<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:48:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:48:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن کمیشن میں اراکین اسمبلی کے اثاثوں کا آڈٹ شروع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102002/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے 30 جون 2018 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے اراکینِ اسمبلی کے اثاثہ جات اور اخراجات کا آڈٹ کرنا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1478042/ecp-begins-audit-of-lawmakers-statements-of-assets"&gt;ڈان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو بتایا کہ اس سلسلے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کی جانب سے جمع کروائے گئے اسٹیٹمنٹس میں کسی بھی قسم کے تضاد کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل سیاسی مالیت (پولیٹیکل فنانس) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم نے اراکین قومی اسمبلی کے اسٹیٹمنٹس سے آڈٹ کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097050"&gt;اثاثوں کی تفصیلات نہ جمع کروانے پر 23 ارکان اسمبلی کی رکنیت تاحال معطل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ دسمبر 2016 میں بھی اسی قسم کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اسے بغیر کسی باضابطہ اعلان کے درمیان میں ہی ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے جب ایک الیکشن کمیشن کے عہدیدار سے پوچھا گیا کہ گزشتہ آڈٹ مکمل کیوں نہیں کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات پر کام کرنا شروع کردیا تھا جس کے باعث سیاسی مالیات کے سربراہ اس ٹاسک کو مکمل نہیں کرسکے تھے تاہم اب اس عہدے پر سیاسی مالیات کے  مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1045405/_print"&gt;2016&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں ای سی پی نے ابتدائی طور پر اثاثوں کے 25 فیصد اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کر کے دیکھا جائے گا کہ اس میں کوئی تضاد یا غلط بیانی تو نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092885"&gt;اراکینِ اسمبلی کو 31 دسمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اس کارروائی میں اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی درجہ بندی کی جائے گی اور ان اسٹیٹمنٹس کو 10 لاکھ سے ایک ارب سے زائد کے 4 سلیبس میں تقسیم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ ضرورت پڑنے والے ڈی جی سیاسی مالیات کسی بھی رکن کے اسٹیٹمنٹس کا موازنہ اس کے گزشتہ 2 سالوں کے اسٹیٹمنٹس نے بھی کرسکتے ہیں جس میں 2 سالوں کے دوران لاگت کے تناظر میں، کاروبار میں تبدیلی، حاصل کیے گئے اور استعمال شدہ اثاثے اخراجات کی مالیت شامل ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ اگر اثاثوں میں سامنے آنے والی تبدیلیوں  کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات ناکافی لگے تو شعبہ سیاسی مالیات،  فارم جمع کروانے والے سے ان تضادات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد بھی طلب کرسکتی ہے اور وہ ریاستی ایجنسیوں سے مطلع شدہ فیصلے کے حوالے سے تصدیق کے لیے بھی درخواست کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085518"&gt;قومی اسمبلی میں موجود 8 ارکان اربوں روپے اثاثوں کے مالک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای سی پی عہدیدار کا کہنا تھا کہ جو افراد اثاثےچھپانے یا اس کے حوالے سے غلط بیانی کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس کے نیتجے میں 3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے  جبکہ یہ سزا رکنِ اسمبلی کی نااہلیت اور آئندہ 5 سالوں تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے 30 جون 2018 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے اراکینِ اسمبلی کے اثاثہ جات اور اخراجات کا آڈٹ کرنا شروع کردیا۔</p>

<p>باخبر ذرائع نے <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1478042/ecp-begins-audit-of-lawmakers-statements-of-assets">ڈان</a></strong> کو بتایا کہ اس سلسلے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کی جانب سے جمع کروائے گئے اسٹیٹمنٹس میں کسی بھی قسم کے تضاد کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔</p>

<p>الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل سیاسی مالیت (پولیٹیکل فنانس) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم نے اراکین قومی اسمبلی کے اسٹیٹمنٹس سے آڈٹ کا آغاز کردیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097050">اثاثوں کی تفصیلات نہ جمع کروانے پر 23 ارکان اسمبلی کی رکنیت تاحال معطل</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ دسمبر 2016 میں بھی اسی قسم کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اسے بغیر کسی باضابطہ اعلان کے درمیان میں ہی ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔</p>

<p>اس حوالے سے جب ایک الیکشن کمیشن کے عہدیدار سے پوچھا گیا کہ گزشتہ آڈٹ مکمل کیوں نہیں کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات پر کام کرنا شروع کردیا تھا جس کے باعث سیاسی مالیات کے سربراہ اس ٹاسک کو مکمل نہیں کرسکے تھے تاہم اب اس عہدے پر سیاسی مالیات کے  مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1045405/_print">2016</a></strong> میں ای سی پی نے ابتدائی طور پر اثاثوں کے 25 فیصد اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کر کے دیکھا جائے گا کہ اس میں کوئی تضاد یا غلط بیانی تو نہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092885">اراکینِ اسمبلی کو 31 دسمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اس کارروائی میں اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی درجہ بندی کی جائے گی اور ان اسٹیٹمنٹس کو 10 لاکھ سے ایک ارب سے زائد کے 4 سلیبس میں تقسیم کیا جائے گا۔</p>

<p>اس کے علاوہ ضرورت پڑنے والے ڈی جی سیاسی مالیات کسی بھی رکن کے اسٹیٹمنٹس کا موازنہ اس کے گزشتہ 2 سالوں کے اسٹیٹمنٹس نے بھی کرسکتے ہیں جس میں 2 سالوں کے دوران لاگت کے تناظر میں، کاروبار میں تبدیلی، حاصل کیے گئے اور استعمال شدہ اثاثے اخراجات کی مالیت شامل ہوسکتی ہے۔</p>

<p>اس کے ساتھ اگر اثاثوں میں سامنے آنے والی تبدیلیوں  کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات ناکافی لگے تو شعبہ سیاسی مالیات،  فارم جمع کروانے والے سے ان تضادات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد بھی طلب کرسکتی ہے اور وہ ریاستی ایجنسیوں سے مطلع شدہ فیصلے کے حوالے سے تصدیق کے لیے بھی درخواست کر سکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085518">قومی اسمبلی میں موجود 8 ارکان اربوں روپے اثاثوں کے مالک</a></strong></p>

<p>ای سی پی عہدیدار کا کہنا تھا کہ جو افراد اثاثےچھپانے یا اس کے حوالے سے غلط بیانی کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس کے نیتجے میں 3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے  جبکہ یہ سزا رکنِ اسمبلی کی نااہلیت اور آئندہ 5 سالوں تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102002</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2019 09:41:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cbfe7b9bb15f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cbfe7b9bb15f.jpg"/>
        <media:title>اسٹیٹمنٹس میں کسی بھی قسم کے تضاد کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی—تصویر:اے یف پی/فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
