<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:09:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:09:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حیات آباد آپریشن میں ہلاک ملزمان متعدد حملوں میں ملوث تھے، پولیس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101945/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ حیات آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے آپریشن میں ہلاک ملزمان نہ صرف مستقبل میں حملوں کی تیاری کر رہے تھے بلکہ اس سے قبل بھی جج پر حملہ سمیت متعدد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پشاور میں 17 گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن میں مبینہ 5 ملزمان ہلاک ہوئے تھے، جس کے حوالے سے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور قاضی جمیل اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عبدالغفور آفریدی نے میڈیا کو بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک گینگ تھا جو یہاں سے آپریٹ ہورہا تھا، اس گینگ میں 6 لوگ تھے جن میں سے 5 ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاک ہونے والے ایک ملزم کا نام امجد تھا جو ضلع خیبر کا رہائشی تھا اور وہ تمام بڑے سانحوں میں ملوث رہا، وہ 5 مرتبہ افغانستان گیا اور دبئی اور یونان بھی جاچکا تھا جہاں سے ان کو ڈپورٹ کردیا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ایسے افراد پہلے افغانستان سے آتے تھے لیکن وہ پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی پی او کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے جن کی شناخت اے ایس آئی قمر عالم اور لانس نائیک ظفر اقبال کے نام سے ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا کہنا تھا کہ واقعے میں زندہ بچ جانے والے واحد ملزم کا نام سعید ہے اور وہ زخمی حالت میں سی ٹی ڈی کی حراست میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی پی او کا کہنا تھا کہ حیات آباد واقعے میں ضبط کیا گیا اسلحہ اور پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایوب خان پر ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ ایک ہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے پاس دستی بم بھی تھا جو انہوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پھینکا پولیس کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران انہوں نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے اے ایس آئی شہید ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا کہنا تھا کہ ’پولیس گھر کو زمین بوس نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم ایسا تب ہوا جب گھر سے ملنے والا آئی ای ڈی کو ناکارہ بنایا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے میڈیا بریفنگ ایسے وقت میں سامنے آئی جب گزشتہ روز جماعت اسلامی کی جانب سے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جماعت اسلامی ضلع خیبر کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حیات آباد آپریشن پر شکوک و شہبات ہیں جس کی وجہ سے اس کی غیر جانب دار جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ حیات آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے آپریشن میں ہلاک ملزمان نہ صرف مستقبل میں حملوں کی تیاری کر رہے تھے بلکہ اس سے قبل بھی جج پر حملہ سمیت متعدد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔</p>

<p>پشاور میں 17 گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن میں مبینہ 5 ملزمان ہلاک ہوئے تھے، جس کے حوالے سے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور قاضی جمیل اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عبدالغفور آفریدی نے میڈیا کو بریفنگ دی۔</p>

<p>سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک گینگ تھا جو یہاں سے آپریٹ ہورہا تھا، اس گینگ میں 6 لوگ تھے جن میں سے 5 ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا ہے‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاک ہونے والے ایک ملزم کا نام امجد تھا جو ضلع خیبر کا رہائشی تھا اور وہ تمام بڑے سانحوں میں ملوث رہا، وہ 5 مرتبہ افغانستان گیا اور دبئی اور یونان بھی جاچکا تھا جہاں سے ان کو ڈپورٹ کردیا گیا تھا‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ایسے افراد پہلے افغانستان سے آتے تھے لیکن وہ پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے‘۔</p>

<p>سی سی پی او کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے جن کی شناخت اے ایس آئی قمر عالم اور لانس نائیک ظفر اقبال کے نام سے ہوئی۔</p>

<p>حکام کا کہنا تھا کہ واقعے میں زندہ بچ جانے والے واحد ملزم کا نام سعید ہے اور وہ زخمی حالت میں سی ٹی ڈی کی حراست میں موجود ہے۔</p>

<p>سی سی پی او کا کہنا تھا کہ حیات آباد واقعے میں ضبط کیا گیا اسلحہ اور پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایوب خان پر ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ ایک ہی ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے پاس دستی بم بھی تھا جو انہوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پھینکا پولیس کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران انہوں نے فائرنگ کی جس کی وجہ سے اے ایس آئی شہید ہوا۔</p>

<p>حکام کا کہنا تھا کہ ’پولیس گھر کو زمین بوس نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم ایسا تب ہوا جب گھر سے ملنے والا آئی ای ڈی کو ناکارہ بنایا گیا‘۔</p>

<p>پولیس کی جانب سے میڈیا بریفنگ ایسے وقت میں سامنے آئی جب گزشتہ روز جماعت اسلامی کی جانب سے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>جماعت اسلامی ضلع خیبر کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حیات آباد آپریشن پر شکوک و شہبات ہیں جس کی وجہ سے اس کی غیر جانب دار جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101945</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Apr 2019 13:16:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد امداد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cbe17658ec3f.jpg?r=1099493008" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cbe17658ec3f.jpg?r=987058684"/>
        <media:title>آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکار  اے ایس آئی قمر عالم اور لانس نائیک ظفر اقبال جاں بحق ہوئے— فائل فوٹو/اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
