<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:13:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:13:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلم پروڈیوسر پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خواتین معاہدہ کرنے کو تیار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103944/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں ’می ٹو‘ مہم کے آغاز کا سبب بننے والے ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے کیس میں اہم موڑ آگیا اور ان پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خواتین رقم کے بدلے ان سے معاہدے کو تیار ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;66 سالہ ہاروی وائنسٹن پر اکتوبر 2017 میں پہلی بار متعدد &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066225/"&gt;&lt;strong&gt;خواتین نے جنسی ہراساں، جنسی تعلقات اور ریپ جیسے الزامات لگائے تھے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;، تاہم فلم پروڈیوسر نے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ہاروی وائنسٹن کے خلاف دیگر خواتین بھی سامنے آئی تھیں اور مجموعی طور پر 100 کے قریب خواتین و اداکاراؤں نے فلم پروڈیوسر پر جنسی ہراساں اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان پر الزامات لگانے والی اداکاروں میں سلمیٰ ہائیک، ایشلے جڈ، اسیا ارگینتو، روسانا آرکوئٹے، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کنڈیل، گوینتھ پالٹرو، ہیدر گراہم، روسانا آرکوئٹے، امبرا بٹیلانا، زوئے بروک، ایما دی کانس، کارا دیلوگنے، لوشیا ایونز، رومولا گرائے، ایلزبیتھ ویسٹوڈ، جڈتھ گودریچے، ڈان ڈیننگ، جیسیکا ہائنز، روز میکگوان، ٹومی این رابرٹس، لیا سینڈوئکس، لورین سوین اور مرا سرینوسمیت دیگر اداکارائیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاروی وائنسٹن کے خلاف خواتین کے سامنے آنے کے بعد ہی ’می ٹو‘ مہم کا آغاز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین کے الزامات کے بعد ہاروی وائنسٹن کے خلاف نیویارک اور لندن &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066271"&gt;&lt;strong&gt;پولیس نے الگ الگ تحقیقات کا آغاز کیا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اور کئی فلم کمپنیوں نے بھی فلم پروڈیوسر کا بائیکاٹ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b13be68effda.jpg"  alt="ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی خواتین میں معروف اداکارائیں بھی شامل ہیں&amp;mdash;فوٹو: یو ایس ٹوڈے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی خواتین میں معروف اداکارائیں بھی شامل ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ہاروی وائنسٹن کے خلاف کیس کا آغاز ہوا اور عدالت نے اب تک ان پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081594"&gt;&lt;strong&gt;جنسی جرائم کے تحت 2 بار فرد جرم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی عائد کی ہے اور اس وقت وہ خواتین کا ریپ اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات کے تحت گھر میں نظر بند ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی جرائم کے تحت عائد کی گئی فرم کے تحت انہیں سزائیں سنائے کا آغاز رواں برس ستمبر میں ہوگا، تاہم اب اطلاعات سامنے آئیں کہ ان سماعتوں سے قبل ہی فلم پروڈیوسر متاثرہ اداکاروں و خواتین سے ڈیل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاروی وائنسٹن ان خواتین سے معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جنہوں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b13bdbd6ca17.jpg"  alt="معاہدے کے باوجود فلم پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمات ختم نہیں ہوں گے، رپورٹ&amp;mdash;فائل فوٹوگلیمر یوکے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;معاہدے کے باوجود فلم پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمات ختم نہیں ہوں گے، رپورٹ—فائل فوٹوگلیمر یوکے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ہاروی وائنسٹن اور خواتین کے درمیان معاہدہ کروانے میں کردار ادا کرنے والے قانوندانوں کی ٹیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ابھی معاہدہ ابتدائی مراحل میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگر ہاروی وائنسٹن اور ان پر الزام لگانے والی خواتین مجوزہ معاہدے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو الزام لگانے والی خواتین کو 4 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدہ ہونے کے بعد ہاروی وائنسٹن کے خلاف ان خواتین کے الزامات کے تحت بنائے گئے تمام سول کیسز ختم ہوجائیں گے، تاہم اس معاہدے سے فلم پروڈیوسر کے خلاف جاری فوجداری کیسز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں ہاروی وائنسٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے رضامندی کے لیے تیار ہونے والی خواتین کے نام نہیں بتائے گئے، تاہم بتایا گیا کہ جلد معاہدے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5ce7a3b481f78.jpg"  alt="فلم پروڈیوسر پر الزام لگانے والی اداکاراؤں میں سلمیٰ ہائیک اور ایشلے جڈ بھی شامل ہیں&amp;mdash;فائل فوٹو: کملیکس" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلم پروڈیوسر پر الزام لگانے والی اداکاراؤں میں سلمیٰ ہائیک اور ایشلے جڈ بھی شامل ہیں—فائل فوٹو: کملیکس&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں ’می ٹو‘ مہم کے آغاز کا سبب بننے والے ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے کیس میں اہم موڑ آگیا اور ان پر جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خواتین رقم کے بدلے ان سے معاہدے کو تیار ہوگئیں۔</p>

<p>66 سالہ ہاروی وائنسٹن پر اکتوبر 2017 میں پہلی بار متعدد <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066225/"><strong>خواتین نے جنسی ہراساں، جنسی تعلقات اور ریپ جیسے الزامات لگائے تھے</strong></a>، تاہم فلم پروڈیوسر نے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں ہاروی وائنسٹن کے خلاف دیگر خواتین بھی سامنے آئی تھیں اور مجموعی طور پر 100 کے قریب خواتین و اداکاراؤں نے فلم پروڈیوسر پر جنسی ہراساں اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔</p>

<p>ان پر الزامات لگانے والی اداکاروں میں سلمیٰ ہائیک، ایشلے جڈ، اسیا ارگینتو، روسانا آرکوئٹے، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کنڈیل، گوینتھ پالٹرو، ہیدر گراہم، روسانا آرکوئٹے، امبرا بٹیلانا، زوئے بروک، ایما دی کانس، کارا دیلوگنے، لوشیا ایونز، رومولا گرائے، ایلزبیتھ ویسٹوڈ، جڈتھ گودریچے، ڈان ڈیننگ، جیسیکا ہائنز، روز میکگوان، ٹومی این رابرٹس، لیا سینڈوئکس، لورین سوین اور مرا سرینوسمیت دیگر اداکارائیں شامل تھیں۔</p>

<p>ہاروی وائنسٹن کے خلاف خواتین کے سامنے آنے کے بعد ہی ’می ٹو‘ مہم کا آغاز ہوا تھا۔</p>

<p>خواتین کے الزامات کے بعد ہاروی وائنسٹن کے خلاف نیویارک اور لندن <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066271"><strong>پولیس نے الگ الگ تحقیقات کا آغاز کیا تھا</strong></a> اور کئی فلم کمپنیوں نے بھی فلم پروڈیوسر کا بائیکاٹ کردیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b13be68effda.jpg"  alt="ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی خواتین میں معروف اداکارائیں بھی شامل ہیں&mdash;فوٹو: یو ایس ٹوڈے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی خواتین میں معروف اداکارائیں بھی شامل ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں ہاروی وائنسٹن کے خلاف کیس کا آغاز ہوا اور عدالت نے اب تک ان پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081594"><strong>جنسی جرائم کے تحت 2 بار فرد جرم</strong></a> بھی عائد کی ہے اور اس وقت وہ خواتین کا ریپ اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات کے تحت گھر میں نظر بند ہیں۔</p>

<p>ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی جرائم کے تحت عائد کی گئی فرم کے تحت انہیں سزائیں سنائے کا آغاز رواں برس ستمبر میں ہوگا، تاہم اب اطلاعات سامنے آئیں کہ ان سماعتوں سے قبل ہی فلم پروڈیوسر متاثرہ اداکاروں و خواتین سے ڈیل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاروی وائنسٹن ان خواتین سے معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جنہوں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رکھا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b13bdbd6ca17.jpg"  alt="معاہدے کے باوجود فلم پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمات ختم نہیں ہوں گے، رپورٹ&mdash;فائل فوٹوگلیمر یوکے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">معاہدے کے باوجود فلم پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمات ختم نہیں ہوں گے، رپورٹ—فائل فوٹوگلیمر یوکے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>رپورٹ کے مطابق ہاروی وائنسٹن اور خواتین کے درمیان معاہدہ کروانے میں کردار ادا کرنے والے قانوندانوں کی ٹیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ابھی معاہدہ ابتدائی مراحل میں ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق اگر ہاروی وائنسٹن اور ان پر الزام لگانے والی خواتین مجوزہ معاہدے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو الزام لگانے والی خواتین کو 4 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم ادا کی جائے گی۔</p>

<p>معاہدہ ہونے کے بعد ہاروی وائنسٹن کے خلاف ان خواتین کے الزامات کے تحت بنائے گئے تمام سول کیسز ختم ہوجائیں گے، تاہم اس معاہدے سے فلم پروڈیوسر کے خلاف جاری فوجداری کیسز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔</p>

<p>رپورٹ میں ہاروی وائنسٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے رضامندی کے لیے تیار ہونے والی خواتین کے نام نہیں بتائے گئے، تاہم بتایا گیا کہ جلد معاہدے کا امکان ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5ce7a3b481f78.jpg"  alt="فلم پروڈیوسر پر الزام لگانے والی اداکاراؤں میں سلمیٰ ہائیک اور ایشلے جڈ بھی شامل ہیں&mdash;فائل فوٹو: کملیکس" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلم پروڈیوسر پر الزام لگانے والی اداکاراؤں میں سلمیٰ ہائیک اور ایشلے جڈ بھی شامل ہیں—فائل فوٹو: کملیکس</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103944</guid>
      <pubDate>Fri, 24 May 2019 13:00:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5ce7a240b4896.jpg?r=430694038" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5ce7a240b4896.jpg?r=1025239732"/>
        <media:title>ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی جرائم کے تحت فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے—فائل فوٹو: زمبیو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
