<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:29:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:29:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخر کروڑوں افراد کے ہاتھوں میں ایک جیسے تل کیوں ہوتے ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104527/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ دنوں ٹوئٹر میں ایک پوسٹ میں ایسی حقیقت سامنے آئی جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو چونکا کر رکھ دیا کیونکہ کروڑوں افراد میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور وہ ہے ہاتھ پر کلائی سے کہنی کے درمیان ایک تل کی موجودگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں واقعی دنیا بھر میں کروڑوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ اربوں افراد کے ہاتھ میں کہنی کے درمیان کہیں نہ کہیں تل یا چھائی وغیرہ موجود ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/aarynwhitley/status/1131302034194554881?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب امریکی جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ میں طبی ماہر ڈاکٹر جوائس پارک کے حوالے سے دیا گیا ہے جو کہ جلدی امراض کی ماہر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ٹوئٹر پر وائرل اس بحث کو پرمزاح تو قرار دیا مگر اس کی وجہ بھی بتائی جو کہ سورج کی روشنی میں گھومنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ تل یا چھائیاں بنیادی طور پر جلد پر ایسے مقامات ہوتے ہیں جہاں جلد کی رنگت کا تعین کرنے والے جز میلاٹونین کا اجتماع یو وی ریڈی ایشن کے نتیجے میں ہوجاتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہاتھ، کلائیاں اور کہنیاں وغیرہ دھوپ کی زد میں زیادہ رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1055925' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5cf4164586d6c.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسے موٹرسائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے اکثر افراد کا ایک ہاتھ مسلسل دھوپ کی زد میں رہ سکتا ہے چاہے انہوں نے قمیض ہی کیوں نہ پہن رکھی ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اور وجہ اس مخصوص حصے میں سن اسکرین کا استعمال نہیں کرنا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر جوشوا زیکنکر کا خیال ذرا مختلف ہے اور ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ تل یا چھائیاں بے ضرر ہوتے ہیں جو کہ میلاٹونین کے اجتماع کا نتیجہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ بہت زیادہ عام ہے اور لگ بھگ ہر ایک کے ہی بازوﺅں میں کم از کم ایل تل یا چھائی ہوسکتی ہے تو ٹوئٹر پر وائرل یہ بحث حیران کن نہیں کیونکہ سورج کی روشنی کے نتیجے میں یہ نشان زیادہ گہرے ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ویسے تل یا چھائیاں جسم کے کسی بھی حصے میں نمودار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو ان تلوں کی موجودگی کی وضاحت بہت سادہ ہے مگر اس نے سوشل میڈیا صارفین کے ذہن ضرور گھما کر دیئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ دنوں ٹوئٹر میں ایک پوسٹ میں ایسی حقیقت سامنے آئی جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو چونکا کر رکھ دیا کیونکہ کروڑوں افراد میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔</p>

<p>اور وہ ہے ہاتھ پر کلائی سے کہنی کے درمیان ایک تل کی موجودگی۔</p>

<p>جی ہاں واقعی دنیا بھر میں کروڑوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ اربوں افراد کے ہاتھ میں کہنی کے درمیان کہیں نہ کہیں تل یا چھائی وغیرہ موجود ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/aarynwhitley/status/1131302034194554881?ref_src=twsrc%5Etfw"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب امریکی جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ میں طبی ماہر ڈاکٹر جوائس پارک کے حوالے سے دیا گیا ہے جو کہ جلدی امراض کی ماہر ہیں۔</p>

<p>انہوں نے ٹوئٹر پر وائرل اس بحث کو پرمزاح تو قرار دیا مگر اس کی وجہ بھی بتائی جو کہ سورج کی روشنی میں گھومنا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ تل یا چھائیاں بنیادی طور پر جلد پر ایسے مقامات ہوتے ہیں جہاں جلد کی رنگت کا تعین کرنے والے جز میلاٹونین کا اجتماع یو وی ریڈی ایشن کے نتیجے میں ہوجاتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہاتھ، کلائیاں اور کہنیاں وغیرہ دھوپ کی زد میں زیادہ رہتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1055925' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5cf4164586d6c.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جیسے موٹرسائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے اکثر افراد کا ایک ہاتھ مسلسل دھوپ کی زد میں رہ سکتا ہے چاہے انہوں نے قمیض ہی کیوں نہ پہن رکھی ہو۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اور وجہ اس مخصوص حصے میں سن اسکرین کا استعمال نہیں کرنا ہوتی ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر جوشوا زیکنکر کا خیال ذرا مختلف ہے اور ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ تل یا چھائیاں بے ضرر ہوتے ہیں جو کہ میلاٹونین کے اجتماع کا نتیجہ ہوتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ یہ بہت زیادہ عام ہے اور لگ بھگ ہر ایک کے ہی بازوﺅں میں کم از کم ایل تل یا چھائی ہوسکتی ہے تو ٹوئٹر پر وائرل یہ بحث حیران کن نہیں کیونکہ سورج کی روشنی کے نتیجے میں یہ نشان زیادہ گہرے ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ویسے تل یا چھائیاں جسم کے کسی بھی حصے میں نمودار ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>تو ان تلوں کی موجودگی کی وضاحت بہت سادہ ہے مگر اس نے سوشل میڈیا صارفین کے ذہن ضرور گھما کر دیئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104527</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Jun 2019 23:39:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cf415dbbbb85.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cf415dbbbb85.jpg"/>
        <media:title>— ٹوئٹر فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
