<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:35:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:35:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>180 ممالک کا سمندر میں پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کیلئے معاہدہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103066/</link>
      <description>&lt;p&gt;180 ممالک کے درمیان سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کو کم کرنے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تمام ممالک باسل کنونشن میں ترمیم کرنے پر آمادہ ہوئے تاکہ پلاسٹک پر عالمی تجارت کو مزید شفاف، بہتر اور اصولوں کے مطابق کیا جاسکے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی جاسکے کہ اس کا استعمال انسانی صحت اور ماحول کے لیے محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081094"&gt;پلاسٹک گردی: انسانی سہولت ماحولیات کے لیے تباہی سے کم نہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ماحولیات برائے باسل، روٹرڈیم اور اسٹاک ہوم کنونشنز کے ایگزیکٹو سیکریٹری رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ رواں ہفتے جنیوا میں باسل کنونشن کے شریک ممالک کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ قانونی طور پر پلاسٹک کے فضلے کی عالمی سطح پر نگرانی کی جائے گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے فضلے سے پھیلنے والی آلودگی ماحولیاتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ عالمی توجہ کا مرکز بھی ہے، سمندروں میں اس وقت 10 کروڑ ٹن پلاسٹک موجود ہے جس میں سے 80 سے 90 فیصد زمین سے وہاں پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 11 روز قبل شروع ہونے والے مذاکرات، جس میں 1400 کے قریب وفود نے شرکت کی تھی، امیدوں سے کہیں بڑھ کر بہتر رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079840"&gt;50 ممالک میں ’پلاسٹک آلودگی‘ کے خلاف کریک ڈاؤن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’نئے قوانین سے سمندری آلودگی پر اثرات سامنے آئیں گے اور پلاسٹک وہاں نہیں جائے گا جہاں اسے نہیں جانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ’جنت میں پلاسٹک کو پھینکنا بند کرو‘ کے نام سے ایک آن لائن پٹیشن پر لاکھوں افراد دستخط کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان نئے قوانین کا اطلاق ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا تاہم رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس میں تاخیر نہیں چاہتے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>180 ممالک کے درمیان سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کو کم کرنے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تمام ممالک باسل کنونشن میں ترمیم کرنے پر آمادہ ہوئے تاکہ پلاسٹک پر عالمی تجارت کو مزید شفاف، بہتر اور اصولوں کے مطابق کیا جاسکے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی جاسکے کہ اس کا استعمال انسانی صحت اور ماحول کے لیے محفوظ ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081094">پلاسٹک گردی: انسانی سہولت ماحولیات کے لیے تباہی سے کم نہیں</a></strong></p>

<p>اقوام متحدہ کے ماحولیات برائے باسل، روٹرڈیم اور اسٹاک ہوم کنونشنز کے ایگزیکٹو سیکریٹری رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ رواں ہفتے جنیوا میں باسل کنونشن کے شریک ممالک کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ قانونی طور پر پلاسٹک کے فضلے کی عالمی سطح پر نگرانی کی جائے گی‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے فضلے سے پھیلنے والی آلودگی ماحولیاتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ عالمی توجہ کا مرکز بھی ہے، سمندروں میں اس وقت 10 کروڑ ٹن پلاسٹک موجود ہے جس میں سے 80 سے 90 فیصد زمین سے وہاں پہنچا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ 11 روز قبل شروع ہونے والے مذاکرات، جس میں 1400 کے قریب وفود نے شرکت کی تھی، امیدوں سے کہیں بڑھ کر بہتر رہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079840">50 ممالک میں ’پلاسٹک آلودگی‘ کے خلاف کریک ڈاؤن</a></strong></p>

<p>رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’نئے قوانین سے سمندری آلودگی پر اثرات سامنے آئیں گے اور پلاسٹک وہاں نہیں جائے گا جہاں اسے نہیں جانا چاہیے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ’جنت میں پلاسٹک کو پھینکنا بند کرو‘ کے نام سے ایک آن لائن پٹیشن پر لاکھوں افراد دستخط کرچکے ہیں۔</p>

<p>ان نئے قوانین کا اطلاق ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا تاہم رولف پایٹ کا کہنا تھا کہ ’متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس میں تاخیر نہیں چاہتے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103066</guid>
      <pubDate>Mon, 13 May 2019 16:31:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd5cea9ab5c1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd5cea9ab5c1.jpg"/>
        <media:title>180 ممالک کے درمیان سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کو کم کرنے پر معاہدہ طے پاگیا ہے — فائل فوٹو/رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
