<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:49:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:49:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایف یو جے کی ڈان گروپ کے سرکاری اشتہارات پر پابندی کی مذمت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103091/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے اشتہارات پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا کی آزادی کے خلاف قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایف یو جے کے اپنے گروپ کے سربراہ افضل بٹ اور سیکریٹری ایوب جان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تمام جمہوری اقدار کے خلاف اور آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، جو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ صحافی آئین میں بتائی گئی حدود اور پابندیوں سے باخبر ہیں، ’تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ڈان میڈیا گروپ کو صرف اس وجہ سے سزا دے رہی ہے کیونکہ کچھ حلقے گورننس کی موجودہ حالت پر کے اس اخبار اور ٹی وی چینل کی جانب سے نشر کیے گئے آزادانہ خیالات سے ناخوش ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102947/"&gt;صحافتی تنظیموں کی ڈان گروپ کے سرکاری اشتہارات پر پابندی کی مذمت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں عہدیداروں کی جانب سے کہا گیا کہ ایک منتخب حکومت کو آزادی اظہار کو خاموش کروانے کے لیے اشتہارات کو بطور آلہ کار استعمال کرنے کے ’فوجی آمروں کے حربوں‘ کو اپنانے سے گریز کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پی ایف یو جے کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ حکومتی میڈیا ٹیم کے کچھ اراکین نیوز رپورٹس کے زاویے اور سرخیوں کی تجاویز دے کر اخبار کے اندرونی پالیسی معاملات میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صحافی میڈیا پر قدغن کو برداشت نہیں کریں گے اور اگر حکومت نے پابندیاں لگانے کا عمل جاری رکھا تو ان کے پاس مختلف فورمز پر احتجاج کا حق استعمال کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے بھی حکومت کی جانب ڈان میڈیا گروپ کے اشتہارات کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے اسے میڈیا کا گلا گھوٹنے کی کوشش قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697"&gt;ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے یو جے کے صدر اشرف خان اور جنرل سیکریٹری احمد خان ملک نے حکومتی اقدام کو تحریک انصاف کی جانب سے میڈیا کو خاموش کرانے کو کوششوں کا تسلسل قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ صحافیوں اور دیگر اخباری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا اور میڈیا کے مالی لائف لائن کا دم گھوٹا جارہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے یو جے نے اس پابندی کو فوری طور ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آزاد اور خودمختار میڈیا کے بغیر ملک میں جمہوریت پروان نہیں چڑسکتی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 11 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے اشتہارات پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا کی آزادی کے خلاف قرار دے دیا۔</p>

<p>پی ایف یو جے کے اپنے گروپ کے سربراہ افضل بٹ اور سیکریٹری ایوب جان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تمام جمہوری اقدار کے خلاف اور آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، جو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ صحافی آئین میں بتائی گئی حدود اور پابندیوں سے باخبر ہیں، ’تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ڈان میڈیا گروپ کو صرف اس وجہ سے سزا دے رہی ہے کیونکہ کچھ حلقے گورننس کی موجودہ حالت پر کے اس اخبار اور ٹی وی چینل کی جانب سے نشر کیے گئے آزادانہ خیالات سے ناخوش ہیں‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102947/">صحافتی تنظیموں کی ڈان گروپ کے سرکاری اشتہارات پر پابندی کی مذمت</a></strong></p>

<p>دونوں عہدیداروں کی جانب سے کہا گیا کہ ایک منتخب حکومت کو آزادی اظہار کو خاموش کروانے کے لیے اشتہارات کو بطور آلہ کار استعمال کرنے کے ’فوجی آمروں کے حربوں‘ کو اپنانے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>

<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پی ایف یو جے کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ حکومتی میڈیا ٹیم کے کچھ اراکین نیوز رپورٹس کے زاویے اور سرخیوں کی تجاویز دے کر اخبار کے اندرونی پالیسی معاملات میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ صحافی میڈیا پر قدغن کو برداشت نہیں کریں گے اور اگر حکومت نے پابندیاں لگانے کا عمل جاری رکھا تو ان کے پاس مختلف فورمز پر احتجاج کا حق استعمال کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔</p>

<p>علاوہ ازیں کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے بھی حکومت کی جانب ڈان میڈیا گروپ کے اشتہارات کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے اسے میڈیا کا گلا گھوٹنے کی کوشش قرار دیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697">ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری</a></strong></p>

<p>کے یو جے کے صدر اشرف خان اور جنرل سیکریٹری احمد خان ملک نے حکومتی اقدام کو تحریک انصاف کی جانب سے میڈیا کو خاموش کرانے کو کوششوں کا تسلسل قرار دیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ صحافیوں اور دیگر اخباری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا اور میڈیا کے مالی لائف لائن کا دم گھوٹا جارہا ہے‘۔</p>

<p>کے یو جے نے اس پابندی کو فوری طور ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آزاد اور خودمختار میڈیا کے بغیر ملک میں جمہوریت پروان نہیں چڑسکتی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 11 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103091</guid>
      <pubDate>Sat, 11 May 2019 13:24:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd6857c96555.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd6857c96555.jpg"/>
        <media:title>صحافی آئین میں بتائی گئی حدود اور پابندیوں سے باخبر ہیں—فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
