<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:29:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:29:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان کی 200 سالہ تاریخ میں پہلی بار بادشاہ تخت سے دستبردار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102414/</link>
      <description>&lt;p&gt;جاپان کے بادشاہ آکی ہیتو نے 30 سال تک بادشاہت کرنے کے بعد بڑھتی عمر اور خرابی صحت کے باعث تخت چھوڑ کر نئی تاریخ رقم کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;85 سالہ بادشاہ آکی ہیتو30 سال قبل 1989 میں اپنے والد اور جاپان کے 125 ویں بادشاہ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو کو سب سے زیادہ عوامی بادشاہ بھی مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہوں نے ماضی کے تمام بادشاہوں کی روایات کو توڑتے ہوئے عام افراد سے زیادہ میل جول رکھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو کے 30 سالہ دور کو ’ہے سے‘ دور کہا جاتا تھا، تاہم ان کے دستبردار ہونے کے بعد ہی ان کے عہد کا بھی خاتمہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو نے 55 برس کی عمر میں تخت سنبھالا تھا اور گزشتہ تین دہائیوں سے انہوں نے جاپان میں قدتی آفات، بیماریوں اور دیگر قومی مسائل کے دوران عوام کی بات کرکے لوگوں کے دل بھی جیتے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc85227b1b14.jpg"  alt="بادشاہت چھوڑتے وقت اہلیہ بھی ان کے ساتھ تھیں&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بادشاہت چھوڑتے وقت اہلیہ بھی ان کے ساتھ تھیں—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکی ہیتو کے دور میں ہی شاہی خاندان کی نوجوان شہزادیوں نے بادشاہت ٹھکرا کر عام افراد سے شادیاں کرنا شروع کیں اور کم سے کم تین جاپانی شہزادیوں نے عام نوجوانوں سے شادیاں کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہزادیوں کے ایسے فیصلے پر بظاہر بادشاہ آکی ہیتو نے کوئی سخت رد عمل نہیں دیا، تاہم شاہی قوانین کے مطابق شہزادیوں کو شاہی اعزازات سے محروم کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپانی شہنشاہیت کے حالیہ قوانین کے مطابق کسی خاتون کو بادشاہی کرنے کا حق حاصل نہیں، اس لیے گزشتہ کئی سال سے صرف شاہی خاندان کی کسی خاتون کو اعلیٰ عہدے پر نہیں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو نے 3 سال قبل 2016 میں تخت چھوڑنے کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں اور وہ اچھی صحت نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہتے ہوئے گھبراتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ بادشاہ آکی ہیتو نے صاف الفاظ میں تخت چھوڑنے کی بات نہیں کی تھی، تاہم تب سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھیں کہ وہ تخت چھوڑیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc852c29f9c6.jpg"  alt="بادشاہ نے آخری خطاب میں عوام کا شکریہ بھی ادا کیا&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بادشاہ نے آخری خطاب میں عوام کا شکریہ بھی ادا کیا—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو کی تقریر کے بعد 2017 میں جاپانی پارلیمنٹ نے شاہی قوانین میں ترمیم کی، جس کے بعد ہی بادشاہ کی تخت سے دستبردار ہونے کی راہم ہموار ہوئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے قوانین بننے کے بعد 2017 کے آخر میں جاپان کی شاہی کونسل نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ بادشاہ آکی ہیتو 30 اپریل 2019 کو تخت سے دستبردار ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ کی دستبرداری سے قبل ہی جاپان میں بادشاہت کے نئے دور کا نام منتخب کیا گیا تھا اور اب نئے دور کا نام ’ریوا‘ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپان کی 200 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی تخت نشین بادشاہ تخت سے دستبردار ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے جاپانی سرکاری ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بادشاہ آکی ہیتو کے تخت سے الگ ہونے کی آخری تقریب شاہی محل میں ہوئی جس میں نئے بادشاہ اور جاپانی وزیر اعظم سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc8533c6d796.jpg"  alt="نئے بادشاہ نارو ہیتو نے ماساکو سے 1996 میں شادی کی تھی&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نئے بادشاہ نارو ہیتو نے ماساکو سے 1996 میں شادی کی تھی—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بادشاہ آکی ہیتو نے تخت چھوڑنے سے قبل اپنے آخری خطاب میں جاپانی عوام، حکومت، ریاستی عہدیداروں اور نئے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکی ہیتو نے بطور بادشاہ اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ’آج بطور شہنشاہ ان کی ذمہ داریوں کی مدت پوری ہو رہی ہے وہ ریاست کی علامت کے کردار ادا کرنے کے لیے برداشت کرنے پر جاپانی عوام کے تہ دل سے شکر گزار ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بطور بادشاہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کو اپنی خوش قسمتی قرار دیا اور ساتھ ہی مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کل سے شروع ہونے والا نیا عہد ’ریوا‘ جاپانی عوام اور ملک کے لیے اچھا ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc853cad8f9a.jpg"  alt="نئے بادشاہ نارو ہیتو کو ایک ہی بیٹی آئکو ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نئے بادشاہ نارو ہیتو کو ایک ہی بیٹی آئکو ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکی ہیتو کے دستبردار ہونے کے بعد ان کے 59 سالہ بیٹے شہزادہ نارو ہیتو جاپان کے نئے بادشاہ بن گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکی ہیتو کی جانب سے تخت چھوڑنے کی نشریات سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی گئیں اور مجموعی طور پر جاپانی عوام نے بادشاہ کی تبدیلی پر خوشی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع تھا کہ جاپانی عوام نے ایک زندہ بادشاہ کو تخت سے الگ ہوتے ہوئے دیکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc854a128e43.jpg"  alt="بادشاہ کی دستبرداری کی تقریب میں شاہی خاندان کے تمام افراد نے شرکت کی&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بادشاہ کی دستبرداری کی تقریب میں شاہی خاندان کے تمام افراد نے شرکت کی—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے بادشاہ نارو ہیتو کی جانب سے بادشاہت سنبھالے جانے کے بعد فوری طور پر انہیں شاہی خزانہ سنبھالنے  کے اختیارات دیے گئے اور مرحلہ وار انہیں تمام امور سونپ دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپانی میڈیا کے مطابق آکی ہیتو کو تخت سے دستبرداری کے بعد حکومت اور شاہی محل کی جانب سے ’جوکو‘ کے لقب سے نوازا جائے گا، جس کی معنی ’عظیم بادشاہ‘ کی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc8543d4d821.jpg"  alt="نئے بادشاہ کے دور کو ریوا کا نام دیا گیا ہے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نئے بادشاہ کے دور کو ریوا کا نام دیا گیا ہے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جاپان کے بادشاہ آکی ہیتو نے 30 سال تک بادشاہت کرنے کے بعد بڑھتی عمر اور خرابی صحت کے باعث تخت چھوڑ کر نئی تاریخ رقم کردی۔</p>

<p>85 سالہ بادشاہ آکی ہیتو30 سال قبل 1989 میں اپنے والد اور جاپان کے 125 ویں بادشاہ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے تھے۔</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو کو سب سے زیادہ عوامی بادشاہ بھی مانا جاتا ہے، کیوں کہ انہوں نے ماضی کے تمام بادشاہوں کی روایات کو توڑتے ہوئے عام افراد سے زیادہ میل جول رکھی۔</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو کے 30 سالہ دور کو ’ہے سے‘ دور کہا جاتا تھا، تاہم ان کے دستبردار ہونے کے بعد ہی ان کے عہد کا بھی خاتمہ ہوا۔</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو نے 55 برس کی عمر میں تخت سنبھالا تھا اور گزشتہ تین دہائیوں سے انہوں نے جاپان میں قدتی آفات، بیماریوں اور دیگر قومی مسائل کے دوران عوام کی بات کرکے لوگوں کے دل بھی جیتے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc85227b1b14.jpg"  alt="بادشاہت چھوڑتے وقت اہلیہ بھی ان کے ساتھ تھیں&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بادشاہت چھوڑتے وقت اہلیہ بھی ان کے ساتھ تھیں—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>آکی ہیتو کے دور میں ہی شاہی خاندان کی نوجوان شہزادیوں نے بادشاہت ٹھکرا کر عام افراد سے شادیاں کرنا شروع کیں اور کم سے کم تین جاپانی شہزادیوں نے عام نوجوانوں سے شادیاں کیں۔</p>

<p>شہزادیوں کے ایسے فیصلے پر بظاہر بادشاہ آکی ہیتو نے کوئی سخت رد عمل نہیں دیا، تاہم شاہی قوانین کے مطابق شہزادیوں کو شاہی اعزازات سے محروم کردیا گیا۔</p>

<p>جاپانی شہنشاہیت کے حالیہ قوانین کے مطابق کسی خاتون کو بادشاہی کرنے کا حق حاصل نہیں، اس لیے گزشتہ کئی سال سے صرف شاہی خاندان کی کسی خاتون کو اعلیٰ عہدے پر نہیں دیکھا گیا۔</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو نے 3 سال قبل 2016 میں تخت چھوڑنے کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں اور وہ اچھی صحت نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہتے ہوئے گھبراتے ہیں۔</p>

<p>اگرچہ بادشاہ آکی ہیتو نے صاف الفاظ میں تخت چھوڑنے کی بات نہیں کی تھی، تاہم تب سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھیں کہ وہ تخت چھوڑیں گے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc852c29f9c6.jpg"  alt="بادشاہ نے آخری خطاب میں عوام کا شکریہ بھی ادا کیا&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بادشاہ نے آخری خطاب میں عوام کا شکریہ بھی ادا کیا—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو کی تقریر کے بعد 2017 میں جاپانی پارلیمنٹ نے شاہی قوانین میں ترمیم کی، جس کے بعد ہی بادشاہ کی تخت سے دستبردار ہونے کی راہم ہموار ہوئی۔ </p>

<p>نئے قوانین بننے کے بعد 2017 کے آخر میں جاپان کی شاہی کونسل نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ بادشاہ آکی ہیتو 30 اپریل 2019 کو تخت سے دستبردار ہوجائیں گے۔</p>

<p>بادشاہ کی دستبرداری سے قبل ہی جاپان میں بادشاہت کے نئے دور کا نام منتخب کیا گیا تھا اور اب نئے دور کا نام ’ریوا‘ ہوگا۔</p>

<p>جاپان کی 200 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی تخت نشین بادشاہ تخت سے دستبردار ہوئے۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے جاپانی سرکاری ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بادشاہ آکی ہیتو کے تخت سے الگ ہونے کی آخری تقریب شاہی محل میں ہوئی جس میں نئے بادشاہ اور جاپانی وزیر اعظم سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc8533c6d796.jpg"  alt="نئے بادشاہ نارو ہیتو نے ماساکو سے 1996 میں شادی کی تھی&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نئے بادشاہ نارو ہیتو نے ماساکو سے 1996 میں شادی کی تھی—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بادشاہ آکی ہیتو نے تخت چھوڑنے سے قبل اپنے آخری خطاب میں جاپانی عوام، حکومت، ریاستی عہدیداروں اور نئے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔</p>

<p>آکی ہیتو نے بطور بادشاہ اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ’آج بطور شہنشاہ ان کی ذمہ داریوں کی مدت پوری ہو رہی ہے وہ ریاست کی علامت کے کردار ادا کرنے کے لیے برداشت کرنے پر جاپانی عوام کے تہ دل سے شکر گزار ہیں‘۔</p>

<p>انہوں نے بطور بادشاہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کو اپنی خوش قسمتی قرار دیا اور ساتھ ہی مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کل سے شروع ہونے والا نیا عہد ’ریوا‘ جاپانی عوام اور ملک کے لیے اچھا ثابت ہوگا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc853cad8f9a.jpg"  alt="نئے بادشاہ نارو ہیتو کو ایک ہی بیٹی آئکو ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نئے بادشاہ نارو ہیتو کو ایک ہی بیٹی آئکو ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>آکی ہیتو کے دستبردار ہونے کے بعد ان کے 59 سالہ بیٹے شہزادہ نارو ہیتو جاپان کے نئے بادشاہ بن گئے۔</p>

<p>آکی ہیتو کی جانب سے تخت چھوڑنے کی نشریات سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی گئیں اور مجموعی طور پر جاپانی عوام نے بادشاہ کی تبدیلی پر خوشی کا اظہار کیا۔</p>

<p>یہ پہلا موقع تھا کہ جاپانی عوام نے ایک زندہ بادشاہ کو تخت سے الگ ہوتے ہوئے دیکھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc854a128e43.jpg"  alt="بادشاہ کی دستبرداری کی تقریب میں شاہی خاندان کے تمام افراد نے شرکت کی&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بادشاہ کی دستبرداری کی تقریب میں شاہی خاندان کے تمام افراد نے شرکت کی—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>نئے بادشاہ نارو ہیتو کی جانب سے بادشاہت سنبھالے جانے کے بعد فوری طور پر انہیں شاہی خزانہ سنبھالنے  کے اختیارات دیے گئے اور مرحلہ وار انہیں تمام امور سونپ دیے جائیں گے۔</p>

<p>جاپانی میڈیا کے مطابق آکی ہیتو کو تخت سے دستبرداری کے بعد حکومت اور شاہی محل کی جانب سے ’جوکو‘ کے لقب سے نوازا جائے گا، جس کی معنی ’عظیم بادشاہ‘ کی ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cc8543d4d821.jpg"  alt="نئے بادشاہ کے دور کو ریوا کا نام دیا گیا ہے&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نئے بادشاہ کے دور کو ریوا کا نام دیا گیا ہے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102414</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Apr 2019 19:01:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cc851e207847.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cc851e207847.jpg?0.29595721702996336"/>
        <media:title>آکی ہیتو نے 1989 میں تخت سنبھالا تھا—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
