<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:58:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:58:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا میں آزادی صحافت کو حکومتوں سے سنگین خطرات کا سامنا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102505/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے نئے قوانین متعارف کروا کر صحافت کی آزادی کو محددود کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1479739"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انٹرنیشنل پریس فریڈم (آئی پی آئی) کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی کے مہینے سے اب تک 55 صحافیوں کو بھی قتل کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ویانا سے تعلق رکھنے والی مدیران اور صحافیوں کی عالمی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر باربرا ٹرائونفائی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آزادانہ صحافت سخت ترین دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے مطابق تنگ نظر حکومتیں تنقیدی آوازوں کو دبانے اور بہت سے کیسز میں جان بوجھ کر آزاد ذرائع ابلاغ کی ساکھ کو تباہ کرنے کی کشش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077993"&gt;دنیا بھر کے صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی صحافت پر حملہ کرنے کے آزمائے ہوئے حربے دیکھنے کو مل رہے ہیں جس میں جیل بھیجنا اور جسمانی تشدد بھی شامل ہیں، جس کا اختتام معافی مانگنے پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ ایسی منظم مہمات کی نئی لہر بھی سامنے آئی ہے جس میں میڈیا اور صحافت کو لوگوں کا دشمن ثابت کر کے ہر چیز پر نظر رکھنے والے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان اقدامات پر بھرپور ردِ عمل کی ضرورت ہے تا کہ بنیادی حقوق کی اہمیت برقرار رہے، یہ خاموش بیٹھنے کا وقت نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095399"&gt;میرے وطن کی ’صحافت‘ کا حال مت پوچھو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پریس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ بھی کیا جس میں پاکستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہاں تنقیدی میڈیا کو غیر مہذب مہم کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی پی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بااثر اخبار ڈان کے سرکاری اشتہارات روک دیے اور انفرادی طور پر بھی صحافیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے مثلاً آئی پی آئی ورلڈ پریس فریڈم کے ہیرو سرل المیڈا، جنہیں عسکریت پسندی کی کوریج پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح امریکا میں محکمہ انصاف صحافیوں کے ریکارڈ تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے رہنما اصولوں میں تبدیلیوں پر غور کررہا ہے، اسی طرح وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے بارے میں مجرمانہ الزامات نے بھی آزادی صحافت کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067431"&gt;صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان کا 139واں نمبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ترکی صحافیوں کو جیل میں قید کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 2018 کے دوران آزاد میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 46 مزید صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی پی آئی کے مطابق بنگلہ دیش میں ملک کے نئے ڈیجیٹل سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں صحافیوں کو عمر قید تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق قتل کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس صحافیوں کے خلاف حملوں اور گرفتاریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور رواں برس کے ابتدائی 3 ماہ کے عرصے میں صحافیوں کی گرفتاری کی 70 کیسز سامنے آچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے نئے قوانین متعارف کروا کر صحافت کی آزادی کو محددود کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہورہا ہے۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1479739">رپورٹ</a></strong> کے مطابق انٹرنیشنل پریس فریڈم (آئی پی آئی) کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی کے مہینے سے اب تک 55 صحافیوں کو بھی قتل کیا جاچکا ہے۔</p>

<p>عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ویانا سے تعلق رکھنے والی مدیران اور صحافیوں کی عالمی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر باربرا ٹرائونفائی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آزادانہ صحافت سخت ترین دباؤ کا شکار ہے۔</p>

<p>ان کے مطابق تنگ نظر حکومتیں تنقیدی آوازوں کو دبانے اور بہت سے کیسز میں جان بوجھ کر آزاد ذرائع ابلاغ کی ساکھ کو تباہ کرنے کی کشش کرتی ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077993">دنیا بھر کے صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور</a></strong> </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی صحافت پر حملہ کرنے کے آزمائے ہوئے حربے دیکھنے کو مل رہے ہیں جس میں جیل بھیجنا اور جسمانی تشدد بھی شامل ہیں، جس کا اختتام معافی مانگنے پر ہوتا ہے۔</p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ ایسی منظم مہمات کی نئی لہر بھی سامنے آئی ہے جس میں میڈیا اور صحافت کو لوگوں کا دشمن ثابت کر کے ہر چیز پر نظر رکھنے والے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان اقدامات پر بھرپور ردِ عمل کی ضرورت ہے تا کہ بنیادی حقوق کی اہمیت برقرار رہے، یہ خاموش بیٹھنے کا وقت نہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095399">میرے وطن کی ’صحافت‘ کا حال مت پوچھو</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پریس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ بھی کیا جس میں پاکستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہاں تنقیدی میڈیا کو غیر مہذب مہم کا سامنا ہے۔</p>

<p>آئی پی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بااثر اخبار ڈان کے سرکاری اشتہارات روک دیے اور انفرادی طور پر بھی صحافیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے مثلاً آئی پی آئی ورلڈ پریس فریڈم کے ہیرو سرل المیڈا، جنہیں عسکریت پسندی کی کوریج پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔</p>

<p>اسی طرح امریکا میں محکمہ انصاف صحافیوں کے ریکارڈ تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے رہنما اصولوں میں تبدیلیوں پر غور کررہا ہے، اسی طرح وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے بارے میں مجرمانہ الزامات نے بھی آزادی صحافت کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067431">صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان کا 139واں نمبر</a></strong></p>

<p>دوسری جانب ترکی صحافیوں کو جیل میں قید کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 2018 کے دوران آزاد میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 46 مزید صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔</p>

<p>آئی پی آئی کے مطابق بنگلہ دیش میں ملک کے نئے ڈیجیٹل سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں صحافیوں کو عمر قید تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>

<p>تنظیم کے مطابق قتل کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس صحافیوں کے خلاف حملوں اور گرفتاریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور رواں برس کے ابتدائی 3 ماہ کے عرصے میں صحافیوں کی گرفتاری کی 70 کیسز سامنے آچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102505</guid>
      <pubDate>Thu, 02 May 2019 13:27:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cca9b2d5ae6a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cca9b2d5ae6a.jpg"/>
        <media:title>دنیا بھر میں آزاد صحافت سخت ترین دباؤ کا شکار ہے — تصویر: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
