<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:12:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:12:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توہین عدالت کی درخواست پر بول کے اینکر پرسن سمیع ابراہیم سے جواب طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101748/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن سمع ابراہیم کو ججز کے خلاف مبینہ طور پر متنازع گفتگو کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عالیہ میں جسٹس امیر بھٹی نے درخواست گزار ثاقب گجر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی اور اس دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی نوٹس جاری کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080768"&gt;بول ٹی وی کے مالک کو 2 ہفتوں میں 10 کروڑ روپے عدالت میں جمع کرانے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کی جانب سے نجی چینل بول نیوز کے اینکر پرسن سمیع ابراہم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی  اور موقف اپنایا کہ سینئر صحافی نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم اور دیگر جج ملک شہزاد کے بارے میں متنازع گفتگو کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے موقف اپنایا کہ سمیع ابراہیم نے الزام لگایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کو غیر قانونی ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایڈووکیٹ کے مطابق صحافی کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ جج ملک شہزاد کے مسلم لیگ (ن) سے قریبی تعلق ہیں اور ان کے رشتے دار ان کی جماعت میں ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں ریلیف دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068332"&gt;’بول کو بتادیا، ایسا نہیں چلے گا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تبلیغی جماعت کے پیروکار ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف بھی رائی ونڈ سے تعلق ہیں جبکہ اس جماعت کا مرکز بھی یہی واقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ صحافی کی جانب سے متنازع ریمارکس دے کرتوہین عدالت کی گئی ہے، لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدا ازاں عدالت نے صحافی اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن سمع ابراہیم کو ججز کے خلاف مبینہ طور پر متنازع گفتگو کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔</p>

<p>عدالت عالیہ میں جسٹس امیر بھٹی نے درخواست گزار ثاقب گجر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی اور اس دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی نوٹس جاری کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080768">بول ٹی وی کے مالک کو 2 ہفتوں میں 10 کروڑ روپے عدالت میں جمع کرانے کا حکم</a></strong></p>

<p>درخواست گزار کی جانب سے نجی چینل بول نیوز کے اینکر پرسن سمیع ابراہم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی  اور موقف اپنایا کہ سینئر صحافی نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم اور دیگر جج ملک شہزاد کے بارے میں متنازع گفتگو کی۔</p>

<p>انہوں نے موقف اپنایا کہ سمیع ابراہیم نے الزام لگایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کو غیر قانونی ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔</p>

<p>ایڈووکیٹ کے مطابق صحافی کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ جج ملک شہزاد کے مسلم لیگ (ن) سے قریبی تعلق ہیں اور ان کے رشتے دار ان کی جماعت میں ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں ریلیف دیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068332">’بول کو بتادیا، ایسا نہیں چلے گا‘</a></strong></p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تبلیغی جماعت کے پیروکار ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف بھی رائی ونڈ سے تعلق ہیں جبکہ اس جماعت کا مرکز بھی یہی واقع ہے۔</p>

<p>عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ صحافی کی جانب سے متنازع ریمارکس دے کرتوہین عدالت کی گئی ہے، لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔</p>

<p>بعدا ازاں عدالت نے صحافی اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101748</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Apr 2019 14:52:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb998c245e41.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb998c245e41.jpg"/>
        <media:title>صحافی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے—فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
