<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:59:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:59:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کا سیکڑوں اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے پر غور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104172/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) غیر اہم اشیا کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سیکڑوں مصنوعات پر ریگولیٹر ڈیوٹی کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1485054/fbr-looks-to-regulatory-duties-in-ambitious-revenue-plan-for-2019-20"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس وقت غیر اہم اشیا کی درآمد پر 2 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جبکہ حکومت کی جانب سے تقریباً 19 سو اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے برعکس حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مخصوص سیکٹرز کو دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے اور نئی مصنوعات پر ڈیوٹی لگانے کے لیے آمدنی کی منصوبہ بندی کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسٹم کے ریونیو پلان اور ایف بی آر حکام کے مطابق تجویز شدہ اقدامات کو زیر غور لایا جائے گا جبکہ انہیں آئندہ چند ہفتوں میں حتمی شکل بھی دے دی جائے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086976"&gt;نئی حکومت کا سابقہ حکومت کی ٹیکس استثنیٰ پالیسی واپس لینے پر غور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت آئندہ بجٹ میں قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد عائد کی جاسکتی ہے جس کی مدد سے ایف بی آر کی آمدنی میں ایک سو ارب روپے کا اضافہ ہوگا جبکہ حکومت ایل این جی کی فروخت پر 12 فیصد سیلز ٹیکس پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر 3 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے، ایف بی آر سے اُمید لگائی جارہی ہے کہ اس طرح سے 40 ارب روپے سے آمدن بڑھے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیرف لائن پر ڈیوٹی کو 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد، 16 فیصد ٹیکس سلیب میں آنے والی اشیا کی اضافی کسٹم ڈیوٹی کو 2 سے بڑھا کر 4 فیصد جبکہ 20 فیصد کے سلیب میں آنے والی اشیا کی اضافی کسٹم ڈیوٹی کو 2 سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت کسٹمز ایکٹ کے 5ویں شیڈول کا استعمال آہستہ آہستہ ختم کر رہی ہے جو کچھ اشیا کی کسٹم ڈیوٹی کم کرتے ہوئے بالکل ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090088"&gt;کسٹم عدالت کا درآمد کنندگان سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسٹمز ریونیو منصوبے کے مطابق حکومت ایس آر او 565 کو ختم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے جو ایف بی آر کی آمدنی میں آئندہ مالی سال کے دوران 18 ارب روپے کا اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ ایس آر او 655 کو بھی ختم کرنے کا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس سے آئندہ مالی سال کے دوران 6 ارب روپے آمدن میں اضافہ ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں کسٹم ڈیوٹی پر دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے کی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس سے سالانہ 7 ارب روپے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) غیر اہم اشیا کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سیکڑوں مصنوعات پر ریگولیٹر ڈیوٹی کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1485054/fbr-looks-to-regulatory-duties-in-ambitious-revenue-plan-for-2019-20"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس وقت غیر اہم اشیا کی درآمد پر 2 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جبکہ حکومت کی جانب سے تقریباً 19 سو اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ </p>

<p>اس کے برعکس حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مخصوص سیکٹرز کو دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے اور نئی مصنوعات پر ڈیوٹی لگانے کے لیے آمدنی کی منصوبہ بندی کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ </p>

<p>کسٹم کے ریونیو پلان اور ایف بی آر حکام کے مطابق تجویز شدہ اقدامات کو زیر غور لایا جائے گا جبکہ انہیں آئندہ چند ہفتوں میں حتمی شکل بھی دے دی جائے گی۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086976">نئی حکومت کا سابقہ حکومت کی ٹیکس استثنیٰ پالیسی واپس لینے پر غور</a></strong></p>

<p>اس منصوبے کے تحت آئندہ بجٹ میں قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد عائد کی جاسکتی ہے جس کی مدد سے ایف بی آر کی آمدنی میں ایک سو ارب روپے کا اضافہ ہوگا جبکہ حکومت ایل این جی کی فروخت پر 12 فیصد سیلز ٹیکس پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ </p>

<p>اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر 3 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے، ایف بی آر سے اُمید لگائی جارہی ہے کہ اس طرح سے 40 ارب روپے سے آمدن بڑھے گی۔ </p>

<p>ٹیرف لائن پر ڈیوٹی کو 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد، 16 فیصد ٹیکس سلیب میں آنے والی اشیا کی اضافی کسٹم ڈیوٹی کو 2 سے بڑھا کر 4 فیصد جبکہ 20 فیصد کے سلیب میں آنے والی اشیا کی اضافی کسٹم ڈیوٹی کو 2 سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ </p>

<p>اس کے علاوہ حکومت کسٹمز ایکٹ کے 5ویں شیڈول کا استعمال آہستہ آہستہ ختم کر رہی ہے جو کچھ اشیا کی کسٹم ڈیوٹی کم کرتے ہوئے بالکل ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090088">کسٹم عدالت کا درآمد کنندگان سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول کرنے کا حکم</a></strong></p>

<p>کسٹمز ریونیو منصوبے کے مطابق حکومت ایس آر او 565 کو ختم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے جو ایف بی آر کی آمدنی میں آئندہ مالی سال کے دوران 18 ارب روپے کا اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ </p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ ایس آر او 655 کو بھی ختم کرنے کا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس سے آئندہ مالی سال کے دوران 6 ارب روپے آمدن میں اضافہ ہوگا۔ </p>

<p>علاوہ ازیں کسٹم ڈیوٹی پر دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے کی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس سے سالانہ 7 ارب روپے آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104172</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jun 2019 16:08:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cecc649cfbaf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cecc649cfbaf.jpg"/>
        <media:title>تقریباً 19 سو اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا منصوبہ حکومتی حکام کے زیر غور ہے — فائل فوٹو/ڈان اخبار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
