<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:59:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:59:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی کا پڑوسی فرانس یا جاپان؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کے متضاد بیانات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101966/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم عمران خان کے جاپان اور جرمنی سے متعلق بیان کا دفاع کرنے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ہی تذبذب کا شکار دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور ریحام خان نے وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھادیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایران میں دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب دو ممالک میں تجارت بڑھتی ہے تو تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی مثال انہوں نے جرمنی اور جاپان سے دی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں ممالک نے بڑی تعداد میں عام شہریوں کو قتل کیا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتیں تعمیر کریں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101944/"&gt;وزیراعظم عمران خان کا ایران میں دوسرا روز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے جرمنی اور جاپان کی سرحدوں کے مشترکہ ہونے کی بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/1120371235123343360"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جرمنی براعظم یورپ میں واقع ہے اور جاپان ایشیا کے مشرق میں ہے، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 9 ہزار 43 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ ان کے کسی بھی زیرِانتظام علاقے کی سرحد مشترکہ نہیں ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں سوال کیا کہ ہمارے وزیراعظم سوچتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان کی سرحد مشترکہ ہے، یہ کیسی بدقسمتی ہے؟ ایسا تب ہوتا ہے جب آکسفورڈ یونیورسٹی ایسے لوگوں کو داخلہ دیتی ہے کیونکہ انہوں نے کرکٹ کھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1120556180500250625"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی اس لمحے کو اپنے لیے نادر موقع سمجھا اور ٹوئٹر پر ان کا مذاق اڑایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کرہ ارض کے نقشے کا ایک خاکہ شیئر کیا جس میں بتایا کہ جرمنی اور جاپان ایک دوسرے سے تقریباً 5 ہزار 5 سو میل دور ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے اس ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’کیا وزیراعظم کے دفتر کو چمڑے کی جیکٹس کی جگہ دنیا کا نقشہ بطور تحفہ پیش کیا جاسکتا ہے؟‘&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RehamKhan1/status/1120389520606863360"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہونے والی تنقید کے جواب میں حکومتی وزرا بھی میدان میں آگئے تاہم اپنے بیانات سے وہ تذبذب کا شکار بھی دکھائی دیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری کے ٹوئٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کی بات کی ہے مشترکہ سرحد کی بات نہیں کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ جاپان ایک جزیرہ ہے اور اس کی سرحد کسی بھی ملک سے نہیں ملتی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افتخار درانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو پیپلز پارٹی کا ’حادثاتی چیئرمین‘ قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101920/"&gt;جب وزیراعظم عمران خان ایران کے صدارتی محل پہنچے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران یہ کب کہا کہ جرمنی اور جاپان پڑوسی ممالک ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نے جرمنی اور جاپان کے سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتوں سے متعلق بات کی تھی جنہیں آپ اور دیگر دانشور سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افتخار درانی نے بلاول بھٹو زرداری کی تعلیمی سند کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ کی آکسفورڈ ڈگری  عوام کے لوٹے ہوئے پیسے کا ضیاع ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/DuraniIftikhar/status/1120565749095989249"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزریر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیراعظم کے بیان سے متعلق کہا کہ وہ جرمنی اور فرانس کہنا چاہ رہے تھے لیکن زبان پھسل گئی اور ان کے منہ سے جاپان نکل گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بلاول بھٹو زرداری کی عمران خان پر تنقید کے ردِ عمل میں انہی پر تنقید شروع کردی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے ٹوئٹ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، افتخار درانی کا بیانیہ ہی دوہراتی نظر آئیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب کسی نے کرپشن کے پیسے پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے کہ ابو، پھوپھو، انکلز کی لوٹ مار نظر نہیں آتی۔‘&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Dr_FirdousPTI/status/1120585740516196353"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جرمنی اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں سرحدوں پر مشترکہ صنعتیں بنانے سے متعلق معاہدے طے پائے تھے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم عمران خان کے جاپان اور جرمنی سے متعلق بیان کا دفاع کرنے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ہی تذبذب کا شکار دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور ریحام خان نے وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھادیے۔ </p>

<p>ایران میں دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب دو ممالک میں تجارت بڑھتی ہے تو تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ </p>

<p>اس کی مثال انہوں نے جرمنی اور جاپان سے دی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں ممالک نے بڑی تعداد میں عام شہریوں کو قتل کیا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتیں تعمیر کریں گے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101944/">وزیراعظم عمران خان کا ایران میں دوسرا روز</a></strong> </p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے جرمنی اور جاپان کی سرحدوں کے مشترکہ ہونے کی بات کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/1120371235123343360"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ جرمنی براعظم یورپ میں واقع ہے اور جاپان ایشیا کے مشرق میں ہے، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 9 ہزار 43 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ ان کے کسی بھی زیرِانتظام علاقے کی سرحد مشترکہ نہیں ہے۔  </p>

<p>چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں سوال کیا کہ ہمارے وزیراعظم سوچتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان کی سرحد مشترکہ ہے، یہ کیسی بدقسمتی ہے؟ ایسا تب ہوتا ہے جب آکسفورڈ یونیورسٹی ایسے لوگوں کو داخلہ دیتی ہے کیونکہ انہوں نے کرکٹ کھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1120556180500250625"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی اس لمحے کو اپنے لیے نادر موقع سمجھا اور ٹوئٹر پر ان کا مذاق اڑایا۔ </p>

<p>انہوں نے کرہ ارض کے نقشے کا ایک خاکہ شیئر کیا جس میں بتایا کہ جرمنی اور جاپان ایک دوسرے سے تقریباً 5 ہزار 5 سو میل دور ہیں۔ </p>

<p>اپنے اس ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’کیا وزیراعظم کے دفتر کو چمڑے کی جیکٹس کی جگہ دنیا کا نقشہ بطور تحفہ پیش کیا جاسکتا ہے؟‘</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RehamKhan1/status/1120389520606863360"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہونے والی تنقید کے جواب میں حکومتی وزرا بھی میدان میں آگئے تاہم اپنے بیانات سے وہ تذبذب کا شکار بھی دکھائی دیے۔ </p>

<p>بلاول بھٹو زرداری کے ٹوئٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کی بات کی ہے مشترکہ سرحد کی بات نہیں کی۔ </p>

<p>خیال رہے کہ جاپان ایک جزیرہ ہے اور اس کی سرحد کسی بھی ملک سے نہیں ملتی۔ </p>

<p>افتخار درانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو پیپلز پارٹی کا ’حادثاتی چیئرمین‘ قرار دے دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101920/">جب وزیراعظم عمران خان ایران کے صدارتی محل پہنچے</a></strong></p>

<p>انہوں نے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران یہ کب کہا کہ جرمنی اور جاپان پڑوسی ممالک ہیں۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نے جرمنی اور جاپان کے سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتوں سے متعلق بات کی تھی جنہیں آپ اور دیگر دانشور سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔‘</p>

<p>افتخار درانی نے بلاول بھٹو زرداری کی تعلیمی سند کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ کی آکسفورڈ ڈگری  عوام کے لوٹے ہوئے پیسے کا ضیاع ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/DuraniIftikhar/status/1120565749095989249"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزریر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیراعظم کے بیان سے متعلق کہا کہ وہ جرمنی اور فرانس کہنا چاہ رہے تھے لیکن زبان پھسل گئی اور ان کے منہ سے جاپان نکل گیا۔ </p>

<p>ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بلاول بھٹو زرداری کی عمران خان پر تنقید کے ردِ عمل میں انہی پر تنقید شروع کردی۔ </p>

<p>اپنے ٹوئٹ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، افتخار درانی کا بیانیہ ہی دوہراتی نظر آئیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب کسی نے کرپشن کے پیسے پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے کہ ابو، پھوپھو، انکلز کی لوٹ مار نظر نہیں آتی۔‘</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Dr_FirdousPTI/status/1120585740516196353"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جرمنی اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں سرحدوں پر مشترکہ صنعتیں بنانے سے متعلق معاہدے طے پائے تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101966</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Apr 2019 14:28:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cbed2afb1b10.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cbed2afb1b10.png"/>
        <media:title>بلاول بھٹو زرداری، ریحام خان نے عمران خان کی تعیلمی قابلیت پر سوالیہ نشان لگادیا۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
