<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 09:54:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 09:54:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: کینیڈین ماڈل کو ہراساں کرنے پر 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101593/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں کینیڈا کی ماڈل اور انسانی حقوق کی کارکن کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے پر 2 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سہالہ پولیس اسٹیشن میں لاہور سے تعلق رکھنے والی اسما گلوٹہ کی جانب سے درج کروائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مبینہ طور پر ہراساں کی گئی کینیڈن خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جب وہ بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں تھی تو گاڑی میں سوار دو افراد نے 'انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور انہیں گاڑی میں آنے کا کہا گیا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087792"&gt;اسلام آباد: طالبات کو ہراساں کرنے کے جرم میں پروفیسر برطرف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 'جب ان افراد کو کہا گیا کہ مجھے اکیلا چھوڑ دو تو وہ ہنسنا شروع ہوگئے اور مجھے اوبر سے نکلنے سے روکا اور اس کے بعد میری اوبر گاڑی کا بحریہ ٹاؤن سے اسلام آباد تک پیچھا کیا جبکہ ڈرائیور کو بلاک کرنے کی کوشش کرتے رہے اور وہ میری منزل کے بارے میں ڈرائیور سے پوچھتے رہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/2239542296375089/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر درج کروانے والی خاتون نے متاثرہ خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چونکہ وہ لڑکے ان کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی منزل کی جگہ کو تبدیل کیا اور قریبی ایک مال میں اس وقت تک چھپ گئی جب تک انہیں یہ لگا کہ وہ چلے گئے، بعد ازاں 'وہ اپنی ایئربی این بی(ادارہ میں چلی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ثبوت کے لیے گاڑی کی معلومات اور ویڈیو موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی 342، 511، 354 اور 506 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب کینیڈین خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی، جس میں انہوں نے واقعے کی روداد بیان کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088012"&gt;اسلام آباد کلب کے عہدیدار کو خاتون کو ہراساں کرنے پر جرمانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس واقعے کے حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا تھا کہ سٹیزن پورٹل کے ذریعے کینیڈن خاتون کی شکایت موصول ہوئی، جس پر ایکشن لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کی جانب سے بھی واقعے کا نوٹس لیا گیا اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں کینیڈا کی ماڈل اور انسانی حقوق کی کارکن کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے پر 2 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔</p>

<p>سہالہ پولیس اسٹیشن میں لاہور سے تعلق رکھنے والی اسما گلوٹہ کی جانب سے درج کروائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مبینہ طور پر ہراساں کی گئی کینیڈن خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جب وہ بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں تھی تو گاڑی میں سوار دو افراد نے 'انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور انہیں گاڑی میں آنے کا کہا گیا'۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087792">اسلام آباد: طالبات کو ہراساں کرنے کے جرم میں پروفیسر برطرف</a></strong></p>

<p>تاہم 'جب ان افراد کو کہا گیا کہ مجھے اکیلا چھوڑ دو تو وہ ہنسنا شروع ہوگئے اور مجھے اوبر سے نکلنے سے روکا اور اس کے بعد میری اوبر گاڑی کا بحریہ ٹاؤن سے اسلام آباد تک پیچھا کیا جبکہ ڈرائیور کو بلاک کرنے کی کوشش کرتے رہے اور وہ میری منزل کے بارے میں ڈرائیور سے پوچھتے رہے'۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/2239542296375089/" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایف آئی آر درج کروانے والی خاتون نے متاثرہ خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چونکہ وہ لڑکے ان کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی منزل کی جگہ کو تبدیل کیا اور قریبی ایک مال میں اس وقت تک چھپ گئی جب تک انہیں یہ لگا کہ وہ چلے گئے، بعد ازاں 'وہ اپنی ایئربی این بی(ادارہ میں چلی گئیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ثبوت کے لیے گاڑی کی معلومات اور ویڈیو موجود ہے۔</p>

<p>پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی 342، 511، 354 اور 506 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب کینیڈین خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی، جس میں انہوں نے واقعے کی روداد بیان کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088012">اسلام آباد کلب کے عہدیدار کو خاتون کو ہراساں کرنے پر جرمانہ</a></strong></p>

<p>اس واقعے کے حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا تھا کہ سٹیزن پورٹل کے ذریعے کینیڈن خاتون کی شکایت موصول ہوئی، جس پر ایکشن لیا گیا۔</p>

<p>ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کی جانب سے بھی واقعے کا نوٹس لیا گیا اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101593</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Apr 2019 14:37:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شکیل قرار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb6db4fe1166.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb6db4fe1166.jpg"/>
        <media:title>کینیڈین خاتون کی جانب سے واقعے سے متعلق ویڈیو بھی جاری کی گئی—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
