<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:09:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:09:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صحافتی تنظیموں کی ڈان گروپ کے سرکاری اشتہارات پر پابندی کی مذمت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1102947/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) اور پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ پر لگائی گئی اشتہارات کی پابندی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے علیحدہ بیانات میں دونوں تنظیموں نے میڈیا کو احکامات کے تحت کام کرنے پر مجبور کرنے کے لیے سرکاری اشتہارات کو بطور آلہ کار استعمال کرنے کی سخت مذمت کی جو آزادی صحافت کو واضح طور پر محدود کرنے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی این ایس نے اس قسم کے اقدام کو اختلافِ رائے کی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا جو نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697"&gt;ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے بیان میں انہوں نے کہا ’یہ پالیسی آمرانہ طرزِ حکومت کی پیروی اور آئین کی دفعہ 19 کی خلاف ورزی ہے جو آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی این ایس نے ذکر کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح لفظوں میں صحافت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کی حکومت آزادی صحافت کا تحفظ کرے گی اور اب حکومت مسلسل اس قسم کے اقدامات، سرکاری اشتہارات کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر کے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کروا کے پریس کو قابو کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082215"&gt;ملک گیر احتجاجی کیمپس کا انعقاد، ڈان گروپ سے یکجہتی کا اظہار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی بی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ ماضی کے ہتھکنڈے تھے لیکن نئے پاکستان میں ہمیں نئے سنگِ میل قائم کرنے اور نئے رجحانات کی توقع تھی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں تنظیموں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وزارت اطلاعات کو ڈان میڈیا گروپ کے سرکاری اشہارات پر فوری پابندی اٹھانے کی ہدایت کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 9 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) اور پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ پر لگائی گئی اشتہارات کی پابندی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔</strong></p>

<p>اپنے علیحدہ بیانات میں دونوں تنظیموں نے میڈیا کو احکامات کے تحت کام کرنے پر مجبور کرنے کے لیے سرکاری اشتہارات کو بطور آلہ کار استعمال کرنے کی سخت مذمت کی جو آزادی صحافت کو واضح طور پر محدود کرنے کے مترادف ہے۔</p>

<p>اے پی این ایس نے اس قسم کے اقدام کو اختلافِ رائے کی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا جو نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697">ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری</a></strong> </p>

<p>اپنے بیان میں انہوں نے کہا ’یہ پالیسی آمرانہ طرزِ حکومت کی پیروی اور آئین کی دفعہ 19 کی خلاف ورزی ہے جو آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے'۔</p>

<p>اے پی این ایس نے ذکر کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح لفظوں میں صحافت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کی حکومت آزادی صحافت کا تحفظ کرے گی اور اب حکومت مسلسل اس قسم کے اقدامات، سرکاری اشتہارات کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر کے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کروا کے پریس کو قابو کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کررہی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082215">ملک گیر احتجاجی کیمپس کا انعقاد، ڈان گروپ سے یکجہتی کا اظہار</a></strong></p>

<p>دوسری جانب پی بی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ ماضی کے ہتھکنڈے تھے لیکن نئے پاکستان میں ہمیں نئے سنگِ میل قائم کرنے اور نئے رجحانات کی توقع تھی‘۔</p>

<p>دونوں تنظیموں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وزارت اطلاعات کو ڈان میڈیا گروپ کے سرکاری اشہارات پر فوری پابندی اٹھانے کی ہدایت کریں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 9 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1102947</guid>
      <pubDate>Thu, 09 May 2019 12:01:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd3c071104ea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd3c071104ea.jpg"/>
        <media:title>پی بی اے کے مطابق یہ پالیسی آمرانہ طرزِ حکومت کی پیروی ہے جو آئین کی دفعہ 19 کی خلاف ورزی ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
