<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 20:23:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 20:23:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ووٹنگ سے پہلے بھارتی سیاستدان کی ووٹرز کو دھمکی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101206/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کے لیے پہلے مرحلے میں 11 اپریل کو ووٹنگ شروع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات آئندہ ماہ 19 مئی تک جاری رہیں اور اس دوران مزید 6 مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں بھارت کی 20 ریاستوں اور وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں میں ووٹنگ 11 اپریل سے شروع ہوئی، جس میں مجموعی طور پر بھارت کے 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد حق رائی دہے کا استعمال کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں جہاں انتخابات ہو رہے ہیں ان ریاستوں میں مغربی بنگال بھی شامل ہے جو آبادی کے لحاظ سے بھارت کی چوتھی بڑی ریاست ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5cb0320774547'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101176/"&gt;بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اس ریاست میں لوک سبھا کی مجموعی طور پر 42 نشستیں ہیں اور یہاں سے عام طور پر آل انڈیا ترینیمول کانگریس یعنی (آئی اے ٹی سی) یا (ٹی ایم سی) کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5caf2290f1fe0.jpg"  alt="کھوکن میاں کا تعلق ممتا بینرجی کی جماعت سے ہے&amp;mdash;فوٹو: ڈی این اے انڈیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کھوکن میاں کا تعلق ممتا بینرجی کی جماعت سے ہے—فوٹو: ڈی این اے انڈیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت اس ریاست میں اسی پارٹی کی حکومت بھی ہے اور اس پارٹی کی سربراہ ممتا بینرجی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ریاست میں 11 اپریل کو لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کے آغاز سے ایک دن قبل ہی اس پارٹی کے اہم رہنما کی جانب سے ووٹرز کو دھمکیاں دیتے ہوئے سنا گیا اور ان کی جانب سے ووٹرز کو دھمکیاں دینے کی شکایت بھارتی الیکشن کمیشن کو بھی کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5cb03207745c0'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100783/"&gt;بھارت: کس مرحلے میں، کہاں اور کیسے انتخابات ہوں گے؟&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;نشریاتی ادارے ’زی‘ کی جانب سے ٹی ایم سی مغربی بنگال کے رہنما کھوکن میاں کی جاری کی گئی آڈیو کلپ میں انہیں ووٹرز کو واضح طور پر دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی این اے انڈیا نے اپنی &lt;a href="https://www.dnaindia.com/india/photo-gallery-bengal-purported-audio-clip-of-tmc-leader-s-advice-to-ensure-setting-and-rigging-goes-viral-2738454"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ کھوکن میاں کی جانب سے مغربی بنگال کے حلقے کوچ بہار میں ووٹرز کو مقامی زبان میں دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھوکن میاں کی جانب سے ووٹرز کو مقامی زبان میں واضح طور پر ہدایت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیو کلپ میں کھوکن میاں ووٹرز کو کہتے سنائی دیتے ہیں کہ 100 فیصد ووٹ ٹی ایم سی کو ہی ملنے چاہیے اور غلطی سے بھی کوئی ووٹ دوسری پارٹی کو نہ پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹی ایم سی رہنما آڈیو کلپ میں مزید کہتے ہیں کہ اگر کوئی ووٹر ان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دے گا تو اس کا علم انہیں ہوجائے گا، کیوں کہ زیادہ تر الیکشن عملہ ان کے ماتحت خدمات سر انجام دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھوکن میاں مزید کہتے ہیں کہ کوچ بہار حلقے میں زیادہ تر مرکزی پولیس یا فوج کے اہلکار الیکشن عملے کے ساتھ نہیں آئیں گے، اسی لیے 100 فیصد ووٹ ٹی ایم سی کو ہی پڑنے چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کا عملہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہوگا مگر درحقیقت وہ ان کے ماتحت ہی کام کریں گے، اس لیے اگر کوئی ووٹر ٹی ایم سی کو ووٹ نہیں دے گا تو اس کا علم پارٹی کو ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی این اے انڈیا نے بتایا کہ کھوکن میاں کی آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد مرکزی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الیکشن کمیشن میں شکایت کردی اور ان کی آڈیو کلپ کو بھی جمع کروادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب کھوکن میاں نے آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد اسے اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اسے بی جے پی کا حربہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/vyr39q7jNA8?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کے لیے پہلے مرحلے میں 11 اپریل کو ووٹنگ شروع ہوئی۔</strong></p>

<p>بھارت میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات آئندہ ماہ 19 مئی تک جاری رہیں اور اس دوران مزید 6 مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔</p>

<p>پہلے مرحلے میں بھارت کی 20 ریاستوں اور وفاقی حکومت کے ماتحت علاقوں میں ووٹنگ 11 اپریل سے شروع ہوئی، جس میں مجموعی طور پر بھارت کے 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد حق رائی دہے کا استعمال کریں گے۔</p>

<p>پہلے مرحلے میں جہاں انتخابات ہو رہے ہیں ان ریاستوں میں مغربی بنگال بھی شامل ہے جو آبادی کے لحاظ سے بھارت کی چوتھی بڑی ریاست ہے۔</p>

<h6 id='5cb0320774547'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101176/">بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ</a></h6>

<p>اس ریاست میں لوک سبھا کی مجموعی طور پر 42 نشستیں ہیں اور یہاں سے عام طور پر آل انڈیا ترینیمول کانگریس یعنی (آئی اے ٹی سی) یا (ٹی ایم سی) کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5caf2290f1fe0.jpg"  alt="کھوکن میاں کا تعلق ممتا بینرجی کی جماعت سے ہے&mdash;فوٹو: ڈی این اے انڈیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کھوکن میاں کا تعلق ممتا بینرجی کی جماعت سے ہے—فوٹو: ڈی این اے انڈیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس وقت اس ریاست میں اسی پارٹی کی حکومت بھی ہے اور اس پارٹی کی سربراہ ممتا بینرجی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بھی ہیں۔</p>

<p>اسی ریاست میں 11 اپریل کو لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کے آغاز سے ایک دن قبل ہی اس پارٹی کے اہم رہنما کی جانب سے ووٹرز کو دھمکیاں دیتے ہوئے سنا گیا اور ان کی جانب سے ووٹرز کو دھمکیاں دینے کی شکایت بھارتی الیکشن کمیشن کو بھی کردی گئی۔</p>

<h6 id='5cb03207745c0'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1100783/">بھارت: کس مرحلے میں، کہاں اور کیسے انتخابات ہوں گے؟</a></h6>

<p>نشریاتی ادارے ’زی‘ کی جانب سے ٹی ایم سی مغربی بنگال کے رہنما کھوکن میاں کی جاری کی گئی آڈیو کلپ میں انہیں ووٹرز کو واضح طور پر دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔</p>

<p>ڈی این اے انڈیا نے اپنی <a href="https://www.dnaindia.com/india/photo-gallery-bengal-purported-audio-clip-of-tmc-leader-s-advice-to-ensure-setting-and-rigging-goes-viral-2738454"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا کہ کھوکن میاں کی جانب سے مغربی بنگال کے حلقے کوچ بہار میں ووٹرز کو مقامی زبان میں دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔</p>

<p>کھوکن میاں کی جانب سے ووٹرز کو مقامی زبان میں واضح طور پر ہدایت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔</p>

<p>آڈیو کلپ میں کھوکن میاں ووٹرز کو کہتے سنائی دیتے ہیں کہ 100 فیصد ووٹ ٹی ایم سی کو ہی ملنے چاہیے اور غلطی سے بھی کوئی ووٹ دوسری پارٹی کو نہ پڑے۔</p>

<p>ٹی ایم سی رہنما آڈیو کلپ میں مزید کہتے ہیں کہ اگر کوئی ووٹر ان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دے گا تو اس کا علم انہیں ہوجائے گا، کیوں کہ زیادہ تر الیکشن عملہ ان کے ماتحت خدمات سر انجام دے رہا ہے۔</p>

<p>کھوکن میاں مزید کہتے ہیں کہ کوچ بہار حلقے میں زیادہ تر مرکزی پولیس یا فوج کے اہلکار الیکشن عملے کے ساتھ نہیں آئیں گے، اسی لیے 100 فیصد ووٹ ٹی ایم سی کو ہی پڑنے چاہیے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کا عملہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہوگا مگر درحقیقت وہ ان کے ماتحت ہی کام کریں گے، اس لیے اگر کوئی ووٹر ٹی ایم سی کو ووٹ نہیں دے گا تو اس کا علم پارٹی کو ہوجائے گا۔</p>

<p>ڈی این اے انڈیا نے بتایا کہ کھوکن میاں کی آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد مرکزی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الیکشن کمیشن میں شکایت کردی اور ان کی آڈیو کلپ کو بھی جمع کروادیا۔</p>

<p>دوسری جانب کھوکن میاں نے آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد اسے اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اسے بی جے پی کا حربہ قرار دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/vyr39q7jNA8?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101206</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Apr 2019 11:36:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5caf222926f07.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5caf222926f07.jpg"/>
        <media:title>دوسرے مرحلے میں 18 اپریل کو ووٹنگ ہوگی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
