<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 05:02:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 05:02:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا غیر حقیقی اور خیالی جہان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101141/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cad4ebde5339.jpg"  alt="لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جادوئی چھڑی سے کچھ نہیں بنا۔ تبدیلی کا وعدہ ڈراؤنے خواب میں بدل چکا ہے، لیکن خود کو مبارک باد دینے کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 8 ماہ کی حکمرانی اب تک ایک ایسا سبق بنی ہوئی ہے کہ کس طرح مسلسل غلطی پر غلطی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا تعلق صرف نااہلی اور ناتجربہ کاری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق خود کو نیک دکھانے سے بھی ہے جو خان حکومت کی خاص علامت بن چکی ہے۔ فوری طور پر گورننس کا وعدہ پورا ہوتا دُور دُور تک دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ بدنظمی اور مفلوج انتظامیہ کے سبب معمول کے کام بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ یہ پستی کہیں بھی رکتی نظر نہیں آتی۔ حکومت کی کارکردگی یہ بتارہی ہے کہ عوامی مقبولیت کس حد تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی ان کی حمایت میں آنے والی حکومت لازمی کامیاب ہوگی یہ ضروری نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس پر وہ گزشتہ حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ ٹھیک اسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں متعارف کروارہے ہیں جس کی وہ ماضی میں زبردست انداز میں مخالفت کرچکے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسی اسکیمیں ’کرپشن کو دی جانے والی قانونی شکل‘ کے برابر ہوا کرتی تھیں۔ تو اب یہ کیسے جائز ہوگئیں ہیں؟ لیکن، ہاں ان کے مطابق یوٹرن لینا قیادت کی ایک علامت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ حال ہی میں پنجاب میں قائم پی ٹی آئی حکومت نے جس طرح صوبائی وزرا کے لیے 70 لگژری گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے وہ ان کی کفایت شعائر مہم کو منہ چڑھانے کے مترادف ہے۔ ان نئی خریدی جانے والی گاڑیوں کی کل لاگت یقینی طور پر ان پیسوں سے کہیں زیادہ ہوگی جو وزیرِاعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کی صورت حاصل ہوئے تھے۔ جی وہی گاڑیاں جنہیں وہ ’اسٹیٹس‘ کو کی علامت قرار دیتے تھے جسے توڑنا ضروری تھا۔ ان کے منتخب کردہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کے ’عاجزانہ‘ پس منظر نے بھی اس بڑے منصب کے بعد تاحیات مراعات کے حصول کی کوشش سے باز نہ رکھا۔  &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1100347//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cadd471520b1.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک وقت میں جس صوبے کی انتظامی صورتحال باقی پاکستان سے بہتر بیان کی جاتی تھی، ملک کے اس بڑے اور سب سے طاقتور صوبے کی صورتحال کافی پست نظر آتی ہے۔ قیادت سے عاری صوبائی انتظامیہ سے معاملات طے کرنے میں کثیر الفریقی اور امدادی اداروں کو کافی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلسل نیب کی کڑی جانچ پڑتال کے سائے میں بیوروکریسی کوئی خطرہ مول لینے اور ایسے کسی بھی قسم کے فیصلے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی جو انہیں مشکل سے دوچار کرسکتا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے معاملات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ صوبے میں مسلسل دوسری بار حکمرانی کر رہی پی ٹی آئی حکومت 2017ء میں متعارف ہونے والے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100668"&gt;&lt;strong&gt;میٹرو بس منصوبے سے متعلق شرمناک اسکینڈل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں ملوث نظر آتی ہے۔ تاحال اس نامکمل منصوبے کی لاگت تقریباً 70 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جائزاتی ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں فنڈز کی بدانتظامی اور منصوبے میں دیگر خرابیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ لیکن انسدادِ کرپشن کے علمبرداروں کو اپنے گھر کے پیچھے ہونے والے اس اسکینڈل سے کچھ زیادہ فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بات حزبِ اختلاف کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے احتساب کے الزامات کو بھی تقویت بخشتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097403"&gt;&lt;strong&gt;اعجاز شاہ کی تعیناتی کے بعد وفاقی کابینہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اب اور بھی زیادہ مشرف دور کی نمائندہ نظر آتی ہے۔ سابق آئی بی چیف بلاشبہ کسی قسم کی سیاسی میرٹ پر تعینات نہیں ہوئے ہیں۔ کابینہ میں شامل پرانے چہروں کی بے پناہ موجودگی عمران خان کی جانب سے کیے گئے ان وعدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ کریں گے اور لیڈران کی ایک نسل متعارف کروائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عمران خان جب حزبِ اختلاف کا حصہ تھے تب انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ چند صلاحیت و قابلیت سے بھرپور ٹیکنوکریٹس کو پاکستان لائیں گے، لیکن &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086555"&gt;&lt;strong&gt;عاطف میاں کے معاملے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے بعد کوئی بھی یہاں آنے کو تیار نہیں۔ حکومت میں شامل اعجاز شاہ اور ان جیسے دیگر حضرات کی وجہ سے مشکل ہی ہے کہ پروفیشنل افراد کو آگے بڑھ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب ملے گی۔ پی ٹی آئی کسی بھی دوسری اسٹیٹس کو پارٹی سے مختلف نہیں ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ان پر داغ کم لگے ہوں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عمران خان کی حکومت جس غیر حقیقی اور خیالی جہان میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے اسے وزیرِ خزانہ کے حالیہ اس دعوے سے زیادہ اور کوئی چیز ثابت نہیں کرتی کہ معیشت ’انتہائی نگہداشت‘ کی صورتحال سے باہر ہے اور بحالی کی جانب گامزن ہے۔ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے آخری دور کے لیے واشنگٹن روانگی سے قبل اسد عمر نے یہ واضح کیا کہ ’بحران ٹل گیا ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ انتہائی پُرامیدی سے بھرپور اعلان ایسے وقت میں آیا جب افراطِ زر 2 ہندسوں تک جا پہنچی، روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر نیچے آگئی اور اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دکھائی دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ 9 ماہ کے دوران آمدنی کے حصول میں 300 ارب سے زائد کی ریکارڈ کمی نظر آئی ہے۔ جبکہ رواں برس اقتصادی شرح پیداوار ممکنہ طور پر 3.4 فیصد تک گھٹ جائے گی، اور &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101131"&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگلے سال یہ شرح 2.7 فیصد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تک مزید گھٹ سکتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر معیشت ہرگز مشکل حالات سے باہر نہیں نکلی جس کا اشارہ وزیرِ خزانہ نے دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1097983//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cadd47144348.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسئلے کے نصف حصے کو تو ’استحکام کی خاطر تکلیف‘ سے منسوب کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا زیادہ تر تعلق حکومت کی جانب سے جادوئی معاشیات (voodoo economics) یا غیر حقیقت پسند اور کوتاہ اندیش نظر آنے والی اقتصادی پالیسی پر عمل اور اس غیر یقینی کی صورتحال سے ہے جس کو حکومت کی سستی کے باعث ہوا ملتی رہی ہے۔ اسی کے باعث مقامی سرمایہ کاری بھی کافی کم رہی۔ حکومت کی جانب سے ایسی اصلاحات لانے یا ایسی رعایت دیے جانے کے بہت ہی کم آثار نظر آتے ہیں جن کی مدد سے سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترقیاتی بجٹ میں بھاری کٹوتیاں بھی اقتصادی پیداوار میں سستی کا باعث رہی ہیں۔ افراطِ زر کی بلند شرح اور اس پر پست اقتصادی پیداوار کی وجہ سے حالات افراطی جمود (Stagflation) کی طرف جاسکتے ہیں جس کے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یقیناً دوست ممالک سے لیے گئے ادھار کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی نے ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے تو بچا لیا ہے مگر چونکہ نئے قرضے چڑھتے رہیں گے اس لیے اس مشکل سے چھٹکارا قلیل مدتی ہے۔ وزیرِ خزانہ کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونے کے دعوے کے باوجود بھی موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سب سے بڑا مسئلہ ہی رہے گا۔ پاکستان کا بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکا ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ پریشان کن مسئلہ اس سست و کاہل معیشت اور آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث بد سے بدتر ہوتی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے 50 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ پورا ہوتا بہت ہی کٹھن نظر آتا ہے۔ تاہم آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واؤڈا نے اعلان کیا کہ اگلے چند ہفتوں میں پاکستان میں اتنی زیادہ ملازمتوں کے مواقع موجود ہوں گے کہ یہاں نوکریوں کے مقابلے میں لوگ کم پڑجائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاید وہ اپنے وزیرِاعظم کے اس بیان سے کافی متاثر ہوچکے ہیں کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099934"&gt;&lt;strong&gt;پاکستان تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرنے کے دہانے پر ہے جس کے بعد ہمارا ملک تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک بن جائے گا اور یوں اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ موٹر سائیکل دوڑانے اور &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097327"&gt;&lt;strong&gt;اسپورٹس گاڑیوں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی کلیکشن کے شوقین یہ وزیر ستم ظریفانہ طور پر اس غیر حقیقی اور خیالی جہان کے ’لاپرواہ عملے‘ کا حصہ ہیں جس میں رہ کر پی ٹی آئی کام کرتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1475122/pti-in-la-la-land"&gt;مضمون&lt;/a&gt; 10 اپریل 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cad4ebde5339.jpg"  alt="لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جادوئی چھڑی سے کچھ نہیں بنا۔ تبدیلی کا وعدہ ڈراؤنے خواب میں بدل چکا ہے، لیکن خود کو مبارک باد دینے کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 8 ماہ کی حکمرانی اب تک ایک ایسا سبق بنی ہوئی ہے کہ کس طرح مسلسل غلطی پر غلطی کی جاتی ہے۔</p>

<p>اس کا تعلق صرف نااہلی اور ناتجربہ کاری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق خود کو نیک دکھانے سے بھی ہے جو خان حکومت کی خاص علامت بن چکی ہے۔ فوری طور پر گورننس کا وعدہ پورا ہوتا دُور دُور تک دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ بدنظمی اور مفلوج انتظامیہ کے سبب معمول کے کام بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ یہ پستی کہیں بھی رکتی نظر نہیں آتی۔ حکومت کی کارکردگی یہ بتارہی ہے کہ عوامی مقبولیت کس حد تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی ان کی حمایت میں آنے والی حکومت لازمی کامیاب ہوگی یہ ضروری نہیں ہے۔ </p>

<p>عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس پر وہ گزشتہ حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ ٹھیک اسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں متعارف کروارہے ہیں جس کی وہ ماضی میں زبردست انداز میں مخالفت کرچکے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسی اسکیمیں ’کرپشن کو دی جانے والی قانونی شکل‘ کے برابر ہوا کرتی تھیں۔ تو اب یہ کیسے جائز ہوگئیں ہیں؟ لیکن، ہاں ان کے مطابق یوٹرن لینا قیادت کی ایک علامت ہے۔ </p>

<p>جبکہ حال ہی میں پنجاب میں قائم پی ٹی آئی حکومت نے جس طرح صوبائی وزرا کے لیے 70 لگژری گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے وہ ان کی کفایت شعائر مہم کو منہ چڑھانے کے مترادف ہے۔ ان نئی خریدی جانے والی گاڑیوں کی کل لاگت یقینی طور پر ان پیسوں سے کہیں زیادہ ہوگی جو وزیرِاعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کی صورت حاصل ہوئے تھے۔ جی وہی گاڑیاں جنہیں وہ ’اسٹیٹس‘ کو کی علامت قرار دیتے تھے جسے توڑنا ضروری تھا۔ ان کے منتخب کردہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کے ’عاجزانہ‘ پس منظر نے بھی اس بڑے منصب کے بعد تاحیات مراعات کے حصول کی کوشش سے باز نہ رکھا۔  </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1100347//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cadd471520b1.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک وقت میں جس صوبے کی انتظامی صورتحال باقی پاکستان سے بہتر بیان کی جاتی تھی، ملک کے اس بڑے اور سب سے طاقتور صوبے کی صورتحال کافی پست نظر آتی ہے۔ قیادت سے عاری صوبائی انتظامیہ سے معاملات طے کرنے میں کثیر الفریقی اور امدادی اداروں کو کافی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلسل نیب کی کڑی جانچ پڑتال کے سائے میں بیوروکریسی کوئی خطرہ مول لینے اور ایسے کسی بھی قسم کے فیصلے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی جو انہیں مشکل سے دوچار کرسکتا ہو۔</p>

<p>خیبرپختونخوا کے معاملات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ صوبے میں مسلسل دوسری بار حکمرانی کر رہی پی ٹی آئی حکومت 2017ء میں متعارف ہونے والے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100668"><strong>میٹرو بس منصوبے سے متعلق شرمناک اسکینڈل</strong></a> میں ملوث نظر آتی ہے۔ تاحال اس نامکمل منصوبے کی لاگت تقریباً 70 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ </p>

<p>جائزاتی ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں فنڈز کی بدانتظامی اور منصوبے میں دیگر خرابیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ لیکن انسدادِ کرپشن کے علمبرداروں کو اپنے گھر کے پیچھے ہونے والے اس اسکینڈل سے کچھ زیادہ فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بات حزبِ اختلاف کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے احتساب کے الزامات کو بھی تقویت بخشتی ہے۔ </p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097403"><strong>اعجاز شاہ کی تعیناتی کے بعد وفاقی کابینہ</strong></a> اب اور بھی زیادہ مشرف دور کی نمائندہ نظر آتی ہے۔ سابق آئی بی چیف بلاشبہ کسی قسم کی سیاسی میرٹ پر تعینات نہیں ہوئے ہیں۔ کابینہ میں شامل پرانے چہروں کی بے پناہ موجودگی عمران خان کی جانب سے کیے گئے ان وعدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ کریں گے اور لیڈران کی ایک نسل متعارف کروائیں گے۔</p>

<p>عمران خان جب حزبِ اختلاف کا حصہ تھے تب انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ چند صلاحیت و قابلیت سے بھرپور ٹیکنوکریٹس کو پاکستان لائیں گے، لیکن <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086555"><strong>عاطف میاں کے معاملے</strong></a> کے بعد کوئی بھی یہاں آنے کو تیار نہیں۔ حکومت میں شامل اعجاز شاہ اور ان جیسے دیگر حضرات کی وجہ سے مشکل ہی ہے کہ پروفیشنل افراد کو آگے بڑھ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب ملے گی۔ پی ٹی آئی کسی بھی دوسری اسٹیٹس کو پارٹی سے مختلف نہیں ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ان پر داغ کم لگے ہوں۔ </p>

<p>عمران خان کی حکومت جس غیر حقیقی اور خیالی جہان میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے اسے وزیرِ خزانہ کے حالیہ اس دعوے سے زیادہ اور کوئی چیز ثابت نہیں کرتی کہ معیشت ’انتہائی نگہداشت‘ کی صورتحال سے باہر ہے اور بحالی کی جانب گامزن ہے۔ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے آخری دور کے لیے واشنگٹن روانگی سے قبل اسد عمر نے یہ واضح کیا کہ ’بحران ٹل گیا ہے‘۔ </p>

<p>یہ انتہائی پُرامیدی سے بھرپور اعلان ایسے وقت میں آیا جب افراطِ زر 2 ہندسوں تک جا پہنچی، روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر نیچے آگئی اور اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دکھائی دی۔ </p>

<p>گزشتہ 9 ماہ کے دوران آمدنی کے حصول میں 300 ارب سے زائد کی ریکارڈ کمی نظر آئی ہے۔ جبکہ رواں برس اقتصادی شرح پیداوار ممکنہ طور پر 3.4 فیصد تک گھٹ جائے گی، اور <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101131"><strong>ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگلے سال یہ شرح 2.7 فیصد</strong></a> تک مزید گھٹ سکتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر معیشت ہرگز مشکل حالات سے باہر نہیں نکلی جس کا اشارہ وزیرِ خزانہ نے دیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1097983//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cadd47144348.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مسئلے کے نصف حصے کو تو ’استحکام کی خاطر تکلیف‘ سے منسوب کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا زیادہ تر تعلق حکومت کی جانب سے جادوئی معاشیات (voodoo economics) یا غیر حقیقت پسند اور کوتاہ اندیش نظر آنے والی اقتصادی پالیسی پر عمل اور اس غیر یقینی کی صورتحال سے ہے جس کو حکومت کی سستی کے باعث ہوا ملتی رہی ہے۔ اسی کے باعث مقامی سرمایہ کاری بھی کافی کم رہی۔ حکومت کی جانب سے ایسی اصلاحات لانے یا ایسی رعایت دیے جانے کے بہت ہی کم آثار نظر آتے ہیں جن کی مدد سے سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ </p>

<p>ترقیاتی بجٹ میں بھاری کٹوتیاں بھی اقتصادی پیداوار میں سستی کا باعث رہی ہیں۔ افراطِ زر کی بلند شرح اور اس پر پست اقتصادی پیداوار کی وجہ سے حالات افراطی جمود (Stagflation) کی طرف جاسکتے ہیں جس کے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ </p>

<p>یقیناً دوست ممالک سے لیے گئے ادھار کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی نے ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے تو بچا لیا ہے مگر چونکہ نئے قرضے چڑھتے رہیں گے اس لیے اس مشکل سے چھٹکارا قلیل مدتی ہے۔ وزیرِ خزانہ کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونے کے دعوے کے باوجود بھی موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سب سے بڑا مسئلہ ہی رہے گا۔ پاکستان کا بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکا ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ </p>

<p>اس سے بھی زیادہ پریشان کن مسئلہ اس سست و کاہل معیشت اور آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث بد سے بدتر ہوتی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے 50 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ پورا ہوتا بہت ہی کٹھن نظر آتا ہے۔ تاہم آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واؤڈا نے اعلان کیا کہ اگلے چند ہفتوں میں پاکستان میں اتنی زیادہ ملازمتوں کے مواقع موجود ہوں گے کہ یہاں نوکریوں کے مقابلے میں لوگ کم پڑجائیں گے۔</p>

<p>شاید وہ اپنے وزیرِاعظم کے اس بیان سے کافی متاثر ہوچکے ہیں کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099934"><strong>پاکستان تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت</strong></a> کرنے کے دہانے پر ہے جس کے بعد ہمارا ملک تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک بن جائے گا اور یوں اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ موٹر سائیکل دوڑانے اور <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097327"><strong>اسپورٹس گاڑیوں</strong></a> کی کلیکشن کے شوقین یہ وزیر ستم ظریفانہ طور پر اس غیر حقیقی اور خیالی جہان کے ’لاپرواہ عملے‘ کا حصہ ہیں جس میں رہ کر پی ٹی آئی کام کرتی ہے۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ <a href="https://www.dawn.com/news/1475122/pti-in-la-la-land">مضمون</a> 10 اپریل 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101141</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Apr 2019 12:00:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cadd37257035.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cadd37257035.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
