<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:31:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:31:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک میں بڑی تبدیلی متعارف ہونے کے لیے تیار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101293/</link>
      <description>&lt;p&gt;کچھ سال پہلے فیس بک نے اپنے اسمارٹ فون صارفین میں دوستوں سے چیٹ کے لیے میسنجر ایپ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی تھی اور موبائل ایپ پر سے پیغامات بھیجنے کا آپشن ہی ختم کرکے میسجنگ ایپ کو لازمی بنادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096216' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb08db32c814.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب لگتا ہے کہ فیس بک اپنی اس حکمت عملی پر یوٹرن لینے والی ہے اور ایک بار اپنی مرکزی ایپ میں مسیجنگ کو واپس لانے والی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایپ محقق اور ٹوئٹر صارف جین مین چون وونگ نے فیس بک کی اس نئی تبدیلی کا اسکرین شاٹ ٹوئیٹ کیا جس پر ابھی کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تصویر سے فیس بک ایپ کے اوپری دائیں جانب میسجنگ کے لیے ایک نیا ٹیب نظر آرہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1116557782193299456"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت فیس بک ایپ اور موبائل ویب سائٹ پر یہ چیٹ بٹن میسنجر ایپ کے شارٹ کٹ کا کام کرتا ہے اور اگر میسنجر ڈیوائس میں انسٹال نہ ہو تو یہ شارٹ کٹ ایپ اسٹور یا گوگل پلے اسٹور کی جانب بھی لے جاتا ہے، تاہم موبائل ویب پر ریٹرن جاکر چیٹ کرنا ممکن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیس بک نے 2011 میں میسنجر کو خودمختار ایپ کے طور پر متعارف کرایا تھا اور 2014 میں فیس بک ایپ میں چیٹ کا آپشن ختم کرکے میسنجر کو لازمی بنادیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جین مین چون وونگ نے ایک اور &lt;a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1116624099306901504"&gt;ٹوئیٹ&lt;/a&gt; میں بتایا کہ فیس بک میں چیٹ میں فیچرز کم ہوں گے یعنی بس میسج بھیج یا موصول ہوسکیں گے جبکہ کالز، فوٹوز یا ویڈیو کال کے لیے میسنجر ایپ کی ہی مدد لینا ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب 5 سال بعد فیس بک میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو اکھٹا کرنے پر کام کررہی ہے، تو مرکزی ایپ پر چیٹ کی سہولت بھی واپس آرہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ فیس بک میں یہ تبدیلی کب تک تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگی مگر یہ کافی بڑا ریلیف ضرور ہوگا، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو میسنجر کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کچھ سال پہلے فیس بک نے اپنے اسمارٹ فون صارفین میں دوستوں سے چیٹ کے لیے میسنجر ایپ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی تھی اور موبائل ایپ پر سے پیغامات بھیجنے کا آپشن ہی ختم کرکے میسجنگ ایپ کو لازمی بنادیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096216' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb08db32c814.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر اب لگتا ہے کہ فیس بک اپنی اس حکمت عملی پر یوٹرن لینے والی ہے اور ایک بار اپنی مرکزی ایپ میں مسیجنگ کو واپس لانے والی ہے۔</p>

<p>ایپ محقق اور ٹوئٹر صارف جین مین چون وونگ نے فیس بک کی اس نئی تبدیلی کا اسکرین شاٹ ٹوئیٹ کیا جس پر ابھی کیا جارہا ہے۔</p>

<p>اس تصویر سے فیس بک ایپ کے اوپری دائیں جانب میسجنگ کے لیے ایک نیا ٹیب نظر آرہا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1116557782193299456"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس وقت فیس بک ایپ اور موبائل ویب سائٹ پر یہ چیٹ بٹن میسنجر ایپ کے شارٹ کٹ کا کام کرتا ہے اور اگر میسنجر ڈیوائس میں انسٹال نہ ہو تو یہ شارٹ کٹ ایپ اسٹور یا گوگل پلے اسٹور کی جانب بھی لے جاتا ہے، تاہم موبائل ویب پر ریٹرن جاکر چیٹ کرنا ممکن ہے۔</p>

<p>فیس بک نے 2011 میں میسنجر کو خودمختار ایپ کے طور پر متعارف کرایا تھا اور 2014 میں فیس بک ایپ میں چیٹ کا آپشن ختم کرکے میسنجر کو لازمی بنادیا گیا تھا۔</p>

<p>جین مین چون وونگ نے ایک اور <a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1116624099306901504">ٹوئیٹ</a> میں بتایا کہ فیس بک میں چیٹ میں فیچرز کم ہوں گے یعنی بس میسج بھیج یا موصول ہوسکیں گے جبکہ کالز، فوٹوز یا ویڈیو کال کے لیے میسنجر ایپ کی ہی مدد لینا ہوگی۔</p>

<p>اب 5 سال بعد فیس بک میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو اکھٹا کرنے پر کام کررہی ہے، تو مرکزی ایپ پر چیٹ کی سہولت بھی واپس آرہی ہے۔</p>

<p>یہ واضح نہیں کہ فیس بک میں یہ تبدیلی کب تک تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگی مگر یہ کافی بڑا ریلیف ضرور ہوگا، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو میسنجر کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101293</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Apr 2019 18:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb08cf8b4c1a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb08cf8b4c1a.jpg"/>
        <media:title>فیس بک میں اس فیچر پر کام ہورہا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
