<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:05:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:05:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا میں اقتدار پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی، 121 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101448/</link>
      <description>&lt;p&gt;لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی اور عسکری گروپ ہفتر کی جانب سے حکومت کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 121 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتر کی فورسز اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں دونوں فریقین نے پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دونوں میں سے کسی کی بھی فورسز زیادہ آگے نہیں بڑھ سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094117"&gt;لیبیا: وزارت خارجہ کی عمارت پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 10 زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4 اپریل سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں اب تک 121 افراد ہلاک اور 560 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور وہ طبی امداد کے لیے مزید عملہ اور ادویات بھیج رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ اس کے عملے اور گاڑیوں پر حملے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ ہفتے کو طبی عملے کے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر عالمی قوتوں نے تشویش کا اظہار کیا جہاں 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ افواج کی جانب سے سابق آمر معمر قذافی کو ہٹائے جانے کے بعد سے ملک مستقل مشکلات کا شکار ہے، اس کے بعد سے مختلف قوتوں کی جانب سے ملک کے اقتدار پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتر کی جانب سے یہ جارحیت ایک ایسے موقع پر کی گئی، جب ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے رواں ماہ ایک کانفرنس شروع ہونے والی تھی تاہم اب اقوام متحدہ نے اس کانفرنس کو منسوخ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086791"&gt;لیبیا: نیشنل آئل کارپوریشن پر دہشت گرد حملے، 2 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیبیا کی نیشنل آرمی چلانے والے ہفتر ملک کے مشرق میں واقع اپنے مرکز سے تیزی سے دارالحکومت کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ فیاض السراج موجود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اتحادی حکومت کا کہنا تھا کہ افواج نے اتوار کو ہفتر کی فورسز کا جنگی طیارہ مار گرایا جو جنوبی طرابلس میں فضائی حملے کی تیاری کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ہفتر نے مصر کے صدر عبدالفتح ال سیسی سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ لیبیا میں امن و استحکام کے لیے ان کی کوششوں کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سیسی نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جہاں ہفتر کو عرب ریاستوں اور روس کی بھی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077949"&gt;لیبیا: الیکٹورل کمیشن میں خودکش حملہ، 12 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی طرابلس میں جھڑپوں کے باعث لوگوں نے اپنے گھروں سے نقل مکانی شروع کردی ہے، 13ہزار سے زائد افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ 900 سے زائد پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں فریقین کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ رپورٹ 15 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی اور عسکری گروپ ہفتر کی جانب سے حکومت کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 121 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>

<p>ہفتر کی فورسز اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں دونوں فریقین نے پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دونوں میں سے کسی کی بھی فورسز زیادہ آگے نہیں بڑھ سکیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094117">لیبیا: وزارت خارجہ کی عمارت پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 10 زخمی</a></strong></p>

<p>عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4 اپریل سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں اب تک 121 افراد ہلاک اور 560 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور وہ طبی امداد کے لیے مزید عملہ اور ادویات بھیج رہے ہیں۔</p>

<p>سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ اس کے عملے اور گاڑیوں پر حملے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ ہفتے کو طبی عملے کے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی گئی تھی۔</p>

<p>تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر عالمی قوتوں نے تشویش کا اظہار کیا جہاں 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ افواج کی جانب سے سابق آمر معمر قذافی کو ہٹائے جانے کے بعد سے ملک مستقل مشکلات کا شکار ہے، اس کے بعد سے مختلف قوتوں کی جانب سے ملک کے اقتدار پر قبضے کی جنگ بھی جاری ہے۔</p>

<p>ہفتر کی جانب سے یہ جارحیت ایک ایسے موقع پر کی گئی، جب ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے رواں ماہ ایک کانفرنس شروع ہونے والی تھی تاہم اب اقوام متحدہ نے اس کانفرنس کو منسوخ کردیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086791">لیبیا: نیشنل آئل کارپوریشن پر دہشت گرد حملے، 2 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>لیبیا کی نیشنل آرمی چلانے والے ہفتر ملک کے مشرق میں واقع اپنے مرکز سے تیزی سے دارالحکومت کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ فیاض السراج موجود ہیں۔</p>

<p>اتحادی حکومت کا کہنا تھا کہ افواج نے اتوار کو ہفتر کی فورسز کا جنگی طیارہ مار گرایا جو جنوبی طرابلس میں فضائی حملے کی تیاری کر رہا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ ہفتر نے مصر کے صدر عبدالفتح ال سیسی سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ لیبیا میں امن و استحکام کے لیے ان کی کوششوں کا ساتھ دیں۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق سیسی نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جہاں ہفتر کو عرب ریاستوں اور روس کی بھی حمایت حاصل ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077949">لیبیا: الیکٹورل کمیشن میں خودکش حملہ، 12 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>جنوبی طرابلس میں جھڑپوں کے باعث لوگوں نے اپنے گھروں سے نقل مکانی شروع کردی ہے، 13ہزار سے زائد افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ 900 سے زائد پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔</p>

<p>دونوں فریقین کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ رپورٹ 15 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101448</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Apr 2019 12:15:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb4272792e43.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb4272792e43.jpg"/>
        <media:title>حکومت اور ہفتر کی فوج کی جانب سے ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
