<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 03:26:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 03:26:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہراساں کیے جانے کو واویلا قرار دینے پر شازیہ مری کا کاشف عباسی کو کرارا جواب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104216/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین (ر) جسٹس جاوید اقبال کی خاتون کے  ساتھ مبینہ آڈیو اور ویڈیو کے معاملے پر پورے ملک میں بحث جاری ہے اور اپوزیشن نے اس معاملے کی تفتیش کرانے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نیب نے اس ویڈیو اور آڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے سازش قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ویڈیو او آڈیو کلپ کچھ دن قبل نجی نیوز چینل ’نیوز ون‘ پر نشر کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو اور آڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر سوشل میڈیا سمیت قومی میڈیا پر بحث جاری ہے اور نجی نیوز چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بھی اسی حوالے سے گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے آر وائی کے پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق گورنر سندھ محمد زبیر، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن اسمبلی عندلیب عباس شریک ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5cf0f3055e71f'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103924/"&gt;نیب چیئرمین سے منسلک آڈیو جعلی اور جھوٹ پر مبنی ہے، ترجمان&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;پروگرام میں چیئرمین نیب کی مبینہ ویڈیو اور آڈیو پر میزبان کاشف عباسی نے سوال کیا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن اب تک چیئرمین نیب کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور تحقیقات کرکے سامنے کیا لانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میزبان کے سوال پر پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے جواب دیا کہ ویڈیوز اور آڈیوز سامنے آنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور ان کی تحقیقات ہونی چاہیے کیوں کہ اس میں ’ہراسمنٹ‘ جیسے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جس پر میزبان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں تو ہراسمنٹ نظر نہیں آ رہی‘ ان کا اصرار تھا کہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر شازیہ مری نے جواب دیا کہ مرد کے لیے کہنا بہت آسان ہوتا ہے کہ ہراسمنٹ نہیں ہوئی جس پر میزبان نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ویڈیوز کو دیکھنے اور آڈیوز کو سننے کے بعد یہ لگ نہیں رہا کہ خاتون کے ساتھ ہراسمنٹ ہوئی؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کاشف عباسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ خواتین کے لیے بڑا آسان ہوتا ہے اور وہ ہراسمنٹ ہراسمنٹ کا شور ڈال دیتی ہیں، یہاں تک کہ گڈ مارننگ کے میسیجز کو بھی ہراسمنٹ کہتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میزبان کے جواب میں شازیہ مری نے ناگواری اور  غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہراسمنٹ پر شور نہیں کرتیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے تب ہی وہ آواز اٹھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون رکن اسمبلی نے کاشف عباسی کو کہا کہ میں آپ کو ایک حساس آدمی سمجھتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کاشف عباسی نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ سامنےآنے والی ویڈیوز اور آڈیوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خواتین ہمیشہ ویمن کارڈ استعمال کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5cf0f3055e747'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103967"&gt;مسلم لیگ(ن) کا چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ آڈیو، ویڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;جس پر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ کسی کی جانب سے مرد یا خاتون کارڈ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جس پر کاشف عباسی نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے ویڈیوز اور آڈیوز کی گفتگو سنی ہے جس پر خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گفتگو سنی ہے اور اس میں کی جانے والی باتوں کا فیصلہ ہم میں سے کوئی نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے مثال دی کہ اگر ان ہی ویڈیوز اور آڈیوز جیسا کوئی معاملہ ایک صحافی کرتا تو اسے ’اسٹنگ آپریشن‘ کا نام دیا جاتا جس پر میزبان کا کہنا تھا کہ ’اسٹنگ آپریشن‘ کسی خاتون کو پھنسانے کو نہیں کہا جاتا بلکہ کسی کو پیسوں کی آفر دینے کو کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چالیس منٹ دورانیے کے اس پروگرام میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور آڈیوز پر پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی عندلیب عباس اور پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد زبیر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/amQC7hxcic0?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین (ر) جسٹس جاوید اقبال کی خاتون کے  ساتھ مبینہ آڈیو اور ویڈیو کے معاملے پر پورے ملک میں بحث جاری ہے اور اپوزیشن نے اس معاملے کی تفتیش کرانے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔</p>

<p>دوسری جانب نیب نے اس ویڈیو اور آڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے سازش قرار دیا تھا۔</p>

<p>یہ ویڈیو او آڈیو کلپ کچھ دن قبل نجی نیوز چینل ’نیوز ون‘ پر نشر کی گئی تھیں۔</p>

<p>ویڈیو اور آڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر سوشل میڈیا سمیت قومی میڈیا پر بحث جاری ہے اور نجی نیوز چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بھی اسی حوالے سے گفتگو کی گئی۔</p>

<p>اے آر وائی کے پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سابق گورنر سندھ محمد زبیر، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن اسمبلی عندلیب عباس شریک ہوئیں۔</p>

<h6 id='5cf0f3055e71f'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103924/">نیب چیئرمین سے منسلک آڈیو جعلی اور جھوٹ پر مبنی ہے، ترجمان</a></h6>

<p>پروگرام میں چیئرمین نیب کی مبینہ ویڈیو اور آڈیو پر میزبان کاشف عباسی نے سوال کیا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن اب تک چیئرمین نیب کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور تحقیقات کرکے سامنے کیا لانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟</p>

<p>میزبان کے سوال پر پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے جواب دیا کہ ویڈیوز اور آڈیوز سامنے آنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور ان کی تحقیقات ہونی چاہیے کیوں کہ اس میں ’ہراسمنٹ‘ جیسے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جس پر میزبان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں تو ہراسمنٹ نظر نہیں آ رہی‘ ان کا اصرار تھا کہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوا۔</p>

<p>جس پر شازیہ مری نے جواب دیا کہ مرد کے لیے کہنا بہت آسان ہوتا ہے کہ ہراسمنٹ نہیں ہوئی جس پر میزبان نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ویڈیوز کو دیکھنے اور آڈیوز کو سننے کے بعد یہ لگ نہیں رہا کہ خاتون کے ساتھ ہراسمنٹ ہوئی؟</p>

<p>کاشف عباسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ خواتین کے لیے بڑا آسان ہوتا ہے اور وہ ہراسمنٹ ہراسمنٹ کا شور ڈال دیتی ہیں، یہاں تک کہ گڈ مارننگ کے میسیجز کو بھی ہراسمنٹ کہتی ہیں‘۔</p>

<p>میزبان کے جواب میں شازیہ مری نے ناگواری اور  غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہراسمنٹ پر شور نہیں کرتیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے تب ہی وہ آواز اٹھاتی ہیں۔</p>

<p>خاتون رکن اسمبلی نے کاشف عباسی کو کہا کہ میں آپ کو ایک حساس آدمی سمجھتی تھی۔</p>

<p>کاشف عباسی نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ سامنےآنے والی ویڈیوز اور آڈیوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خواتین ہمیشہ ویمن کارڈ استعمال کرتی ہیں۔</p>

<h6 id='5cf0f3055e747'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103967">مسلم لیگ(ن) کا چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ آڈیو، ویڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ</a></h6>

<p>جس پر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ کسی کی جانب سے مرد یا خاتون کارڈ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جس پر کاشف عباسی نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے ویڈیوز اور آڈیوز کی گفتگو سنی ہے جس پر خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گفتگو سنی ہے اور اس میں کی جانے والی باتوں کا فیصلہ ہم میں سے کوئی نہیں کر سکتا۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے مثال دی کہ اگر ان ہی ویڈیوز اور آڈیوز جیسا کوئی معاملہ ایک صحافی کرتا تو اسے ’اسٹنگ آپریشن‘ کا نام دیا جاتا جس پر میزبان کا کہنا تھا کہ ’اسٹنگ آپریشن‘ کسی خاتون کو پھنسانے کو نہیں کہا جاتا بلکہ کسی کو پیسوں کی آفر دینے کو کہا جاتا ہے۔</p>

<p>چالیس منٹ دورانیے کے اس پروگرام میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور آڈیوز پر پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی عندلیب عباس اور پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد زبیر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/amQC7hxcic0?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104216</guid>
      <pubDate>Fri, 31 May 2019 14:25:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5ced27771c1cc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5ced27771c1cc.jpg"/>
        <media:title>کسی کی جانب سے مرد یا خاتون کارڈ کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، شازیہ مری—فوٹو: فیس بک/ اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
