<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 21:33:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 03 Apr 2026 21:33:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھیلیسیمیا کیا ہے؟ اور اس سے نجات کس طرح ممکن ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102829/</link>
      <description>&lt;h1 id='5cd25fcd3036a'&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;تھیلیسیمیا کیا ہے؟ اور اس سے نجات کس طرح ممکن ہے؟&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;تحریر و تصاویر: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864"&gt;&lt;strong&gt;امجد علی سحاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی روشن آنکھیں اور پھول جیسے کھلتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کسے گمان گزر سکتا تھا کہ وہ بیمار ہے۔ میں جب بھی اسے وارڈ میں دیکھتا، مسکان زیرِ لبی کے ساتھ وہ میرا استقبال کرتی۔ گلاس پینٹنگ میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وہ جتنے بھی پیسے کماتی، اس کا بیشتر حصہ اپنے علاج پر خرچ کرنا اس کی مجبوری ہوچکی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا نام مہوش تھا۔ 25 یا 26 کے پیٹے میں تھی، مگر خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔ 26 سال جم کر لڑی مگر کیا کیا جائے کہ تھیلیسیمیا ہے ہی ایسی بیماری جس کے آگے بالآخر ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اکیلے مہوش کی کہانی نہیں بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہزاروں پھول جیسے معصوم بچے خون کی اسی موذی بیماری سے متاثر ہیں، جب کہ میری جنم بھومی سوات میں اس بیماری سے متاثر بچوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار کے قریب ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255361451d.jpg"  alt="تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd2558335250.jpg"  alt="خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاشبہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات میں صوبے کے دیگر ڈویژن اور اضلاع کے مقابلے میں یہ شرح زیادہ ہے۔ یہ خطرناک ترین صورتحال اس وقت مزید پریشان کن بن جاتی ہے جب مالاکنڈ ڈویژن میں بالعموم اور ضلع سوات میں بالخصوص حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کیا واقعی بیرونی حملہ آور اسے اپنے ساتھ لائے تھے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ سعید اپنے ایک تحقیقی مقالے ’تھیلیسیمیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟‘ میں لکھتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا خون کے اس مرض کو کہتے ہیں جس میں معیاری خون ناکافی بنتا ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کا پیدائشی نقص ہے۔ اس کی 3 اقسام ہیں: &lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;پہلی: تھیلیسیمیا مائنر، &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دوسری: تھیلیسیمیا انٹر میڈیا اور &lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تیسری: تھیلیسیمیا میجر۔‘&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھیلیسیمیا مائنر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر فوزیہ سعید تھیلیسیمیا مائنر کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ ان میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ابنارمل جین اپنے بچے کو منتقل کرسکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھیلیسیمیا انٹر میڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھیلیسیمیا انٹر میڈیا کے حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ رقم کرتی ہیں کہ ’یہ تھیلیسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ تاہم اس میں ’سائیڈ افکیٹس‘ آسکتے ہیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھیلیسیمیا میجر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھیلیسیمیا میجر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ’یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255cc5358d.jpg"  alt="متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255cece9d2.jpg"  alt="خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5cd25fcd3040a'&gt;تھیلیسیمیا کی تاریخ کیا ہے؟&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہرگز خیبرپختونخوا، مالاکنڈ ڈویژن یا سوات کی اپنی بیماری نہیں ہے۔ اس بارے میں الفجر فاؤنڈیشن سوات (تھیلیسیمیا سینٹر) کے ایڈمنسٹریٹر رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ ’سکندر اعظم اسے جنوبی ایشیا پر حملہ آور ہوتے وقت سیکڑوں سال پہلے اپنے ساتھ یونان سے لائے تھے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رحمان علی ساحل کی اس بات پر مہرِ تصدیق ڈاکٹر اندرولا الیفتھیریو اپنی انگریزی کتاب میں ثبت کرتے ہیں جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جویریہ منان ’جانیے تھیلیسیمیا‘ کے صفحہ نمبر 8 پر کچھ اس انداز میں کرتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا ایک یونانی لفظ ’تھیلس‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سمندر ہے۔ چونکہ یہ بحیرہ روم کے ارد گرد پایا جاتا تھا اور امریکی ماہرِ اطفال تھامس کولی نے ڈاکٹر پرل لی کے ساتھ مل کر پہلی بار 1927ء میں اس کی خصوصیات بیان کیں جو اٹلی کے مریضوں میں مشاہدہ کی گئیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ کتاب کے صفحہ 118 پر درج ہے کہ 'آغاز میں تھیلیسیمیا ایک خطے کی بیماری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جنوب یورپ میں پرتگال سے اسپین، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ روس کے کچھ علاقوں میں بھی موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں یہ ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور شمالی چین کے علاوہ افریقہ کے جنوبی ساحل اور جنوبی امریکہ میں بھی موجود ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حوصلہ افزا بات کتاب کے صفحہ 119 پر کچھ یوں درج ہے: ’اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک نے کامیاب قومی روک تھام کے منصوبوں سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ تھیلیسیمیا میجر پر قابو پایا جاسکتا ہے'۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔ اس حوالے سے رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ 'اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلیسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلیسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلیسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر ہوگا۔ اس لیے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔ اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلیسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25654d2cbb.jpg"  alt="یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd2565b608c5.jpg"  alt="عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پورے مالاکنڈ ڈویژن کی لاکھوں آبادی اور تقریباً 6 ہزار مریضوں کے واحد تھیلیسیمیا سینٹر الفجر فاؤنڈیشن کے کوورڈینیٹر وجاہت علی کے بقول تھیلیسیمیا کی بیماری پورے ملک میں سب سے زیادہ پشتون بیلٹ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت 80 ہزار سے زائد بچے تھیلیسیمیا سے متاثر ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جہاں پشتون زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور وہ خاندان کے اندر شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی نسل میں تھیلیسیمیا کی شرح زیادہ ہے۔ اس موذی مرض کا راستہ روکنے کے لیے سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ خاندان کے اندر ہونے والی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا کرنا کچھ خاندانوں کے لیے مشکل ہو، تو پھر چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25a1a761be.jpg"  alt="سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25a1d1bed2.jpg"  alt="مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھیلیسیمیا کے ماہرین کے مطابق اگر بیماری کا علاج نہیں ہے، تو ہم سب اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس کے حوالے سے آگاہی مہمات چلائیں، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائیں اور سب سے بڑھ کر خاندان کے اندر شادیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ تب کہیں جاکر ہم اس موذی مرض کے گرد دائرہ ڈالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			امجد علی سحاب روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5cd25fcd3036a'><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">تھیلیسیمیا کیا ہے؟ اور اس سے نجات کس طرح ممکن ہے؟</div></h1>

<p>تحریر و تصاویر: <a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864"><strong>امجد علی سحاب</strong></a></p>

<p>اس کی روشن آنکھیں اور پھول جیسے کھلتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کسے گمان گزر سکتا تھا کہ وہ بیمار ہے۔ میں جب بھی اسے وارڈ میں دیکھتا، مسکان زیرِ لبی کے ساتھ وہ میرا استقبال کرتی۔ گلاس پینٹنگ میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وہ جتنے بھی پیسے کماتی، اس کا بیشتر حصہ اپنے علاج پر خرچ کرنا اس کی مجبوری ہوچکی تھی۔ </p>

<p>اس کا نام مہوش تھا۔ 25 یا 26 کے پیٹے میں تھی، مگر خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔ 26 سال جم کر لڑی مگر کیا کیا جائے کہ تھیلیسیمیا ہے ہی ایسی بیماری جس کے آگے بالآخر ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔ </p>

<p>یہ اکیلے مہوش کی کہانی نہیں بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہزاروں پھول جیسے معصوم بچے خون کی اسی موذی بیماری سے متاثر ہیں، جب کہ میری جنم بھومی سوات میں اس بیماری سے متاثر بچوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار کے قریب ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255361451d.jpg"  alt="تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تھیلیسیمیا سینٹر میں متاثرہ بچوں کو خون کے عطیات دیے جا رہے ہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd2558335250.jpg"  alt="خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خون کی منتقلی کا تکلیف دہ عمل 3 سے 4 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بلاشبہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات میں صوبے کے دیگر ڈویژن اور اضلاع کے مقابلے میں یہ شرح زیادہ ہے۔ یہ خطرناک ترین صورتحال اس وقت مزید پریشان کن بن جاتی ہے جب مالاکنڈ ڈویژن میں بالعموم اور ضلع سوات میں بالخصوص حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔ </p>

<p>آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کیا واقعی بیرونی حملہ آور اسے اپنے ساتھ لائے تھے؟</p>

<p>اس حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ سعید اپنے ایک تحقیقی مقالے ’تھیلیسیمیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟‘ میں لکھتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا خون کے اس مرض کو کہتے ہیں جس میں معیاری خون ناکافی بنتا ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کا پیدائشی نقص ہے۔ اس کی 3 اقسام ہیں: </p>

<ul>
<li>پہلی: تھیلیسیمیا مائنر، </li>
<li>دوسری: تھیلیسیمیا انٹر میڈیا اور </li>
<li>تیسری: تھیلیسیمیا میجر۔‘</li>
</ul>

<p><strong>تھیلیسیمیا مائنر</strong></p>

<p>ڈاکٹر فوزیہ سعید تھیلیسیمیا مائنر کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ ان میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ابنارمل جین اپنے بچے کو منتقل کرسکتے ہیں۔‘</p>

<p><strong>تھیلیسیمیا انٹر میڈیا</strong></p>

<p>تھیلیسیمیا انٹر میڈیا کے حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ رقم کرتی ہیں کہ ’یہ تھیلیسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ تاہم اس میں ’سائیڈ افکیٹس‘ آسکتے ہیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘</p>

<p><strong>تھیلیسیمیا میجر</strong></p>

<p>تھیلیسیمیا میجر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ’یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255cc5358d.jpg"  alt="متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">متاثرہ بچوں کو خون منتقل کیا جارہا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd255cece9d2.jpg"  alt="خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خون کی منتقلی کا عمل جاری ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h4 id='5cd25fcd3040a'>تھیلیسیمیا کی تاریخ کیا ہے؟</h4>

<p>تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہرگز خیبرپختونخوا، مالاکنڈ ڈویژن یا سوات کی اپنی بیماری نہیں ہے۔ اس بارے میں الفجر فاؤنڈیشن سوات (تھیلیسیمیا سینٹر) کے ایڈمنسٹریٹر رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ ’سکندر اعظم اسے جنوبی ایشیا پر حملہ آور ہوتے وقت سیکڑوں سال پہلے اپنے ساتھ یونان سے لائے تھے‘۔</p>

<p>رحمان علی ساحل کی اس بات پر مہرِ تصدیق ڈاکٹر اندرولا الیفتھیریو اپنی انگریزی کتاب میں ثبت کرتے ہیں جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جویریہ منان ’جانیے تھیلیسیمیا‘ کے صفحہ نمبر 8 پر کچھ اس انداز میں کرتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا ایک یونانی لفظ ’تھیلس‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سمندر ہے۔ چونکہ یہ بحیرہ روم کے ارد گرد پایا جاتا تھا اور امریکی ماہرِ اطفال تھامس کولی نے ڈاکٹر پرل لی کے ساتھ مل کر پہلی بار 1927ء میں اس کی خصوصیات بیان کیں جو اٹلی کے مریضوں میں مشاہدہ کی گئیں۔‘</p>

<p>مذکورہ کتاب کے صفحہ 118 پر درج ہے کہ 'آغاز میں تھیلیسیمیا ایک خطے کی بیماری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جنوب یورپ میں پرتگال سے اسپین، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ روس کے کچھ علاقوں میں بھی موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں یہ ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور شمالی چین کے علاوہ افریقہ کے جنوبی ساحل اور جنوبی امریکہ میں بھی موجود ہے۔ </p>

<p>حوصلہ افزا بات کتاب کے صفحہ 119 پر کچھ یوں درج ہے: ’اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک نے کامیاب قومی روک تھام کے منصوبوں سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ تھیلیسیمیا میجر پر قابو پایا جاسکتا ہے'۔ </p>

<p>واضح رہے کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔ اس حوالے سے رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ 'اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلیسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلیسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلیسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر ہوگا۔ اس لیے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔ اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلیسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25654d2cbb.jpg"  alt="یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">یہ ایک بیگ خون متاثرہ بچوں کی ایک ماہ کی زندگی ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd2565b608c5.jpg"  alt="عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">عطیہ کیے گئے خون کا جائزہ لیا جا رہا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پورے مالاکنڈ ڈویژن کی لاکھوں آبادی اور تقریباً 6 ہزار مریضوں کے واحد تھیلیسیمیا سینٹر الفجر فاؤنڈیشن کے کوورڈینیٹر وجاہت علی کے بقول تھیلیسیمیا کی بیماری پورے ملک میں سب سے زیادہ پشتون بیلٹ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت 80 ہزار سے زائد بچے تھیلیسیمیا سے متاثر ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جہاں پشتون زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور وہ خاندان کے اندر شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی نسل میں تھیلیسیمیا کی شرح زیادہ ہے۔ اس موذی مرض کا راستہ روکنے کے لیے سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ خاندان کے اندر ہونے والی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا کرنا کچھ خاندانوں کے لیے مشکل ہو، تو پھر چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔‘</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25a1a761be.jpg"  alt="سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوات کی مصروف شاہراہ پر تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی واک کا منظر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25a1d1bed2.jpg"  alt="مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مینگورہ شہر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں متاثرہ بچے شریک ہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تھیلیسیمیا کے ماہرین کے مطابق اگر بیماری کا علاج نہیں ہے، تو ہم سب اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس کے حوالے سے آگاہی مہمات چلائیں، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائیں اور سب سے بڑھ کر خاندان کے اندر شادیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ تب کہیں جاکر ہم اس موذی مرض کے گرد دائرہ ڈالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ </p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			امجد علی سحاب روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102829</guid>
      <pubDate>Wed, 08 May 2019 09:49:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd25b838a83e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd25b838a83e.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
