<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:36:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:36:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں انڈین پریمیئر لیگ کی نشریات پر پابندی کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100649/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی نشریات پر پابندی عائد کیے جانے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے وفاقی کابینہ سے آئی پی ایل پر پابندی کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی تھی جس کے بعد اب بھارت کے ڈومیسٹک کرکٹ کی نشریات دکھانے کی ضرورت نہیں رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی نشریاتی ادارے نے ٹورنامنٹ کے درمیان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے سیزن کی نشریات دکھانے سے انکار کیا، تاکہ لیگ کو نقصان پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097748/"&gt;پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق لینے والی بھارتی کمپنی کا لیگ نشر کرنے سے انکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری حکومت ذاتی طور پر سمجھتی ہے کہ سیاسی تنازعات کو کھیلوں اور ثقافت پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، پاکستانی شہریوں، اداکاروں، فنکاروں اور کرکٹرز کی جانب جیسا رویہ رکھا گیا اور بھارتی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف میچ فوجی کیپ پہن کر کھیلا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مشہور بھارتی تاجر مکیش امبانی کی کمپنی آئی ایم جی ریلائنس کو رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے نشریاتی حقوق دیئے تھے، بعد ازاں ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے لیگ کی مزید نشریات سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے پی سی بی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم جی ریلائنس نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ پی ایس ایل 2019 کے بقیہ میچز کے لیے ہمارے ساتھ پارٹنرشپ نہیں کر سکیں گے اور پی سی بی تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100193"&gt;انڈین پریمیئر لیگ کے تیسرے ہی دن تنازع کھڑا ہوگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت چینل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2019 کی لائیو کوریج کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے باوجود ایونٹ کی نشریات بند کر دی تھیں، جبکہ دیگر بھارتی ویب سائٹس نے بھی لیگ کے میچوں کی اسکور اپ ڈیٹس بند کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں پی ایس ایل کے میچز دکھانے کے حقوق ڈی اسپورٹس کے پاس تھے جس نے پی ایس ایل کے رواں سیزن کی نشریات بند کر دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی سی بی نے پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق مشترکہ طور پر بلٹز ایڈورٹائزنگ اور ٹیک فرنٹ کو 36 ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے اور اس معاہدے کا اختتام 2022 میں ہونا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈین پریمیئر لیگ کا آغاز 23 مارچ کو ہوا تھا اور اس کے تیسرے روز ہی مایہ ناز بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون پر آئی پی ایل کے دوران انگلش بلے باز جوز بٹلر کو کرکٹ کی روح کے منافی ’منکڈ‘ طریقے سے رن آؤٹ کرنے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی نشریات پر پابندی عائد کیے جانے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے وفاقی کابینہ سے آئی پی ایل پر پابندی کی درخواست کی تھی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی تھی جس کے بعد اب بھارت کے ڈومیسٹک کرکٹ کی نشریات دکھانے کی ضرورت نہیں رہی۔</p>

<p>فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی نشریاتی ادارے نے ٹورنامنٹ کے درمیان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے سیزن کی نشریات دکھانے سے انکار کیا، تاکہ لیگ کو نقصان پہنچے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097748/">پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق لینے والی بھارتی کمپنی کا لیگ نشر کرنے سے انکار</a></strong></p>

<p>وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری حکومت ذاتی طور پر سمجھتی ہے کہ سیاسی تنازعات کو کھیلوں اور ثقافت پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔</p>

<p>فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، پاکستانی شہریوں، اداکاروں، فنکاروں اور کرکٹرز کی جانب جیسا رویہ رکھا گیا اور بھارتی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف میچ فوجی کیپ پہن کر کھیلا۔ </p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مشہور بھارتی تاجر مکیش امبانی کی کمپنی آئی ایم جی ریلائنس کو رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے نشریاتی حقوق دیئے تھے، بعد ازاں ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے لیگ کی مزید نشریات سے انکار کردیا تھا۔</p>

<p>اس حوالے سے پی سی بی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم جی ریلائنس نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ پی ایس ایل 2019 کے بقیہ میچز کے لیے ہمارے ساتھ پارٹنرشپ نہیں کر سکیں گے اور پی سی بی تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100193">انڈین پریمیئر لیگ کے تیسرے ہی دن تنازع کھڑا ہوگیا</a></strong> </p>

<p>اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت چینل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2019 کی لائیو کوریج کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے باوجود ایونٹ کی نشریات بند کر دی تھیں، جبکہ دیگر بھارتی ویب سائٹس نے بھی لیگ کے میچوں کی اسکور اپ ڈیٹس بند کر دی تھیں۔</p>

<p>بھارت میں پی ایس ایل کے میچز دکھانے کے حقوق ڈی اسپورٹس کے پاس تھے جس نے پی ایس ایل کے رواں سیزن کی نشریات بند کر دیں۔</p>

<p>پی سی بی نے پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق مشترکہ طور پر بلٹز ایڈورٹائزنگ اور ٹیک فرنٹ کو 36 ملین ڈالر میں فروخت کیے تھے اور اس معاہدے کا اختتام 2022 میں ہونا تھا۔</p>

<p>انڈین پریمیئر لیگ کا آغاز 23 مارچ کو ہوا تھا اور اس کے تیسرے روز ہی مایہ ناز بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون پر آئی پی ایل کے دوران انگلش بلے باز جوز بٹلر کو کرکٹ کی روح کے منافی ’منکڈ‘ طریقے سے رن آؤٹ کرنے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100649</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Apr 2019 18:59:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5ca3680019afc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5ca3680019afc.jpg"/>
        <media:title>آئی پی ایل 2019 کا آغاز 23 مارچ کو ہوا تھا — فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
