے محمد رضوان کی مدد سے رن آؤٹ کیا جس کے بعد کیری کو محمد حسنین نے حارث سہیل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔</p>

<p>آسٹریلیا کی جانب سے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز کیری تھے جو 55رنز پر حسنین کا شکار بنے یوں آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں میں 277 رنز بنا لیے۔</p>

<p>پاکستان کی جانب سے محمد حسنین، عماد وسیم اور یاسر شاہ نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔</p>

<p>ہدف کے تعاقب میں شان مسعود پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوگئے جس کے بعد محمد رضوان اور بین الاقوامی کرکٹ میں کیریئر کا آغاز کرنے والے عابد علی نے ریکارڈ شراکت کے ذریعے پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرکے سیریز میں پہلی کامیابی کی امید دلائی۔</p>

<p>عابد علی نے 111 گیندوں پر سنچری مکمل کرکے ڈیبیو میچ میں 100 رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بننے کا اعزاز حاصل کیا اور پاکستان کی جانب سے پہلے میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی بن گئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ICC/status/1111688979294928897"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محمد رضوان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہوں نے بھی شراکت کے دوران اپنی نصف سنچری مکمل کی۔</p>

<p>خیال رہے کہ دونوں بلے بازوں نے 144 رنز کی شراکت قائم کی جو آسٹریلیا کے خلاف دوسری وکٹ میں بڑی شراکت بن گئی ہے۔</p>

<p>عابد علی شاندار سنچری کے بعد 112 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 218 رنز تھا، نئے آنے والے بلے باز عمر اکمل تھے جو زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر پائے اور کاؤلٹر نائل کی وکٹ بن گئے، ڈیبیو کرنے والے سعد علی بھی 7 رنز بنا کر نائل کا شکار بنے۔</p>

<p>کپتان عماد وسیم اس وقت بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے جب ٹیم کو تیزی سے رنز بنانے کی ضرورت تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے اور صرف ایک رن کا اضافہ کرکے پویلین سدھار گئے تاہم اس دوران محمد رضوان نے اپنے کیریئر اور سیریز میں دوسری سنچری مکمل کی۔</p>

<p>محمد رضوان نے بہترین اننگز کھیلی اور 104 رنز بنا کر آخری اوور میں آؤٹ ہوگئے، ان کی اننگز میں 9 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، انہیں اسٹوئنس نے آؤٹ کیا۔</p>

<p>عثمان شنواری نے رضوان کے آؤٹ ہوتے ہی بلند و بالا چھکا لگا کر میچ کو سنسنی خیز بنا دیا تھا لیکن اگلی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور قومی ٹیم کی شکست یقینی بن گئی۔</p>

<p>پاکستان نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بناکر چوتھی شکست سمیٹ لی۔</p>

<p>آسٹریلیا نے میچ میں واپسی کرتے ہوئے ذمہ دارانہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور میچ میں 6 رنز سے کامیابی حاصل کی اور مسلسل چوتھی فتح اپنے نام کی۔</p>

<p>آسٹریلیا کی جانب سے نائل نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، اسٹوئنس نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔</p>

<p>گلین میکسویل کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1111579146076020736"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>شعیب ملک انجری کے سبب میچ کا حصہ نہیں تھے جس کی وجہ سے عماد وسیم کو قیادت سونپی گئی جبکہ امام الحق بھی تیز بخار کے سبب میچ نہیں کھیل سکے۔</p>

<p>دونوں کھلاڑیوں کی غیرموجودگی میں پاکستان نے عابد علی اور سعد علی کو ڈیبیو کرایا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/1111584391560658944"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>آسٹریلیا نے بھی اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں، پیٹ کمنز اور جیسن بہرن ڈروف کی جگہ کین رچرڈسن اور نیتھن کاؤلٹر نائیل کو موقع دیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ پانچ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو 0-3 کی فیصلہ کن برتری حاصل تھی۔</p>

<p>دونوں ٹیمیں ان پر کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔</p>

<p><strong>پاکستان</strong>: عماد وسیم (کپتان)، شان مسعود، عابد علی، سعد علی، عمر اکمل، حارث سہیل، محمد رضوان، عماد وسیم، جنید خان، محمد حسنین، عثمان خان شنواری، یاسر شاہ</p>

<p>آسٹریلیا: ایرون فنچ(کپتان)، عثمان خواجہ، شان مارش، پیٹر ہینڈزکومب، مارکس اسٹوئنس، گلین میکس ویل، ایلکس کیری، پکین رچرڈسن، نیتھن کاؤلٹر، نیتھن لایون، ایڈم زیمپا</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100395</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Mar 2019 12:48:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c9e615e2879d.jpg?r=405947385" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c9e615e2879d.jpg?r=798276595"/>
        <media:title>عابد علی ڈیبو سنچری کرنے والے تیسرے بلے باز ہیں—فوٹو:پی سی بی ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
