<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:22:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:22:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حیدرآباد میں ایچ آئی وی کے 140 مثبت کیسز حکومتی توجہ حاصل کرنے میں ناکام
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حیدرآباد: صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے علاقے ہٹری میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر اِنیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کی جانب سے کی گئی شہریوں کے خون کی اسکریننگ کے دوران بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیسز مثبت آنے کی تصدیق ہوئی تاہم ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکام نے اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1479843/surfacing-of-140-hiv-positive-cases-early-this-year-in-hyderabad-area-goes-unnoticed"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 140 افراد میں سے 73 افراد کے کیسز رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران سامنے آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی پی ایچ آئی میں موجود ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقے حیدرآباد (دیہی) تعلقہ کے ماسو بھرگڑی اور ہٹری کی یونین کونسل میں واقع ہیں، اسکرینگ کے دوران جن گاؤں میں یہ کیسز سامنے آئے وہ نیشنل ہائے کے قریب ہیں اور متاثرہ افراد کی عمریں ایک ماہ سے 61 سال ہیں جو بشیتر مرد ہیں جبکہ کچھ خواتین بھی اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102087"&gt;رتوڈیرو کے 13بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کیسز کی تعداد 140 سے کہیں زیادہ ہے اور پی پی ایچ آئی کے پاس موجود ان اعداد و شمار میں سے وقتاً فوقتاً سندھ کی صحت انتظامیہ کو مطلع کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی پی ایچ آئی کے ڈیٹا کے مطابق ان گاؤں میں گل شیر بروہی، عمر پالاری، ظہیر برچ، چھلگری ماری، ٹنڈو سعید خان، گوٹھ سوومر مرجات، گوٹھ میوہ حجانو، گوٹھ مٹھو حجانو، اخند فضل صدیقی، ونکی واسی اور دیگر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ برس اپریل میں ہونے والی ابتدائی اسکریننگ میں 128 مبینہ کیسز کو دیکھا گیا، جس میں سے 30 میں ایچ آئی وی کے مثبت نتائج سامنے آئے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ اس اسکریننگ کا آغاز اس وقت کیا گیا جب سعودی عرب سے آئے ڈاکٹر رضوان مری نے علاقے میں 2 مبینہ کیسز دیکھے اور متعلقہ انتظامیہ کو رپورٹ کیا، اپریل سے دسمبر 2018 تک ایچ آئی وی کے کیسز کی تعداد 58 تک پہنچ گئی اور بعد میں اسکریننگ اور لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران اس کی تصدیق بھی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ ’بعد ازاں (جنوری سے مارچ 2019) رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھی اور یہ اب 140 تک پہنچ چکی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام اعداد و شمار سندھ کے صحت حکام سمیت سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے لیکن شاید حکام نے ان اعداد و شمار کو سنجیدہ نہیں لے رہے جبکہ اس ریکارڈ میں مریضوں کے نام ان کے گاؤں کے ساتھ شامل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر مرد و خواتین سیکس ورکرز سمیت خواجہ سرا، منشیات فروش اور ٹرک ڈرائیورز آبادی کے لیے ایچ آئی وی کا سب سے بڑا خطرہ سمجھے جاتے جبکہ مزید کیسز کا امکان بھی ابھی ختم نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی پی ایچ آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران تقریباً 200 کیسز پائے گئے تھے جبکہ ریکارڈ کے مطابق کچھ ایچ آئی وی کیسز پیدائشی بچوں میں بھی سامنے آئے تھے جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ وائرس مریضوں سے بچوں میں منتقل ہوا، اس کے علاوہ ’کچھ کیسز میں مریضوں کا انتقال بھی ہوا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 24 اپریل سے سندھ کا ضلع لاڑکانہ اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنا جب وہاں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی پوزیٹو کے کیسز سامنے آئے، محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 24 اپریل سے اسکرینگ کے بعد 74 بچے اور 19 بڑوں سمیت کل 93 کیسز میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی جبکہ تقریباً 2 ہزار 7 سو 96 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ccbe42485d63'&gt;بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ادھر سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102409/"&gt;لاڑکانہ میں ایڈز پھیلانے کا الزام، سرکاری ڈاکٹر گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایج کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر بلوچستان افضل زرخون نے بتایا تھا کہ صوبے بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 5 ہزار ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایج کنٹرول پروگرام نے اب تک ایک ہزا ایک سو 33 ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو رجسٹرڈ کیا، جن میں سے 824 مریضوں کا تعلق کوئٹہ اور 309 بلوچستان کے علاقے تربت سے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور تربت میں ایچ آئی وی ایڈز کیسز میں اضافے کے پیچھے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ صحت کی مناسب دیکھ بھال کے بغیر مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہونے کے بعد 54 افراد کو دبئی سے تربت ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان مریضوں کے علاج کے لیے بلوچستان حکومت نے 2 سینٹرز قائم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حیدرآباد: صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے علاقے ہٹری میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر اِنیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کی جانب سے کی گئی شہریوں کے خون کی اسکریننگ کے دوران بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیسز مثبت آنے کی تصدیق ہوئی تاہم ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکام نے اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1479843/surfacing-of-140-hiv-positive-cases-early-this-year-in-hyderabad-area-goes-unnoticed"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 140 افراد میں سے 73 افراد کے کیسز رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران سامنے آئے۔</p>

<p>پی پی ایچ آئی میں موجود ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقے حیدرآباد (دیہی) تعلقہ کے ماسو بھرگڑی اور ہٹری کی یونین کونسل میں واقع ہیں، اسکرینگ کے دوران جن گاؤں میں یہ کیسز سامنے آئے وہ نیشنل ہائے کے قریب ہیں اور متاثرہ افراد کی عمریں ایک ماہ سے 61 سال ہیں جو بشیتر مرد ہیں جبکہ کچھ خواتین بھی اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوئی ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102087">رتوڈیرو کے 13بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کیسز کی تعداد 140 سے کہیں زیادہ ہے اور پی پی ایچ آئی کے پاس موجود ان اعداد و شمار میں سے وقتاً فوقتاً سندھ کی صحت انتظامیہ کو مطلع کیا جاتا رہا ہے۔</p>

<p>پی پی ایچ آئی کے ڈیٹا کے مطابق ان گاؤں میں گل شیر بروہی، عمر پالاری، ظہیر برچ، چھلگری ماری، ٹنڈو سعید خان، گوٹھ سوومر مرجات، گوٹھ میوہ حجانو، گوٹھ مٹھو حجانو، اخند فضل صدیقی، ونکی واسی اور دیگر شامل ہیں۔</p>

<p>مذکورہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ برس اپریل میں ہونے والی ابتدائی اسکریننگ میں 128 مبینہ کیسز کو دیکھا گیا، جس میں سے 30 میں ایچ آئی وی کے مثبت نتائج سامنے آئے‘۔</p>

<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ اس اسکریننگ کا آغاز اس وقت کیا گیا جب سعودی عرب سے آئے ڈاکٹر رضوان مری نے علاقے میں 2 مبینہ کیسز دیکھے اور متعلقہ انتظامیہ کو رپورٹ کیا، اپریل سے دسمبر 2018 تک ایچ آئی وی کے کیسز کی تعداد 58 تک پہنچ گئی اور بعد میں اسکریننگ اور لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران اس کی تصدیق بھی ہوئی۔</p>

<p>اس بارے میں ذرائع کا کہنا تھا کہ ’بعد ازاں (جنوری سے مارچ 2019) رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھی اور یہ اب 140 تک پہنچ چکی ہے‘۔</p>

<p>دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام اعداد و شمار سندھ کے صحت حکام سمیت سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے لیکن شاید حکام نے ان اعداد و شمار کو سنجیدہ نہیں لے رہے جبکہ اس ریکارڈ میں مریضوں کے نام ان کے گاؤں کے ساتھ شامل کیے گئے تھے۔</p>

<p>مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر مرد و خواتین سیکس ورکرز سمیت خواجہ سرا، منشیات فروش اور ٹرک ڈرائیورز آبادی کے لیے ایچ آئی وی کا سب سے بڑا خطرہ سمجھے جاتے جبکہ مزید کیسز کا امکان بھی ابھی ختم نہیں ہوا۔</p>

<p>پی پی ایچ آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران تقریباً 200 کیسز پائے گئے تھے جبکہ ریکارڈ کے مطابق کچھ ایچ آئی وی کیسز پیدائشی بچوں میں بھی سامنے آئے تھے جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ وائرس مریضوں سے بچوں میں منتقل ہوا، اس کے علاوہ ’کچھ کیسز میں مریضوں کا انتقال بھی ہوا‘۔</p>

<p>علاوہ ازیں ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 24 اپریل سے سندھ کا ضلع لاڑکانہ اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنا جب وہاں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی پوزیٹو کے کیسز سامنے آئے، محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 24 اپریل سے اسکرینگ کے بعد 74 بچے اور 19 بڑوں سمیت کل 93 کیسز میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی جبکہ تقریباً 2 ہزار 7 سو 96 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔</p>

<h3 id='5ccbe42485d63'>بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ</h3>

<p>ادھر سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کا انکشاف ہوا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102409/">لاڑکانہ میں ایڈز پھیلانے کا الزام، سرکاری ڈاکٹر گرفتار</a></strong></p>

<p>ایج کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر بلوچستان افضل زرخون نے بتایا تھا کہ صوبے بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 5 ہزار ہونے کا امکان ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایج کنٹرول پروگرام نے اب تک ایک ہزا ایک سو 33 ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو رجسٹرڈ کیا، جن میں سے 824 مریضوں کا تعلق کوئٹہ اور 309 بلوچستان کے علاقے تربت سے ہیں۔</p>

<p>پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور تربت میں ایچ آئی وی ایڈز کیسز میں اضافے کے پیچھے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ صحت کی مناسب دیکھ بھال کے بغیر مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہونے کے بعد 54 افراد کو دبئی سے تربت ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان مریضوں کے علاج کے لیے بلوچستان حکومت نے 2 سینٹرز قائم کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102565</guid>
      <pubDate>Fri, 03 May 2019 11:48:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حسین خانسید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5ccbdceff082e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5ccbdceff082e.jpg"/>
        <media:title>ابتدائی اسکریننگ میں 128 مبینہ کیسز کو دیکھا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
