<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:04:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:04:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مضاربہ اسکینڈل میں مطلوب ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100516/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے مضاربہ اسکینڈل میں مطلوب ملزم کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے گرفتار کرلیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ’مفتی عبداللہ شوکت کو انٹرپول کے ذریعے یو اے ای سے گرفتار کیا گیا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1003872"&gt;مضاربہ اسکینڈل کی تفتیش میں نیب کو دھمکیوں کا سامنا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ زیر حراست ملزم 7 ارب 20 کروڑ کے مضاربہ اسکینڈل کے ریفرنس میں مطلوب تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی ملزم شفیق الرحمن نے سرمایہ کاری اور منافع کے جھوٹے وعدے کرکے معصوم شہریوں سے مجموعی طور پر 7 ارب 20 کروڑ روپے جمع کرلیے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب حکام کے مطابق ’مفتی عبداللہ شوکت نے شفیق الرحمن کے غیرقانونی کاروبار کو جائز اور اسلامی قوانین کے عین مطابق قرار دینے کے لیے ’جعلی فتوے‘ جاری کیے تھے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’مفتی عبداللہ شوکت نے جامعہ بنوریہ کراچی سے گریجویشن کی تھی‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1021109"&gt;مضاربہ اسکینڈل کا شریک ملزم گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے بتایا کہ ’زیر حراست مفتی عبداللہ شوکت بھی غیرقانونی طریقے سے کراچی کے عام شہریوں سے اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر بڑی رقم جمع کی تھی‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس کیس کا مرکزی ملزم مفتی ثاقب عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہے.  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب اس وقت مضاربہ اسکینڈل سے تعلق رکھنے والے 96 علیحدہ علیحدہ کیسز کی تفتیش کررہا ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں سے 14 کیسز کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ابھی تفتیشی مرحلے میں ہیں، 5 انکوائری، دو شکایات کی تصدیق اور 67 شکایتی مرحلے میں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1038415"&gt;مضاربہ اسکینڈل: تفتیشی افسر کا 29 گواہان کو پیش کرنے سے انکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو کو متاثرین کی جانب سے 33 ہزار 744  شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ 32 ملزمان اب تک گرفتار کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) نے مضاربہ اسکینڈل میں مطلوب ملزم کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے گرفتار کرلیا۔ </p>

<p>نیب کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ’مفتی عبداللہ شوکت کو انٹرپول کے ذریعے یو اے ای سے گرفتار کیا گیا‘۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1003872">مضاربہ اسکینڈل کی تفتیش میں نیب کو دھمکیوں کا سامنا</a></strong></p>

<p>انہوں نے بتایا کہ زیر حراست ملزم 7 ارب 20 کروڑ کے مضاربہ اسکینڈل کے ریفرنس میں مطلوب تھا۔ </p>

<p>خیال رہے کہ مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی ملزم شفیق الرحمن نے سرمایہ کاری اور منافع کے جھوٹے وعدے کرکے معصوم شہریوں سے مجموعی طور پر 7 ارب 20 کروڑ روپے جمع کرلیے تھے۔ </p>

<p>نیب حکام کے مطابق ’مفتی عبداللہ شوکت نے شفیق الرحمن کے غیرقانونی کاروبار کو جائز اور اسلامی قوانین کے عین مطابق قرار دینے کے لیے ’جعلی فتوے‘ جاری کیے تھے۔  </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ’مفتی عبداللہ شوکت نے جامعہ بنوریہ کراچی سے گریجویشن کی تھی‘۔ </p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1021109">مضاربہ اسکینڈل کا شریک ملزم گرفتار</a></strong></p>

<p>نیب نے بتایا کہ ’زیر حراست مفتی عبداللہ شوکت بھی غیرقانونی طریقے سے کراچی کے عام شہریوں سے اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر بڑی رقم جمع کی تھی‘۔ </p>

<p>خیال رہے کہ اس کیس کا مرکزی ملزم مفتی ثاقب عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہے.  </p>

<p>نیب اس وقت مضاربہ اسکینڈل سے تعلق رکھنے والے 96 علیحدہ علیحدہ کیسز کی تفتیش کررہا ہے. </p>

<p>ان میں سے 14 کیسز کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ابھی تفتیشی مرحلے میں ہیں، 5 انکوائری، دو شکایات کی تصدیق اور 67 شکایتی مرحلے میں ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1038415">مضاربہ اسکینڈل: تفتیشی افسر کا 29 گواہان کو پیش کرنے سے انکار</a></strong></p>

<p>قومی احتساب بیورو کو متاثرین کی جانب سے 33 ہزار 744  شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ 32 ملزمان اب تک گرفتار کیے جاچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100516</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Apr 2019 10:53:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5ca0e2f37d720.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5ca0e2f37d720.jpg"/>
        <media:title>مفتی عبداللہ شوکت نے جامعہ بنوریہ کراچی سے گریجویشن کی تھی—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
