<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:11:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:11:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ چند برسوں تک مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104538/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: روپے کی قدر میں کمی کے ایک اور دور، توانائی کی بڑھی ہوئی قیمتوں، بین الاقوامی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے سبب حکومت کو آئندہ چند سالوں تک مہنگائی کی شرح بلند رکھنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1486212/inflation-likely-to-rise-over-next-few-years"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک آئندہ مالی سال (20-2019) کے لیے مہنگائی کی اوسط شرح 8.5 فیـصد رہنے کا امکان ہے جو مالی سال 21-2020 تک 10 فیصد ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں بجٹ کے بعد جولائی کے مہینے میں توانائی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104285/"&gt;آئندہ مالی سال کیلئے 18 کھرب 30 ارب روپے کے اخراجات منظور، 300 ترقیاتی منصوبے شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا تھا کہ مذکورہ اعداد و شمار کے بارے میں گزشتہ ہفتے ہونے والے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’ 19-2018 کے دوران مہنگائی بڑھتی رہے گی، مہنگائی کا یہ دباؤ پہلے خوراک کے علاوہ دیگر شعبے سے تھا لیکن دسمبر 2018 میں اشیائے خوراک کی مہنگی قیمتیں مہنگائی بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ بنیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سے میں جولائی سے اپریل کے عرصے کے دوران مہنگائی 7 فیصدر رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 3.7 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اوسطاً قیمت کے حساس اشارے بھی جولائی 2018 سے اپریل 2019 کے دوران 4 فیصد کی سطح پر رہے اسی طرح ہول سیل قیمتوں کی فہرست رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 11.7 فیصد کی سطح پر رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 2.8 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099513"&gt;'آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی کاموں کے تخمینے میں تبدیلی ممکن نہیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران مالی خسارے میں سب سے زیادہ اضافہ انتہائی اہم خوراک کی اشیا مثلاً ٹماٹر اور ہری مرچ کی فراہمی میں غیر معمولی کمی، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے، مقامی سطح پر گیس کی قیمت پر نظرِ ثانی کرنے کے باعث ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ اضافے کی ایک بڑی وجہ درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں مزید اضافہ اور ایکسچینج ریٹ میں گزشتہ کمی کے اثرات کا دوسرا دور بھی تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کے اقتصادی فیصلے کرنے والے سب سے بڑے فورم کو بتایا گیا کہ معاشی نمو میں آئندہ برس مقامی طلب میں کمی کے ذریعے میکرو اسٹیبلائزیشن کے حصول کے بعد معمولی اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ آئندہ مالی سال کے دوران پالیسی کا ہدف مالی خسارہ کم کرنا، اضافی وسائل کو متحرک کرنا، موجودہ اخراجات کو کم کرکے سبسڈی کے اہداف پر منتقل کرنا اور ترقیاتی اخراجات کو فوقیت دینا شامل ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: روپے کی قدر میں کمی کے ایک اور دور، توانائی کی بڑھی ہوئی قیمتوں، بین الاقوامی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے سبب حکومت کو آئندہ چند سالوں تک مہنگائی کی شرح بلند رکھنے کی توقع ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1486212/inflation-likely-to-rise-over-next-few-years">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک آئندہ مالی سال (20-2019) کے لیے مہنگائی کی اوسط شرح 8.5 فیـصد رہنے کا امکان ہے جو مالی سال 21-2020 تک 10 فیصد ہوسکتی ہے۔</p>

<p>اس سلسلے میں بجٹ کے بعد جولائی کے مہینے میں توانائی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی اہم کردار ادا کرے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104285/">آئندہ مالی سال کیلئے 18 کھرب 30 ارب روپے کے اخراجات منظور، 300 ترقیاتی منصوبے شامل</a></strong> </p>

<p>عہدیدار کا کہنا تھا کہ مذکورہ اعداد و شمار کے بارے میں گزشتہ ہفتے ہونے والے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی آگاہ کیا گیا۔</p>

<p>اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’ 19-2018 کے دوران مہنگائی بڑھتی رہے گی، مہنگائی کا یہ دباؤ پہلے خوراک کے علاوہ دیگر شعبے سے تھا لیکن دسمبر 2018 میں اشیائے خوراک کی مہنگی قیمتیں مہنگائی بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ بنیں۔</p>

<p>رواں مالی سے میں جولائی سے اپریل کے عرصے کے دوران مہنگائی 7 فیصدر رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 3.7 فیصد تھی۔</p>

<p>اس کے علاوہ اوسطاً قیمت کے حساس اشارے بھی جولائی 2018 سے اپریل 2019 کے دوران 4 فیصد کی سطح پر رہے اسی طرح ہول سیل قیمتوں کی فہرست رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 11.7 فیصد کی سطح پر رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 2.8 فیصد تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099513">'آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی کاموں کے تخمینے میں تبدیلی ممکن نہیں'</a></strong> </p>

<p>قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران مالی خسارے میں سب سے زیادہ اضافہ انتہائی اہم خوراک کی اشیا مثلاً ٹماٹر اور ہری مرچ کی فراہمی میں غیر معمولی کمی، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے، مقامی سطح پر گیس کی قیمت پر نظرِ ثانی کرنے کے باعث ہوا۔</p>

<p>اس کے ساتھ اضافے کی ایک بڑی وجہ درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں مزید اضافہ اور ایکسچینج ریٹ میں گزشتہ کمی کے اثرات کا دوسرا دور بھی تھا۔</p>

<p>ملک کے اقتصادی فیصلے کرنے والے سب سے بڑے فورم کو بتایا گیا کہ معاشی نمو میں آئندہ برس مقامی طلب میں کمی کے ذریعے میکرو اسٹیبلائزیشن کے حصول کے بعد معمولی اضافے کا امکان ہے۔</p>

<p>چنانچہ آئندہ مالی سال کے دوران پالیسی کا ہدف مالی خسارہ کم کرنا، اضافی وسائل کو متحرک کرنا، موجودہ اخراجات کو کم کرکے سبسڈی کے اہداف پر منتقل کرنا اور ترقیاتی اخراجات کو فوقیت دینا شامل ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104538</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jun 2019 16:05:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cf4a41e44e06.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cf4a41e44e06.jpg"/>
        <media:title>دسمبر 2018 میں اشیائے خوراک کی مہنگی قیمتیں مہنگائی بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ بنی—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
