<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:29:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:29:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’دلہنوں کی چین اسمگلنگ’، ایف آئی اے کا سندھ میں کارروائی کا آغاز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103185/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی میں سامنے آنے والے ’دلہنوں کی اسمگلنگ‘ کے ریکیٹ کے معاملے میں اپنی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے صوبہ سندھ میں ’خفیہ اطلاعات کی بنیاد‘ پر کارروائی کا آغاز کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1481886/fia-keeping-close-tabs-on-chinese-who-may-be-behind-bride-trafficking-in-sindh"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ میں پہلے ہی اسکمنگ ڈیوائسز کے ذریعے بینکوں اور صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے پر کئی چینی شہریوں کو پکڑا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے سندھ کو پہلے ہی اسلام آباد میں اپنے ہیڈکوارٹرز سے موصول ہونے والے اعلامیے میں چوکنا رہنے، اپنی حکمت عملی مرتب کرنے اور ان علاقوں کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا، جہاں حالیہ اسکینڈل سے متعلق قابل عمل معلومات موجود ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102956/"&gt;فیصل آباد: پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو زیادہ سنجیدہ اس لیے لیا جارہا ہے کیونکہ کراچی سمیت سندھ کے حصوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی ایک تاریخ ہے، جس میں مبینہ طور پر چینی شہری ملوث تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے سندھ زون کے ڈائریکٹر سلطان خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم یقینی طور پر محتاط ہیں اور اس سلسلے میں اپنی توجہ تمام ملحقہ علاقوں پر رکھے ہوئے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’پنجاب میں یہ ریکیٹ سامنے آیا تھا، جہاں کچھ کیسز میں متاثرین نے انتظامیہ تک رسائی حاصل کی جس سے تحقیقات مزید آگے بڑھیں اور گینگ کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ یہاں ہمیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن ہم نے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اقدام اٹھا رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ الزامات پریشان کن طور پر کم از کم دیگر 5 ایشیائی ممالک سے ’دلہنوں‘ کی چین اسمگلنگ کے طریقہ کار کے مطابقت رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102911/"&gt;پاکستانی لڑکیوں کی اسمگلنگ: چینی باشندوں سمیت مزید 14 افراد گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اسلام آباد میں موجود چینی سفارتخانے نے بھی غیر قانونی، سرحد پار شادیوں کی خدمات، جو اکثر انسانی اسمگلنگ کے لیے ڈھال ہوتی ہے، پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ایک بیان میں چین نے غیر قانونی شادیوں کی منصوبہ بندی کرنے کی رپورٹس پر مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چین پاکستانی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ان غیر قانونی شادیوں کے مراکز تک رسائی کے لیے ساتھ کام کر رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی حکام کے ساتھ تعاون اور مختلف گرفتاریوں کے بعد ایف آئی اے کو یقین ہے کہ اب بھی گینگ کے رکن فعال ہوسکتے ہیں اور وہ ’کیس کو بند‘ کرنے کا نہیں کہہ سکتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی میں سامنے آنے والے ’دلہنوں کی اسمگلنگ‘ کے ریکیٹ کے معاملے میں اپنی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے صوبہ سندھ میں ’خفیہ اطلاعات کی بنیاد‘ پر کارروائی کا آغاز کردیا۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1481886/fia-keeping-close-tabs-on-chinese-who-may-be-behind-bride-trafficking-in-sindh"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ میں پہلے ہی اسکمنگ ڈیوائسز کے ذریعے بینکوں اور صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے پر کئی چینی شہریوں کو پکڑا گیا تھا۔</p>

<p>اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے سندھ کو پہلے ہی اسلام آباد میں اپنے ہیڈکوارٹرز سے موصول ہونے والے اعلامیے میں چوکنا رہنے، اپنی حکمت عملی مرتب کرنے اور ان علاقوں کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا، جہاں حالیہ اسکینڈل سے متعلق قابل عمل معلومات موجود ہوں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102956/">فیصل آباد: پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو زیادہ سنجیدہ اس لیے لیا جارہا ہے کیونکہ کراچی سمیت سندھ کے حصوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی ایک تاریخ ہے، جس میں مبینہ طور پر چینی شہری ملوث تھے۔</p>

<p>ایف آئی اے کے سندھ زون کے ڈائریکٹر سلطان خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم یقینی طور پر محتاط ہیں اور اس سلسلے میں اپنی توجہ تمام ملحقہ علاقوں پر رکھے ہوئے ہیں‘۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’پنجاب میں یہ ریکیٹ سامنے آیا تھا، جہاں کچھ کیسز میں متاثرین نے انتظامیہ تک رسائی حاصل کی جس سے تحقیقات مزید آگے بڑھیں اور گینگ کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ یہاں ہمیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن ہم نے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اقدام اٹھا رہے ہیں‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا۔</p>

<p>یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔</p>

<p>ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ الزامات پریشان کن طور پر کم از کم دیگر 5 ایشیائی ممالک سے ’دلہنوں‘ کی چین اسمگلنگ کے طریقہ کار کے مطابقت رکھتے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102911/">پاکستانی لڑکیوں کی اسمگلنگ: چینی باشندوں سمیت مزید 14 افراد گرفتار</a></strong></p>

<p>دوسری جانب اسلام آباد میں موجود چینی سفارتخانے نے بھی غیر قانونی، سرحد پار شادیوں کی خدمات، جو اکثر انسانی اسمگلنگ کے لیے ڈھال ہوتی ہے، پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>

<p>گزشتہ ماہ ایک بیان میں چین نے غیر قانونی شادیوں کی منصوبہ بندی کرنے کی رپورٹس پر مذمت کی تھی۔</p>

<p>اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چین پاکستانی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ان غیر قانونی شادیوں کے مراکز تک رسائی کے لیے ساتھ کام کر رہا ہے‘۔</p>

<p>چینی حکام کے ساتھ تعاون اور مختلف گرفتاریوں کے بعد ایف آئی اے کو یقین ہے کہ اب بھی گینگ کے رکن فعال ہوسکتے ہیں اور وہ ’کیس کو بند‘ کرنے کا نہیں کہہ سکتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103185</guid>
      <pubDate>Mon, 13 May 2019 10:48:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd8fb6cdfed7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd8fb6cdfed7.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd8fa8d99620.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cd8fa8d99620.jpg"/>
        <media:title>اسلام آباد اور پنجاب میں کارروائی میں درجنوں چینی باشندے گرفتار کیے گئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
