<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:46:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:46:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی شرائط اکتوبر میں بہت زیادہ سخت تھیں، اسد عمر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104528/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب حاصل کیے گئے قرض کے مقابلے میں ان کی شرائط کو سخت ترین تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر میں ان کی شرائط اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی میں ‘یہ وطن ہمارا ہے3: آئی ایم ایف اور پاکستان کا معاشی مستقبل’ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہم نے انتخابات سے قبل ہی کہا تھا کہ قرض لینا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذاکرے کی نظامت معروف صحافی خرم حسین کررہے تھے اور دیگر شرکا میں معاشی ماہرین قیصر بنگالی اور اکبر زیدی شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ‘آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے تھا یا نہیں، ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے جانا ہے اور یہ الفاظ رٹ چکے تھے کہ جتنے برے حالات پیدا ہوگئے بیل آؤٹ پیکیج ناگزیر ہے لیکن سوال یہ تھا کہ پیکیج آئی ایم ایف کرے گا یا کوئی اور کرے گا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104452/"&gt;مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ جملے رٹ چکے تھے بشمول آئی ایم ایف کسی کو بیل آؤٹ کو خارج ازامکان نہیں قرار دیا جاسکتا ہے اور اسی بنیاد پر ہم انتخابات لڑ کر آئے تھے اور اسی پر ہمیں ووٹ ملے تھے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذاکرے میں شامل دیگر شرکا کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس بات پر سب متفق تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر تھا شاید اس لیے کہ ہم ہمیشہ آئی ایم ایف پروگرام  کرتے رہے ہیں اور کبھی بھی توازن کے مسئلے کا اس طرح سامنا نہیں کیا جس طرح اس مرتبہ تھا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہونے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم وہی کررہے تھے جو انتخابات میں کہہ کرآئے تھے اور حلف اٹھانے کے دس روز بعد میں نے ریجنل ہیڈ جہاد حضور کو فون کیا جو آئی ایم ایف کے حوالے سے ہمارے معاملات دیکھتے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے ایک مہینے کے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی تھی انہوں نے جائزہ کیا اور ہم بھی اپنی تیاری کررہے تھے اور ان کی رپورٹ کے بعد ہم نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ہم نے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں اور فوری طور پر بالی جا کر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104416/"&gt;روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے کہا کہ ‘اس پروگرام میں جو چیز مختلف تھی وہ یہ تھی کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کا پیسہ چین کے قرضوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے جس کے بعد اگر ہم آپشن نہیں بناتے تو ہم نالائق، کم فہم اور غیر سنجیدہ کہلاتے اس لیے ہم نے آپشن بنائے اور وزیر اعظم کو کہا کہ آپ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانا پڑےگا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بات صحیح ہے کہ یہ شرائط سخت ترین ہیں لیکن اکتوبر میں اس سے کہیں زیادہ سخت شرائط تھے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافہ اور 600 بیسس پوائنٹ کی شرط تھی اور روپے کی قدر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیکیج سے رواں برس افراط زر 19 فیصد ہوگی اور ڈسکاؤنٹ ریٹ 20 سے 21 فیصد تک چلا جاتا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے کہا کہ جس دن حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کا اعلان کرے گی میں وہ تمام اہم 5 چیزیں بتاؤں گا جس کا وہ مطالبہ کررہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے حلف لیا تو ہمارے پاس 20 روز کے ذخائر تھے لیکن ہم نے خسارے کی اوسط کو کم کیا اور آئی ایم کے نمائندے نے بھی تسلیم کیا کہ معاشی پالیسی سے بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب حاصل کیے گئے قرض کے مقابلے میں ان کی شرائط کو سخت ترین تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر میں ان کی شرائط اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں۔</p>

<p>کراچی میں ‘یہ وطن ہمارا ہے3: آئی ایم ایف اور پاکستان کا معاشی مستقبل’ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہم نے انتخابات سے قبل ہی کہا تھا کہ قرض لینا ناگزیر ہے۔</p>

<p>مذاکرے کی نظامت معروف صحافی خرم حسین کررہے تھے اور دیگر شرکا میں معاشی ماہرین قیصر بنگالی اور اکبر زیدی شامل تھے۔</p>

<p>اسد عمر نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ‘آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے تھا یا نہیں، ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے جانا ہے اور یہ الفاظ رٹ چکے تھے کہ جتنے برے حالات پیدا ہوگئے بیل آؤٹ پیکیج ناگزیر ہے لیکن سوال یہ تھا کہ پیکیج آئی ایم ایف کرے گا یا کوئی اور کرے گا’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104452/">مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ جملے رٹ چکے تھے بشمول آئی ایم ایف کسی کو بیل آؤٹ کو خارج ازامکان نہیں قرار دیا جاسکتا ہے اور اسی بنیاد پر ہم انتخابات لڑ کر آئے تھے اور اسی پر ہمیں ووٹ ملے تھے’۔</p>

<p>مذاکرے میں شامل دیگر شرکا کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس بات پر سب متفق تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر تھا شاید اس لیے کہ ہم ہمیشہ آئی ایم ایف پروگرام  کرتے رہے ہیں اور کبھی بھی توازن کے مسئلے کا اس طرح سامنا نہیں کیا جس طرح اس مرتبہ تھا’۔</p>

<p>آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہونے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم وہی کررہے تھے جو انتخابات میں کہہ کرآئے تھے اور حلف اٹھانے کے دس روز بعد میں نے ریجنل ہیڈ جہاد حضور کو فون کیا جو آئی ایم ایف کے حوالے سے ہمارے معاملات دیکھتے ہیں’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے ایک مہینے کے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی تھی انہوں نے جائزہ کیا اور ہم بھی اپنی تیاری کررہے تھے اور ان کی رپورٹ کے بعد ہم نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ہم نے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں اور فوری طور پر بالی جا کر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کی’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104416/">روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری</a></strong></p>

<p>اسد عمر نے کہا کہ ‘اس پروگرام میں جو چیز مختلف تھی وہ یہ تھی کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کا پیسہ چین کے قرضوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے جس کے بعد اگر ہم آپشن نہیں بناتے تو ہم نالائق، کم فہم اور غیر سنجیدہ کہلاتے اس لیے ہم نے آپشن بنائے اور وزیر اعظم کو کہا کہ آپ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانا پڑےگا’۔</p>

<p>سابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بات صحیح ہے کہ یہ شرائط سخت ترین ہیں لیکن اکتوبر میں اس سے کہیں زیادہ سخت شرائط تھے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافہ اور 600 بیسس پوائنٹ کی شرط تھی اور روپے کی قدر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیکیج سے رواں برس افراط زر 19 فیصد ہوگی اور ڈسکاؤنٹ ریٹ 20 سے 21 فیصد تک چلا جاتا’۔</p>

<p>اسد عمر نے کہا کہ جس دن حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کا اعلان کرے گی میں وہ تمام اہم 5 چیزیں بتاؤں گا جس کا وہ مطالبہ کررہے تھے۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے حلف لیا تو ہمارے پاس 20 روز کے ذخائر تھے لیکن ہم نے خسارے کی اوسط کو کم کیا اور آئی ایم کے نمائندے نے بھی تسلیم کیا کہ معاشی پالیسی سے بہتری آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104528</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jun 2019 16:05:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cf416ce47898.jpg?r=985645955" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cf416ce47898.jpg?r=1960155408"/>
        <media:title>اسد عمر نے تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں—فوٹو:ثمین داؤد خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
