<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 03:44:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 03:44:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیڑھ سال بعد آنے والی معاشی ترقی پائیدار ہوگی، اسد عمر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101274/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر خارجہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا اور حکومت معاشی بہتری کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واشنگٹن کے سفارتخانے میں پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی 5سالہ مدت کے 3مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں ابتدائی چند ماہ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101177/"&gt;اسد عمر کی عالمی بینک کے صدر اور آئی ایم ایف حکام سے ملاقات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ ہمیں ملکی معیشت میں استحکام کے لیے 2سال اور تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہو گا جو میرے خیال میں اب بھی ایک اچھا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر منگل کو وفد کے ہمراہ واشنگٹن پہنچے تھے اور روانگی سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اُمید ظاہر کی تھی کہ ان کے 2 روزہ دورہ امریکا کے دوران مجوزہ آئی ایم ایف پیکج کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے کہا کہ ہمیں معیشت کی بہتری میں مزید 18ماہ لگیں گے جس کے بعد بہتری آنا شروع ہو گی لیکن ہمیں اس بات پر یقین ہے اس مرتبہ اقتصادی ترقی پائیدار ہو گی اور یہ مالی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متاثر نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ٹی20 کے بجائے 5روزہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101261/"&gt;ترقیاتی منصوبوں پر 9 ماہ کے دوران 449 ارب روپے کی کم رقم خرچ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا بار بار سامنا ہے اور مجھے کوئی ایسی حکومت یاد نہیں پڑتی جسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور اس نے آئی ایم ایف سے مدد طلب نہ کی ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے 1988، 1999، 2008، 2013 اور 2018 میں بحرانی صورتحال ایک ہی طرح کی تھی، اس کا مطلب یہ ہے ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہے اور اسی لیے حکومت ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ قومی معیشت کے بہترین مفاد میں کیا گیا اور آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد تکنیکی معاملات طے کرنے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی پیشکش کی تھی، خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101205/"&gt;کراچی: ایک اور بے نامی اکاؤنٹ میں 36 کروڑ روپے کی موجودگی کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے اپنی معیشت میں بہتری کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک مرتبہ پھر مالی معاونت طلب کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اس کی آئی ایم ایف سینئر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اتوار کو عالمی بینک نے کہا تھا کہ سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو آئندہ مالی سال میں مزید 2.7 فیصد کم ہو گی جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واشنگٹن میں موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے وفد میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا، معاشی امور کے ڈویژن سیکریٹری نور احمد اور ان اداروں کے دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر خارجہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا اور حکومت معاشی بہتری کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔</p>

<p>واشنگٹن کے سفارتخانے میں پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی 5سالہ مدت کے 3مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں ابتدائی چند ماہ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101177/">اسد عمر کی عالمی بینک کے صدر اور آئی ایم ایف حکام سے ملاقات</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ ہمیں ملکی معیشت میں استحکام کے لیے 2سال اور تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہو گا جو میرے خیال میں اب بھی ایک اچھا اندازہ ہے۔</p>

<p>اسد عمر منگل کو وفد کے ہمراہ واشنگٹن پہنچے تھے اور روانگی سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اُمید ظاہر کی تھی کہ ان کے 2 روزہ دورہ امریکا کے دوران مجوزہ آئی ایم ایف پیکج کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔</p>

<p>اسد عمر نے کہا کہ ہمیں معیشت کی بہتری میں مزید 18ماہ لگیں گے جس کے بعد بہتری آنا شروع ہو گی لیکن ہمیں اس بات پر یقین ہے اس مرتبہ اقتصادی ترقی پائیدار ہو گی اور یہ مالی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متاثر نہیں ہو گی۔</p>

<p>’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ٹی20 کے بجائے 5روزہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101261/">ترقیاتی منصوبوں پر 9 ماہ کے دوران 449 ارب روپے کی کم رقم خرچ</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا بار بار سامنا ہے اور مجھے کوئی ایسی حکومت یاد نہیں پڑتی جسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور اس نے آئی ایم ایف سے مدد طلب نہ کی ہو۔</p>

<p>انہوں نے 1988، 1999، 2008، 2013 اور 2018 میں بحرانی صورتحال ایک ہی طرح کی تھی، اس کا مطلب یہ ہے ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہے اور اسی لیے حکومت ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔</p>

<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ قومی معیشت کے بہترین مفاد میں کیا گیا اور آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد تکنیکی معاملات طے کرنے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان پہنچے گا۔</p>

<p>اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی پیشکش کی تھی، خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101205/">کراچی: ایک اور بے نامی اکاؤنٹ میں 36 کروڑ روپے کی موجودگی کا انکشاف</a></strong></p>

<p>پاکستان نے اپنی معیشت میں بہتری کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک مرتبہ پھر مالی معاونت طلب کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اس کی آئی ایم ایف سینئر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔</p>

<p>اتوار کو عالمی بینک نے کہا تھا کہ سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو آئندہ مالی سال میں مزید 2.7 فیصد کم ہو گی جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔</p>

<p>واشنگٹن میں موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے وفد میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا، معاشی امور کے ڈویژن سیکریٹری نور احمد اور ان اداروں کے دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101274</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Apr 2019 16:19:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb05fd7aae4a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb05fd7aae4a.jpg"/>
        <media:title>اسد عمر آئی ایم ایف مذاکرات کے لیے وفد کے ہمراہ واشنگٹن میں موجود ہیں— فائل فوٹو: وائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
