<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:46:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:46:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریونیو میں اضافے کیلئے سبسڈائز اشیا پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104702/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: وفاقی حکومت ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے متعدد مصنوعات پر نئے سیلز ٹیکس عائد کرنے اور کئی شعبہ جات سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجاویز کو حتمی شکل دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1486628/fbrs-massive-sales-tax-revenue-plan-of-rs739bn-seeks-sweeping-withdrawals-of-exemptions"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ منصوبہ ٹیکس کی شرح آسان بنا کر جنرل سیلز ٹیکس کی آمدنی میں کافی حد تک اضافے کے لیے ہے، اس وقت موجودہ قوانین کے مطابق ٹیکس کے 272 ریٹس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیکس کے یہ ریت بالائی سطح پر عدم مساوات کا باعث ہے کیوں کہ کچھ ٹیکس پیئرز اپنی خریداری پر معمول کی شرح کے مطابق 17 فیصد جبکہ دیگر افراد کم شرح کی ادائیگی کرتے ہیں چنانچہ اس نمبر کو 2 تک کم کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104099"&gt;حکومت کا آمدنی میں اضافے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا صرف سیلز ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث ریونیو کی پیداوار 509 ارب روپے تک پہنچانے کا ارادہ ہے جبکہ بقیہ رقم ٹیکس کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کو حاصل ہونے مذکورہ حکومتی منصوبے کی دستاویزات کے مطابق جی ایس ٹی میں کمی بین الاقوامی سطح پر جی ایس ٹی کے ذریعے ریونیو کی پیداوار کے رائج طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے اور ان مجوزہ اقدامات کو آئندہ کچھ روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منصوبے کے مطابق مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں ان متعدد مصنوعات پر 7 فیصد ٹیکس لگانے کا ارادہ ہے جنہیں اس وقت ایس آر او 11025 کے تحت سیلز ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال کے دوران 88 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104370"&gt;صنعت کار ٹیکس چوری کے لیے جعلی اکاؤنٹس استعمال کرنے لگے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایس آر او 1125 کے تحت دیے گئے ٹیکس استثنیٰ سے قومی خزانے کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ صرف مینوفیکچررز کو دی گئی اس سہولت کا کمرشل درآمد کنندگان غلط استعمال کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ دودھ، کریم، مکھن، خوردنی تیل، کافی، چائے، برقی توانائی، بجلی سے چلنے والی مختلف مشینوں، گوشت اور مختلف کیمیکلز پر بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ ہے جس سے حکومت کو 211 ارب روپے کی آمدنی ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس وقت یہ تمام مصنوعات سیلز ٹیکس ایکٹ کے شیڈول نمبر 6 میں درج ہونے کے باعث سلیز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں  جو آئندہ مالی سال میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح پولٹری، خوردنی تیل، کپاس اور کپاس کے کچرے پر بھی آئندہ بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس لگنے کا امکان ہے جس سے حکومت کو 56 ارب روپے کی آمدنی کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103324"&gt;سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار مرکزی سطح پر منتقل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں حکومت بالخصوص 3 شعبوں میں عملدرآمد کو بہتر کرنے اور آمدنی کو لیک ہونے سے بچانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر غور کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں چینی سے بھی اضافی سیلز ٹیکس کی مد میں 16 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے اسی طرح سیمنٹ سے 4 ارب جبکہ لوہے کی صنعت سے 3 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مالی سال 2019 میں جنرل سیلز ٹیکس کے لیے 7.25 فیصد سے 12.6 فیصد کی موثر شرح ٹیکس کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: وفاقی حکومت ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے متعدد مصنوعات پر نئے سیلز ٹیکس عائد کرنے اور کئی شعبہ جات سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجاویز کو حتمی شکل دے رہی ہے۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1486628/fbrs-massive-sales-tax-revenue-plan-of-rs739bn-seeks-sweeping-withdrawals-of-exemptions">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ منصوبہ ٹیکس کی شرح آسان بنا کر جنرل سیلز ٹیکس کی آمدنی میں کافی حد تک اضافے کے لیے ہے، اس وقت موجودہ قوانین کے مطابق ٹیکس کے 272 ریٹس موجود ہیں۔</p>

<p>ٹیکس کے یہ ریت بالائی سطح پر عدم مساوات کا باعث ہے کیوں کہ کچھ ٹیکس پیئرز اپنی خریداری پر معمول کی شرح کے مطابق 17 فیصد جبکہ دیگر افراد کم شرح کی ادائیگی کرتے ہیں چنانچہ اس نمبر کو 2 تک کم کرنے کا منصوبہ ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104099">حکومت کا آمدنی میں اضافے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور</a></strong> </p>

<p>لہٰذا صرف سیلز ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث ریونیو کی پیداوار 509 ارب روپے تک پہنچانے کا ارادہ ہے جبکہ بقیہ رقم ٹیکس کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہوگی۔</p>

<p>ڈان کو حاصل ہونے مذکورہ حکومتی منصوبے کی دستاویزات کے مطابق جی ایس ٹی میں کمی بین الاقوامی سطح پر جی ایس ٹی کے ذریعے ریونیو کی پیداوار کے رائج طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے اور ان مجوزہ اقدامات کو آئندہ کچھ روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔</p>

<p>منصوبے کے مطابق مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں ان متعدد مصنوعات پر 7 فیصد ٹیکس لگانے کا ارادہ ہے جنہیں اس وقت ایس آر او 11025 کے تحت سیلز ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے۔</p>

<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال کے دوران 88 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104370">صنعت کار ٹیکس چوری کے لیے جعلی اکاؤنٹس استعمال کرنے لگے</a></strong> </p>

<p>ایس آر او 1125 کے تحت دیے گئے ٹیکس استثنیٰ سے قومی خزانے کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ صرف مینوفیکچررز کو دی گئی اس سہولت کا کمرشل درآمد کنندگان غلط استعمال کررہے ہیں۔</p>

<p>اس کے علاوہ دودھ، کریم، مکھن، خوردنی تیل، کافی، چائے، برقی توانائی، بجلی سے چلنے والی مختلف مشینوں، گوشت اور مختلف کیمیکلز پر بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ ہے جس سے حکومت کو 211 ارب روپے کی آمدنی ہونے کا امکان ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس وقت یہ تمام مصنوعات سیلز ٹیکس ایکٹ کے شیڈول نمبر 6 میں درج ہونے کے باعث سلیز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں  جو آئندہ مالی سال میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔</p>

<p>اسی طرح پولٹری، خوردنی تیل، کپاس اور کپاس کے کچرے پر بھی آئندہ بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس لگنے کا امکان ہے جس سے حکومت کو 56 ارب روپے کی آمدنی کی توقع ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103324">سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار مرکزی سطح پر منتقل</a></strong> </p>

<p>علاوہ ازیں حکومت بالخصوص 3 شعبوں میں عملدرآمد کو بہتر کرنے اور آمدنی کو لیک ہونے سے بچانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر غور کررہی ہے۔</p>

<p>علاوہ ازیں چینی سے بھی اضافی سیلز ٹیکس کی مد میں 16 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے اسی طرح سیمنٹ سے 4 ارب جبکہ لوہے کی صنعت سے 3 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں مالی سال 2019 میں جنرل سیلز ٹیکس کے لیے 7.25 فیصد سے 12.6 فیصد کی موثر شرح ٹیکس کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104702</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jun 2019 16:04:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cf8d54919e13.jpg?r=1028350617" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cf8d54919e13.jpg?r=1099683326"/>
        <media:title>ٹیکس استثنیٰ سے قومی خزانے کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
