<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:48:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:48:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاحت کا فروغ: گلگت بلتستان میں خصوصی فورس بنانے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100739/</link>
      <description>&lt;p&gt;گلگت بلتستان کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ثنااللہ عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں خصوصی سیاحت فورس بنائی جائے گی جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) روٹ کے تحفظ کے لیے بھی 700 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095874"&gt;گلگت بلتستان کی سیاسی حیثیت کیلئے مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے ماڈل پر گلگت بلتستان میں ’سیاحت پولیس ڈویژن‘ بنایا کیا جائے گا، جس میں ایک آئی جی، ایک ایس ایس پی، 75 سب انسپکٹرز، 105 ہیڈ کانسٹیبل، 315 مرد کانسٹیبلز، 70 خاتون کانسٹیبلز اور 70 آفیشل اسٹاف سمیت 600 سے زائد عملہ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ اس خصوصی فورس کے قیادم کا مقصد سیاحوں کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہے، اس سلسلے میں صرف انگریزی زبان بولنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو منتخب کیا جائے گا تاکہ وہ غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ بہتر طریقے سے بات چیت کرسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091397"&gt;گلگت بلتستان اصلاحات کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ خصوصی سیاحت فورس کا مرکزی دفتر گلگت میں قائم ہوگیا جبکہ ہنزہ، نگر، اسکردو، دیامر، غذر اور گھانچے اضلاع میں ذیلی دفاتر ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ثنااللہ عباسی نے کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحوں کے لیے کوئی سیکیورٹی خطرات نہیں، تاہم یہ اقدام سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 04 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گلگت بلتستان کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ثنااللہ عباسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں خصوصی سیاحت فورس بنائی جائے گی جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) روٹ کے تحفظ کے لیے بھی 700 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095874">گلگت بلتستان کی سیاسی حیثیت کیلئے مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان</a></strong></p>

<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے ماڈل پر گلگت بلتستان میں ’سیاحت پولیس ڈویژن‘ بنایا کیا جائے گا، جس میں ایک آئی جی، ایک ایس ایس پی، 75 سب انسپکٹرز، 105 ہیڈ کانسٹیبل، 315 مرد کانسٹیبلز، 70 خاتون کانسٹیبلز اور 70 آفیشل اسٹاف سمیت 600 سے زائد عملہ ہوگا۔</p>

<p>آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ اس خصوصی فورس کے قیادم کا مقصد سیاحوں کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہے، اس سلسلے میں صرف انگریزی زبان بولنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو منتخب کیا جائے گا تاکہ وہ غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ بہتر طریقے سے بات چیت کرسکیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091397">گلگت بلتستان اصلاحات کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل</a></strong></p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ خصوصی سیاحت فورس کا مرکزی دفتر گلگت میں قائم ہوگیا جبکہ ہنزہ، نگر، اسکردو، دیامر، غذر اور گھانچے اضلاع میں ذیلی دفاتر ہوں گے۔</p>

<p>ثنااللہ عباسی نے کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحوں کے لیے کوئی سیکیورٹی خطرات نہیں، تاہم یہ اقدام سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 04 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100739</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2019 10:39:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5ca596368a992.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="425" width="701">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5ca596368a992.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
