<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:09:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:09:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گانے میں مرد کے ڈانس کو ‘آئٹم سانگ‘ کیوں نہیں مانا جاتا، حریم فاروق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101004/</link>
      <description>&lt;p&gt;اداکارہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051306"&gt;&lt;strong&gt;حریم فاروق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے کہا ہے کہ جب خواتین کسی فلم میں گانے پر ڈانس کرتی ہے تو ان کی پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ کہا جاتا ہے جب کہ کوئی مرد اس طرح کی پرفارمنس کرتا ہے تو اسے ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’زیبسٹ‘ میں ہونے والے میڈیا فیسٹیول کے ایک &lt;a href="https://www.facebook.com/szabistofficial/videos/2305621436352420/"&gt;&lt;strong&gt;ایونٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں پینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے تقریب میں بیٹھے افراد سے سوال کیا کہ جب کسی گانے میں کوئی مرد اداکار سولو (اکیلے) ڈانس کرے، تو کیا اسے بھی ’آئٹم سانگ‘ کہا جانا چاہیے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کوئی بھی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حریم فاروق کے ساتھ پینل میں بیٹھے اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ یقینا مرد اداکار کے ایسے ڈانس کو بھی ’آئٹم سانگ‘ ہی کہا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عثمان خالد بٹ کے جواب پر حریم فاروق کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ کہہ رہے ہیں باقی کوئی بھی مرد کے سولو ڈانس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں سمجھ رہا اور درحقیقت یہی بڑا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9fa1c82322.png"  alt="ایونٹ میں شوبز میں خواتین کی اہمیت و افادیت پر بات کی گئی&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایونٹ میں شوبز میں خواتین کی اہمیت و افادیت پر بات کی گئی—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حریم فاروق کی جانب سے ’آئٹم سانگ‘ پر بحث کو چھیڑنے پر پینل کی شریک مہمان صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ بولی وڈ چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور نے اس طرح کے کچھ گانے کیے ہیں، جس میں وہ سولو ڈانس کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی اس پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5cab5f5e4aa21'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081906"&gt;حریم فاروق اور کینیڈین وزیر اعظم بہن بھائی؟&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;پینل کے شرکاء نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد-2‘ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اسی فلم کے ایک گانے میں ہیرو اپنی شرٹ تک اتار دیتے ہیں، تاہم اسے نامناسب یا ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل نے پاکستانی صحافت اور شوبز انڈسٹری میں خواتین کے کردار، اہمیت اور افادیت پر بات کی اور کئی ایسے مسائل کو اجاگر کیا، جن پر عمومی طور پر بات نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل کے شرکاء میں اداکار عثمان خالد بٹ، حریم فاروق، منشا پاشا اور فیفی ہارون شامل تھیں، جب کہ پینل کی میزبانی کے فرائض منال فہیم خان نے نبھائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین فلم سازوں کی کمی پر بات کرنے سمیت انڈسٹری پر مرد فلم سازوں کی فوقیت پر بھی بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9f91e26293.png"  alt="یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں، منشا پاشا&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں، منشا پاشا—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ منشا پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی کم ضرور ہے، مگر اس میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی منشا پاشا نے اس بات سے بھی اختلاف کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی اہمیت و افادیت سمیت خواتین کی جنسیت اور انہیں فلموں، ڈراموں، گانوں اور اشتہارات میں ایک خاص زاویے سے دکھانے جیسے معاملات پر بھی بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل کے شرکاء کا کہنا تھا کہ خواتین کو نہ صرف بعض فلموں اور ڈراموں بلکہ اشتہارات میں بھی جنسیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9f884a8528.png"  alt="اشتہارات میں بھی خواتین کو خصوصی زاویے سے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، خالد عثمان&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اشتہارات میں بھی خواتین کو خصوصی زاویے سے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، خالد عثمان—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خالد عثمان بٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کو اشتہارات میں دکھاتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر ان کا رنگ گورا نہیں ہوگا تو وہ آگے نہیں بڑھ سکیں گی، اسی طرح یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر ان کے جسمانی خدوخال یا بال گھنے اور ڈینڈرف سے آزاد نہیں ہوگے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حریم فاروق نے پینل کے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں اداکارہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز ملنے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cab1c7c35109.jpg"  alt="ملالہ کو بھی نوبل انعام ملنےپر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، فیفی ہارون&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ملالہ کو بھی نوبل انعام ملنےپر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، فیفی ہارون—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب ایک خاتون کو تمغہ امتیاز ملا تو ان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے لیکن جب وہی ایوارڈ کسی مرد کو ملا تو کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حریم فاروق نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099581"&gt;&lt;strong&gt;مہوش حیات کے کردار پر سوالات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اٹھانے والوں نے اس بات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے مرد کو کیسے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی بحث پر صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف مہوش حیات کو تمغہ امتیاز بلکہ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام اور شرمین عبید چنائی کو آسکر ایوارڈ حاصل کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cab1cdc428ac.jpg"  alt="منال فہیم خان نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;منال فہیم خان نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اداکارہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051306"><strong>حریم فاروق</strong></a> نے کہا ہے کہ جب خواتین کسی فلم میں گانے پر ڈانس کرتی ہے تو ان کی پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ کہا جاتا ہے جب کہ کوئی مرد اس طرح کی پرفارمنس کرتا ہے تو اسے ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔</p>

<p>’زیبسٹ‘ میں ہونے والے میڈیا فیسٹیول کے ایک <a href="https://www.facebook.com/szabistofficial/videos/2305621436352420/"><strong>ایونٹ</strong></a> میں پینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے تقریب میں بیٹھے افراد سے سوال کیا کہ جب کسی گانے میں کوئی مرد اداکار سولو (اکیلے) ڈانس کرے، تو کیا اسے بھی ’آئٹم سانگ‘ کہا جانا چاہیے؟</p>

<p>اداکارہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کوئی بھی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حریم فاروق کے ساتھ پینل میں بیٹھے اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ یقینا مرد اداکار کے ایسے ڈانس کو بھی ’آئٹم سانگ‘ ہی کہا جائے گا۔</p>

<p>عثمان خالد بٹ کے جواب پر حریم فاروق کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ کہہ رہے ہیں باقی کوئی بھی مرد کے سولو ڈانس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں سمجھ رہا اور درحقیقت یہی بڑا مسئلہ ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9fa1c82322.png"  alt="ایونٹ میں شوبز میں خواتین کی اہمیت و افادیت پر بات کی گئی&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایونٹ میں شوبز میں خواتین کی اہمیت و افادیت پر بات کی گئی—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>حریم فاروق کی جانب سے ’آئٹم سانگ‘ پر بحث کو چھیڑنے پر پینل کی شریک مہمان صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ بولی وڈ چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور نے اس طرح کے کچھ گانے کیے ہیں، جس میں وہ سولو ڈانس کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی اس پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔</p>

<h6 id='5cab5f5e4aa21'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081906">حریم فاروق اور کینیڈین وزیر اعظم بہن بھائی؟</a></h6>

<p>پینل کے شرکاء نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد-2‘ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اسی فلم کے ایک گانے میں ہیرو اپنی شرٹ تک اتار دیتے ہیں، تاہم اسے نامناسب یا ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔</p>

<p>پینل نے پاکستانی صحافت اور شوبز انڈسٹری میں خواتین کے کردار، اہمیت اور افادیت پر بات کی اور کئی ایسے مسائل کو اجاگر کیا، جن پر عمومی طور پر بات نہیں کی جاتی۔</p>

<p>پینل کے شرکاء میں اداکار عثمان خالد بٹ، حریم فاروق، منشا پاشا اور فیفی ہارون شامل تھیں، جب کہ پینل کی میزبانی کے فرائض منال فہیم خان نے نبھائے۔</p>

<p>پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین فلم سازوں کی کمی پر بات کرنے سمیت انڈسٹری پر مرد فلم سازوں کی فوقیت پر بھی بات کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9f91e26293.png"  alt="یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں، منشا پاشا&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں، منشا پاشا—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اداکارہ منشا پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی کم ضرور ہے، مگر اس میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔</p>

<p>ساتھ ہی منشا پاشا نے اس بات سے بھی اختلاف کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں ہوتی۔</p>

<p>پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی اہمیت و افادیت سمیت خواتین کی جنسیت اور انہیں فلموں، ڈراموں، گانوں اور اشتہارات میں ایک خاص زاویے سے دکھانے جیسے معاملات پر بھی بات کی۔</p>

<p>پینل کے شرکاء کا کہنا تھا کہ خواتین کو نہ صرف بعض فلموں اور ڈراموں بلکہ اشتہارات میں بھی جنسیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca9f884a8528.png"  alt="اشتہارات میں بھی خواتین کو خصوصی زاویے سے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، خالد عثمان&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اشتہارات میں بھی خواتین کو خصوصی زاویے سے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، خالد عثمان—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خالد عثمان بٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کو اشتہارات میں دکھاتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر ان کا رنگ گورا نہیں ہوگا تو وہ آگے نہیں بڑھ سکیں گی، اسی طرح یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر ان کے جسمانی خدوخال یا بال گھنے اور ڈینڈرف سے آزاد نہیں ہوگے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔</p>

<p>حریم فاروق نے پینل کے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں اداکارہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز ملنے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بات کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cab1c7c35109.jpg"  alt="ملالہ کو بھی نوبل انعام ملنےپر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، فیفی ہارون&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ملالہ کو بھی نوبل انعام ملنےپر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، فیفی ہارون—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب ایک خاتون کو تمغہ امتیاز ملا تو ان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے لیکن جب وہی ایوارڈ کسی مرد کو ملا تو کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔</p>

<p>حریم فاروق نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099581"><strong>مہوش حیات کے کردار پر سوالات</strong></a> اٹھانے والوں نے اس بات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے مرد کو کیسے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا؟</p>

<p>اسی بحث پر صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف مہوش حیات کو تمغہ امتیاز بلکہ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام اور شرمین عبید چنائی کو آسکر ایوارڈ حاصل کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cab1cdc428ac.jpg"  alt="منال فہیم خان نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">منال فہیم خان نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101004</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Apr 2019 19:49:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cab1ba299c59.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cab1ba299c59.jpg?0.6656020830312608"/>
        <media:title>حریم فاروق نے مہوش حیات کو عالمی سطح کی اداکارہ قرار دیا —اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
