<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:05:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:05:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: عالمی بینک نے آبی وسائل کی ترقی کا منصوبہ معطل کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100437/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: عالمی بینک نے عدم پیشرفت اور فنڈز کی تقسیم میں بد انتظامی کے باعث بلوچستان میں آبی وسائل کے انتظام اور ترقی کا منصوبہ روک دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں بتایا گیا کہ عالمی بینک نے صوبے کو پانی کا حقیقی پائیدار انتظام فراہم کرنے کے لیے حکومتی انتظامات کی بحالی اور ان کا دائرہ کاروسیع کرنے کے سلسلے میں بلوچستان حکومت کے ساتھ آئندہ 30 تک کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ 28 جون 2016 کو عالمی بینک نے صوبے میں آبپاشی کے لیے آبادی کی بنیاد پر پانی کے نظام کی حکومتی کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے بلوچستان حکومت کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی گرانٹ منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094742"&gt;ڈیم فنڈز کی رقم بلوچستان میں آبی بحران حل کرنے کیلئے استعمال کی جائے، سینیٹرز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ منصوبہ آبپاشی کے نئے ڈھانچے، کھیتوں اور چراگاہوں کے بہتر انتظام کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کا ایک مقصد آبی وسائل کی طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے صوبے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلوچستان میں پانی کے مربوط انتظام اور ترقیاتی منصوبے کا مقصد صوبے کے 18 میں سے 2 پانی کے ذخیروں میں سرمایہ کاری کرنا تھا جس کے لیے پانی کے وسائل کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لے کر ابتدائی طور پر ناری اور پولرائی دریائی طاس کا انتخاب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پانی کا پائیدار نظام بلوچستان کے لیے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے چنانچہ صوبے کے عوام کے لیے آبی وسائل کی ترقی کے لیے عالمی بینک صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/89134"&gt;میانی ہور، بلوچستان کا پہلا محفوظ آبی علاقہ؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان کے مطابق عالمی بینک صوبے کے لیے وسیع تر پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے صوبے میں تعلیم، صحت، حکومتی اور آبی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 25 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ملک بھر میں 40 منصوبوں کے لیے 7 ارب 42 کروڑ ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جس میں 3 ارب ڈالر صرف پانی کے نظام، ہائیڈرو پاور اور ذرعی آبپاشی کے لیے مختص ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلوچستان کے لیے اس منصوبے کا مقصد پانی کے وسائل کی نگرانی اور انتظام کے لیے صوبائی حکومت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور صوبے میں آبپاشی کے اہداف کے منصوبوں کے لیے کمیونٹی پر مبنی پانی کا انتظام بہتر بنانا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067335"&gt;بلوچستان کی خشک سالی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منصوبے سے چھوٹے اور درمیانے رقبے کے مالک کسانوں کو فائدہ پہنچے گا، تقریباً 42 ہزار 8 سو  گھریلو فارمز منصوبے سے استفادہ کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر30 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: عالمی بینک نے عدم پیشرفت اور فنڈز کی تقسیم میں بد انتظامی کے باعث بلوچستان میں آبی وسائل کے انتظام اور ترقی کا منصوبہ روک دیا۔</p>

<p>ایک بیان میں بتایا گیا کہ عالمی بینک نے صوبے کو پانی کا حقیقی پائیدار انتظام فراہم کرنے کے لیے حکومتی انتظامات کی بحالی اور ان کا دائرہ کاروسیع کرنے کے سلسلے میں بلوچستان حکومت کے ساتھ آئندہ 30 تک کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ 28 جون 2016 کو عالمی بینک نے صوبے میں آبپاشی کے لیے آبادی کی بنیاد پر پانی کے نظام کی حکومتی کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے بلوچستان حکومت کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی گرانٹ منظور کی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094742">ڈیم فنڈز کی رقم بلوچستان میں آبی بحران حل کرنے کیلئے استعمال کی جائے، سینیٹرز</a></strong> </p>

<p>مذکورہ منصوبہ آبپاشی کے نئے ڈھانچے، کھیتوں اور چراگاہوں کے بہتر انتظام کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔</p>

<p>جس کا ایک مقصد آبی وسائل کی طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے صوبے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا۔</p>

<p>بلوچستان میں پانی کے مربوط انتظام اور ترقیاتی منصوبے کا مقصد صوبے کے 18 میں سے 2 پانی کے ذخیروں میں سرمایہ کاری کرنا تھا جس کے لیے پانی کے وسائل کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لے کر ابتدائی طور پر ناری اور پولرائی دریائی طاس کا انتخاب کیا گیا تھا۔</p>

<p>خیال رہے کہ پانی کا پائیدار نظام بلوچستان کے لیے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے چنانچہ صوبے کے عوام کے لیے آبی وسائل کی ترقی کے لیے عالمی بینک صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/89134">میانی ہور، بلوچستان کا پہلا محفوظ آبی علاقہ؟</a></strong></p>

<p>بیان کے مطابق عالمی بینک صوبے کے لیے وسیع تر پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔</p>

<p>واضح رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے صوبے میں تعلیم، صحت، حکومتی اور آبی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 25 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب ملک بھر میں 40 منصوبوں کے لیے 7 ارب 42 کروڑ ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جس میں 3 ارب ڈالر صرف پانی کے نظام، ہائیڈرو پاور اور ذرعی آبپاشی کے لیے مختص ہیں۔</p>

<p>بلوچستان کے لیے اس منصوبے کا مقصد پانی کے وسائل کی نگرانی اور انتظام کے لیے صوبائی حکومت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور صوبے میں آبپاشی کے اہداف کے منصوبوں کے لیے کمیونٹی پر مبنی پانی کا انتظام بہتر بنانا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067335">بلوچستان کی خشک سالی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟</a></strong></p>

<p>اس منصوبے سے چھوٹے اور درمیانے رقبے کے مالک کسانوں کو فائدہ پہنچے گا، تقریباً 42 ہزار 8 سو  گھریلو فارمز منصوبے سے استفادہ کریں گے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر30 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100437</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Mar 2019 11:02:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c9f059387c8e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c9f059387c8e.jpg"/>
        <media:title>یہ منصوبہ پانی کے بہتر نظام کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا—فوٹو:سلیم شیخ سفائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
