<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:55:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:55:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفاعی تجزیہ کاروں کو مدعو کرنے کیلئے پیمرا کی چینلز کو نئی ہدایت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100873/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ نیوز اور کرنٹ افیئرز پروگراموں میں قومی سلامتی کے مسائل پر بحث کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسران کو مدعو کرنے سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے کلیئرنس حاصل کرنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'متعلقہ کوارٹرز‘ کا ماننا ہے کہ ایسے ریٹائرڈ فوجی افسران ٹی وی پروگرامز میں بلائے جاتے ہیں ’جو عام طور ریٹائرمنٹ کے بعد کے وقت کی وجہ سے نئی دفاعی اور سیکیورٹی پیش رفتوں کے حوالے سے بہتر طریقے سے بات نہیں کرسکتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096927"&gt;ڈاکٹر دانش نے پیمرا کی پابندی کو غیرقانونی قرار دے دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا نے مزید کہا کہ 'ایسے ریٹائرڈ اہلکاروں کی بحث زیادہ تر سیکیورٹی امور سے سیاست کی جانب مڑ جاتی ہے جس سے نادانستگی میں فوجی افسران سیاسی بحث میں شامل ہوجاتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ صورتحال ’نامناسب‘ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا نے ٹی وی نیٹ ورکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق فوجی افسران کو ‘دفاعی تجزیہ کاروں‘ کے طور پر مدعو کرنے سے قبل آئی ایس پی آر سے کلیئرنس لیں اور اگر بحث میں سیکیورٹی کے امور شامل نہ ہوں تو اپنے مہمانوں کا صرف ’تجزیہ کار‘ کے طور پر تعارف کرایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا نے ہدایت کی کہ دونوں کیسز میں آئی ایس پی آر سے اجازت لینا لازمی ہوگی اور خبردار کیا کہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ نیوز اور کرنٹ افیئرز پروگراموں میں قومی سلامتی کے مسائل پر بحث کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسران کو مدعو کرنے سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے کلیئرنس حاصل کرنا ضروری ہوگا۔</p>

<p>پیمرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'متعلقہ کوارٹرز‘ کا ماننا ہے کہ ایسے ریٹائرڈ فوجی افسران ٹی وی پروگرامز میں بلائے جاتے ہیں ’جو عام طور ریٹائرمنٹ کے بعد کے وقت کی وجہ سے نئی دفاعی اور سیکیورٹی پیش رفتوں کے حوالے سے بہتر طریقے سے بات نہیں کرسکتے‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096927">ڈاکٹر دانش نے پیمرا کی پابندی کو غیرقانونی قرار دے دیا</a></strong></p>

<p>پیمرا نے مزید کہا کہ 'ایسے ریٹائرڈ اہلکاروں کی بحث زیادہ تر سیکیورٹی امور سے سیاست کی جانب مڑ جاتی ہے جس سے نادانستگی میں فوجی افسران سیاسی بحث میں شامل ہوجاتے ہیں‘۔</p>

<p>ان کے مطابق یہ صورتحال ’نامناسب‘ ہے۔</p>

<p>پیمرا نے ٹی وی نیٹ ورکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق فوجی افسران کو ‘دفاعی تجزیہ کاروں‘ کے طور پر مدعو کرنے سے قبل آئی ایس پی آر سے کلیئرنس لیں اور اگر بحث میں سیکیورٹی کے امور شامل نہ ہوں تو اپنے مہمانوں کا صرف ’تجزیہ کار‘ کے طور پر تعارف کرایا جائے۔</p>

<p>پیمرا نے ہدایت کی کہ دونوں کیسز میں آئی ایس پی آر سے اجازت لینا لازمی ہوگی اور خبردار کیا کہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100873</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Apr 2019 01:17:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ثناء اللہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5ca7afe2018c8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5ca7afe2018c8.jpg"/>
        <media:title>پیمرا کے مطابق ٹی وی چینلز پر سیکیورٹی امور پر کی جانے والی بحث اکثر سیاسی رخ اختیار کرجاتی ہے — فائل فوٹو/ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
