<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:18:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 15:18:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم جونگ ان، ڈونلڈ ٹرمپ تیسری ملاقات کے لیے تیار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101383/</link>
      <description>&lt;p&gt;کم جونگ ان کی جانب سے واشنگٹن کے ’صحیح رویے‘ ملاقات کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہونے کے بیان کے بعد امریکی صدر نے بھی شمالی کوریا سے تیسری سمٹ کی حمایت کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا سے ویتنام میں ہونے والے دوسرے سمٹ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے پر کم جون ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے آخر تک امریکا کی جانب سے بہادرانہ فیصلہ کیے جانے کا انتظار کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے آپس میں تعلقات کے بہترین ہونے کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098775"&gt;شمالی کوریا کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے امریکا کا 'فول ایگل' مشقوں کے اختتام کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں کم جونگ ان سے متفق ہوں کہ ہمارے ذاتی تعلقات کو بہتر ہونا چاہیے، بلکہ یہاں بہترین کا لفظ ہی ٹھیک ہوگا اور ہمارے درمیان تیسرا سمٹ ایک دوسرے کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اچھا ہوگا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1117033379776667648"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ سمٹ کی ناکامی کی ذمہ داری واشنگٹن نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار ترک کرنے کے لیے پابندی میں نرمی کے مطالبے کو ٹھہرایا تھا جبکہ پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف چند اقدامات میں آسانی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ آہستہ آہستہ چیزیں بہتر ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’شمالی کوریا میں کم جونگ ان کی قیادت میں غیر معمولی نمو، معاشی ترقی کی صلاحیت ہے اور مجھے اس دن کا انتظار ہے، جو جلد آئے گا جب جوہری ہتھیار اور پابندیاں ختم ہوں گی اور شمالی کوریا دنیا کے کامیاب ترین ملکوں میں شامل ہوجائے گا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کم جونگ ان کی جانب سے واشنگٹن کے ’صحیح رویے‘ ملاقات کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہونے کے بیان کے بعد امریکی صدر نے بھی شمالی کوریا سے تیسری سمٹ کی حمایت کردی۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا سے ویتنام میں ہونے والے دوسرے سمٹ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے پر کم جون ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے آخر تک امریکا کی جانب سے بہادرانہ فیصلہ کیے جانے کا انتظار کریں گے۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے آپس میں تعلقات کے بہترین ہونے کی نشاندہی کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1098775">شمالی کوریا کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے امریکا کا 'فول ایگل' مشقوں کے اختتام کا اعلان</a></strong> </p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں کم جونگ ان سے متفق ہوں کہ ہمارے ذاتی تعلقات کو بہتر ہونا چاہیے، بلکہ یہاں بہترین کا لفظ ہی ٹھیک ہوگا اور ہمارے درمیان تیسرا سمٹ ایک دوسرے کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اچھا ہوگا‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1117033379776667648"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ سمٹ کی ناکامی کی ذمہ داری واشنگٹن نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار ترک کرنے کے لیے پابندی میں نرمی کے مطالبے کو ٹھہرایا تھا جبکہ پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف چند اقدامات میں آسانی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ آہستہ آہستہ چیزیں بہتر ہوں گی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’شمالی کوریا میں کم جونگ ان کی قیادت میں غیر معمولی نمو، معاشی ترقی کی صلاحیت ہے اور مجھے اس دن کا انتظار ہے، جو جلد آئے گا جب جوہری ہتھیار اور پابندیاں ختم ہوں گی اور شمالی کوریا دنیا کے کامیاب ترین ملکوں میں شامل ہوجائے گا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101383</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Apr 2019 00:41:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb238eeedeb2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb238eeedeb2.jpg"/>
        <media:title>ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کردی — فائل فوٹو/رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
