<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:07:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:07:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین سمندر سے خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ملک بن گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104713/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہوگیا جو سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے لونگ مارچ 11 راکٹس کو ایک بحری جہاز کے لانچ پیڈ سے خلا میں روانہ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع تھا جب چین نے خلا میں راکٹ بھیجنے کے لیے سمندر میں موجود پلیٹ فارم کا سہارا لیا اور تجربے کے دوران 7 راکٹس کو خلا میں بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں سے 5 راکٹ کمرشل بنیادوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے جبکہ 2 راکٹ میں تجرباتی پے لوڈ خلائی تحقیق بھیجے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کامیابی کے بعد امریکا اور روس کے بعد چین ایسا کرنے والا تیسری عالمی طاقت بن گیا ہے جو کہ سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے سے لاگت کم ہوتی ہے جبکہ تجربہ ناکام ہونے پر نقصان کا خدشہ بھی کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین اس وقت واحد ملک ہے جس کے پاس سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کے لیے پلیٹ فارم موجود ہے اور لانچ ٹیکنالوجی مکمل طور پر اس کی اپنی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل امریکا اور وس کی جانب سے سمندر سے جو راکٹ خلا میں بھیجے گئے ان کے لیے پلیٹ فارمز مختلف ممالک کے تعاون سے تیار کیے گئے اور 2014 سے ان پر کام بند کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کی جانب جو تجربہ کیا گیا وہ حکومت اور نجی انڈسٹری کے اشتراک سے ہوا کیونکہ جس جہاز سے راکٹ خلا میں بھیجا گیا وہ ایک شہری کارگو جہاز تھا جبکہ ایک چینی برانڈ نے اس تجربے کے لیے اسپانسر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/sOWn-kLdrWc?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہوگیا جو سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>

<p>چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے لونگ مارچ 11 راکٹس کو ایک بحری جہاز کے لانچ پیڈ سے خلا میں روانہ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔</p>

<p>یہ پہلا موقع تھا جب چین نے خلا میں راکٹ بھیجنے کے لیے سمندر میں موجود پلیٹ فارم کا سہارا لیا اور تجربے کے دوران 7 راکٹس کو خلا میں بھیجا گیا۔</p>

<p>ان میں سے 5 راکٹ کمرشل بنیادوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے جبکہ 2 راکٹ میں تجرباتی پے لوڈ خلائی تحقیق بھیجے گئے۔</p>

<p>اس کامیابی کے بعد امریکا اور روس کے بعد چین ایسا کرنے والا تیسری عالمی طاقت بن گیا ہے جو کہ سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>

<p>سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے سے لاگت کم ہوتی ہے جبکہ تجربہ ناکام ہونے پر نقصان کا خدشہ بھی کم ہوجاتا ہے۔</p>

<p>چین اس وقت واحد ملک ہے جس کے پاس سمندر سے خلا میں راکٹ لانچ کرنے کے لیے پلیٹ فارم موجود ہے اور لانچ ٹیکنالوجی مکمل طور پر اس کی اپنی ہے۔</p>

<p>اس سے قبل امریکا اور وس کی جانب سے سمندر سے جو راکٹ خلا میں بھیجے گئے ان کے لیے پلیٹ فارمز مختلف ممالک کے تعاون سے تیار کیے گئے اور 2014 سے ان پر کام بند کردیا گیا۔</p>

<p>چین کی جانب جو تجربہ کیا گیا وہ حکومت اور نجی انڈسٹری کے اشتراک سے ہوا کیونکہ جس جہاز سے راکٹ خلا میں بھیجا گیا وہ ایک شہری کارگو جہاز تھا جبکہ ایک چینی برانڈ نے اس تجربے کے لیے اسپانسر کیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/sOWn-kLdrWc?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104713</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Jun 2019 17:16:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cf9039c7db34.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cf9039c7db34.jpg"/>
        <media:title>اب تک امریکا اور روس کے پاس یہ ٹیکنالوجی تھی — رائٹرز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
