<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 06:20:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 06:20:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلوی شکست کے لیے آئی پی ایل کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104878/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ کپ میں اب تک 14 میچ کھیلے جاچکے ہیں اور ان 14 میچوں میں سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104601/"&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بمقابلہ انگلینڈ وہ واحد میچ ہے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جو سنسنی خیزی کی تعریف پر پورا اترا ہے، ورنہ تو ہر میچ بغیر دلچسپی لیے ختم ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ روز بھارت اور آسٹریلیا کا اہم میچ لندن کے تاریخی میدان اوول میں کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد قوی امید تھی کہ یہ بہت ٹکر کا میچ ہوگا، لیکن آسٹریلوی ٹیم نے اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے سب کو غلط ثابت کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کل بھارت نے آسٹریلیا کو بالکل ویسے ہی شکست دی، جیسے آسٹریلوی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے باقی ٹیموں کو دے رہی تھی۔ یعنی صرف میچ نہیں ہرایا، بلکہ پہلے ڈرایا، دھمکایا، خوفزدہ کیا اور پھر میچ ہرایا، وہ بھی مکمل گرفت کے ساتھ۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--right  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3d7828637.jpg"  alt="بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3d9344164.jpg"  alt="ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میچ کی پہلی گیند سے آخری گیند تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب میچ میں آسٹریلوی ٹیم کی گرفت مضبوط ہوئی ہو۔ بھارتی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کا سہرا کپتان کی کپتانی، بیٹسمین، باؤلرز اور فیلڈرز سب کو ہی جاتا ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cff9564a3bb6'&gt;بھارتی ٹیم کا جائزہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سب سے پہلے بیٹسمنوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر شروع کے 7 اوورز کی بات کی جائے تو 3.14 اوسط سے صرف 22 رنز بنائے گئے تھے اور بھارت کے ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں یہ آغاز کچھ سست محسوس ہوا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح رفتار میں اضافہ ہوا، یہ یقینی طور پر کمال تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104847/"&gt;کیا آسٹریلین باؤلر نے بال ٹمپرنگ کی؟ ویڈیو پر تنازع کھڑا ہوگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی پہلی وکٹ 23ویں اوور میں 127 رنز پر جبکہ دوسری وکٹ 37ویں اوور میں 220 رنز پر گری۔ یہاں تک اگرچہ بھارت کے پاس وکٹیں تھیں، مگر خیال تھا کہ اگر آسٹریلوی باؤلرز طریقے سے باؤلنگ کریں تو بھارت کو 300 یا 310 رنز تک روکا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو میچ بہت حد تک دلچسپ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر بھارتی بیٹسمنوں نے آخری 13 اوورز میں 132 رنز بناکر ایسے کسی بھی امکان کو کہیں دُور، بہت دُور پھینک دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں بھارتی پلاننگ کو داد دینی ہوگی۔ انہوں نے پلان کے عین مطابق اسپنر ایڈم زمپا اور میڈیم پیسر مارکس اسٹوئنس کو بھرپور نشانہ بنایا اور ان دونوں کے 13 اوورز میں 112 رنز بنائے، جو بہت اہم ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بھی جو کچھ ہوا وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ 353 رنز کا بڑا ہدف دینے کے باوجود بھارتی باؤلرز یا فیلڈرز میچ کے کسی ایک لمحے میں بھی سست نظر نہیں آئے، نہ ان کی توجہ میچ سے ہٹی، اور آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کا اہم ترین رن آوٹ اس کی بہترین مثال ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پوری اننگ میں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ باؤلرز وہیں بال کررہے ہیں جہاں کپتان نے فیلڈر کھڑے کیے ہیں یا کپتان نے فیلڈر وہیں کھڑے کیے ہیں جہاں باؤلرز گیند کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/1137797043508908032"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ایک رن روکنے کے لیے بھارتی ٹیم نے محنت کی، صورتحال کو سمجھنے کے لیے آسٹریلوی جارحانہ مزاج اوپنر ڈیوڈ وارنر کی اننگ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 84 گیندوں پر 56 رنز کی سست ترین بیٹنگ کرنے والے وارنر کو تو میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اگر وہ اتنا سست نہ کھیلتے تو یہ عین ممکن تھا کہ 36 رنز سے شکست کھانے والی ٹیم میچ جیت جاتی۔ لیکن وہ کیا کرتے، ان کو بھارتی باؤلرز نے اتنا ڈرا دیا تھا کہ وہ کھل کر کھیل ہی نہیں پا رہے تھے، اور جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو جلد بازی میں غلط شاٹ کھیلتے ہوئے، باؤنڈری لائن پر کیچ آوٹ ہوگئے، حالانکہ یہی وہ وقت تھا جب وہ اپنی سست بیٹنگ کا بدلہ لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--right  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3df675aad.jpg"  alt="ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3e02e9d41.jpg"  alt="بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cff9564a3bd1'&gt;آسٹریلوی ٹیم کا جائزہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی 10 اوورز تو آسٹریلوی باؤلرز نے بالکل ٹھیک کروائے، لیکن اس کے بعد ایسا لگا جیسے آسٹریلوی کپتان اور باؤلرز مسلسل اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح بھارت کو زیادہ سے زیادہ رنز فراہم کیے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نہ کوئی فیلڈنگ سے متعلق پلان نظر آیا اور نہ ہی باؤلنگ سے متعلق۔ باؤلنگ کی صورتحال تو یہ تھی کہ ہر بال ایک الگ جگہ پھینکی جارہی تھی، جس کا بھارتی بلے باز بھرپور فائدہ اٹھارہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میچ کے 43ویں اوور تک معاملہ یہ تھا کہ دونوں ہی ٹیموں کا اسکور 282 رنز تھا، یعنی بھارتی ٹیم نے آخری 7 اوور میں 70 رنز بنائے اور آسٹریلوی ٹیم نے صرف 34 رنز۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ دونوں ٹیموں میں یہ فرق ضرور تھا کہ بھارت کی 2 وکٹیں گری تھیں اور آسٹریلیا کی 6 وکٹیں۔ اگرچہ بھارت کو کم وکٹیں گرنے کا فائدہ ضرور حاصل تھا، مگر اس سے زیادہ فرق دونوں کی باؤلنگ کے معیار کا بھی تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کے پرائم اور اہم ترین باؤلر مچل اسٹارک نے ابتدائی 7 اوورز میں صرف 36 رنز دیے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آخری 3 اوورز میں 38 رنز دے کر ساری کسر ہی نکال دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سچ پوچھیے تو ان کو ٹھیک ہی مار پڑی، کیونکہ جب ٹیم کا سب سے بہترین باؤلر اناڑیوں کی طرح باؤلنگ کرے گا، تو باقیوں سے کیا شکایت کی جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے خلاف کسی بھی ٹیم نے 300 یا اس سے زیادہ رنز اسکور کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی کس قدر خراب رہی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104848/"&gt;کوہلی نے ورلڈ کپ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی نئی مثال قائم کردی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میچ کے بعد سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر ٹام مودی کا تجزیہ سننے کو ملا تو انہوں نے یہی شکوہ کیا کہ جب وکٹ پر باؤلرز کے لیے کچھ نہ ہو تو ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ یارکروں پر توجہ دی جائے، لیکن افسوس کہ آسٹریلوی باؤلرز ایسا کرنا بھول گئے جس کی ان کو بھرپور سزا ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cff9564a3be6'&gt;آئی پی ایل کا کردار کتنا رہا؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی شکست کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس شکست کی ذمہ داری انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) پر بھی ڈالی جارہی ہے، اور یہ ذمہ داری 2 وجوہات کی بنیاد پر ڈالی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلی وجہ:&lt;/strong&gt; چونکہ بڑی تعداد میں آسٹریلوی کھلاڑی آئی پی ایل کا حصہ رہے ہیں، اس لیے بھارتی ٹیم ان کی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے، لہٰذا انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسری وجہ:&lt;/strong&gt; مفادات کا کھیل، اگرچہ یہ بات بہت عجیب محسوس ہورہی ہے، لیکن بہرحال لوگوں کو کچھ بھی کہنے سے کون روک سکتا ہے؟ کہا یہی جارہا ہے کہ چونکہ اب آئی پی ایل ایک بڑی منڈی بن چکی ہے، اس لیے آسٹریلوی کھلاڑی یہ ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بھی ’غلطی‘ کی وجہ سے وہ اگلی مرتبہ آئی پی ایل کھیلنے سے محروم ہوجائیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان کو ناراض نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ (نوٹ: اس خیال سے میں کچھ زیادہ اتفاق نہیں کرتا)&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cff9564a3bf9'&gt;بھارت کو کس طرح ہرایا جائے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یہ بہت اہم ترین سوال بنتا جارہا ہے، کیونکہ بھارتی ٹیم جہاں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر باقی ٹیموں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، وہیں اس کو حاصل کمال کا اعتماد بھی مخالف ٹیموں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/1137781216072097792"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسی ٹیم کو ہرانے کے لیے اس جیسا ہی اعتماد درکار ہے، کیونکہ آسٹریلوی ٹیم اگر کل کا میچ ہاری ہے تو صرف اسی خوف کی وجہ سے۔ چونکہ پاکستانی ٹیم کا بھارت سے مقابلہ اب سے 6 دن بعد ہے، اس لیے قومی ٹیم کو ہمت اور اعتماد سے کام لینا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی کی جیت کو یاد رکھتے ہوئے اس اعتماد سے میدان میں اترنا ہوگا کہ اگرچہ ورلڈ کپ میں کبھی بھی بھارت کو شکست نہیں دی جاسکی ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہونے جارہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر گھبراہٹ کی وجہ سے بلے بازوں نے سست آغاز لیا تو یہ دباو نیچے تک آتا چلا جائے اور خدانخواستہ وہی نتیجہ آئے گا جو ہر ورلڈ کپ میں آتا ہے، لیکن اس بُرے نتیجے سے بچنا ہے تو اس کا حل صرف یہی ہے کہ بھارتی ٹیم کا مقابلہ اسی اعتماد سے کیا جائے، جس اعتماد سے وہ اس وقت باقی ٹیموں کا سامنا کررہی ہے۔ کیونکہ مسئلہ ہار اور جیت کا نہیں، بلکہ مسئلہ تو لڑائی کا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ کپ میں اب تک 14 میچ کھیلے جاچکے ہیں اور ان 14 میچوں میں سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104601/"><strong>پاکستان بمقابلہ انگلینڈ وہ واحد میچ ہے</strong></a> جو سنسنی خیزی کی تعریف پر پورا اترا ہے، ورنہ تو ہر میچ بغیر دلچسپی لیے ختم ہوگیا۔</p>

<p>گزشتہ روز بھارت اور آسٹریلیا کا اہم میچ لندن کے تاریخی میدان اوول میں کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد قوی امید تھی کہ یہ بہت ٹکر کا میچ ہوگا، لیکن آسٹریلوی ٹیم نے اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے سب کو غلط ثابت کردیا۔</p>

<p>کل بھارت نے آسٹریلیا کو بالکل ویسے ہی شکست دی، جیسے آسٹریلوی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے باقی ٹیموں کو دے رہی تھی۔ یعنی صرف میچ نہیں ہرایا، بلکہ پہلے ڈرایا، دھمکایا، خوفزدہ کیا اور پھر میچ ہرایا، وہ بھی مکمل گرفت کے ساتھ۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--right  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3d7828637.jpg"  alt="بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3d9344164.jpg"  alt="ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>میچ کی پہلی گیند سے آخری گیند تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب میچ میں آسٹریلوی ٹیم کی گرفت مضبوط ہوئی ہو۔ بھارتی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کا سہرا کپتان کی کپتانی، بیٹسمین، باؤلرز اور فیلڈرز سب کو ہی جاتا ہے۔  </p>

<h3 id='5cff9564a3bb6'>بھارتی ٹیم کا جائزہ</h3>

<p>سب سے پہلے بیٹسمنوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر شروع کے 7 اوورز کی بات کی جائے تو 3.14 اوسط سے صرف 22 رنز بنائے گئے تھے اور بھارت کے ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں یہ آغاز کچھ سست محسوس ہوا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح رفتار میں اضافہ ہوا، یہ یقینی طور پر کمال تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104847/">کیا آسٹریلین باؤلر نے بال ٹمپرنگ کی؟ ویڈیو پر تنازع کھڑا ہوگیا</a></strong></p>

<p>بھارت کی پہلی وکٹ 23ویں اوور میں 127 رنز پر جبکہ دوسری وکٹ 37ویں اوور میں 220 رنز پر گری۔ یہاں تک اگرچہ بھارت کے پاس وکٹیں تھیں، مگر خیال تھا کہ اگر آسٹریلوی باؤلرز طریقے سے باؤلنگ کریں تو بھارت کو 300 یا 310 رنز تک روکا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو میچ بہت حد تک دلچسپ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>مگر بھارتی بیٹسمنوں نے آخری 13 اوورز میں 132 رنز بناکر ایسے کسی بھی امکان کو کہیں دُور، بہت دُور پھینک دیا۔</p>

<p>یہاں بھارتی پلاننگ کو داد دینی ہوگی۔ انہوں نے پلان کے عین مطابق اسپنر ایڈم زمپا اور میڈیم پیسر مارکس اسٹوئنس کو بھرپور نشانہ بنایا اور ان دونوں کے 13 اوورز میں 112 رنز بنائے، جو بہت اہم ثابت ہوئے۔</p>

<p>اسی طرح باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بھی جو کچھ ہوا وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ 353 رنز کا بڑا ہدف دینے کے باوجود بھارتی باؤلرز یا فیلڈرز میچ کے کسی ایک لمحے میں بھی سست نظر نہیں آئے، نہ ان کی توجہ میچ سے ہٹی، اور آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کا اہم ترین رن آوٹ اس کی بہترین مثال ہے. </p>

<p>پوری اننگ میں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ باؤلرز وہیں بال کررہے ہیں جہاں کپتان نے فیلڈر کھڑے کیے ہیں یا کپتان نے فیلڈر وہیں کھڑے کیے ہیں جہاں باؤلرز گیند کررہے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ICC/status/1137797043508908032"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک ایک رن روکنے کے لیے بھارتی ٹیم نے محنت کی، صورتحال کو سمجھنے کے لیے آسٹریلوی جارحانہ مزاج اوپنر ڈیوڈ وارنر کی اننگ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 84 گیندوں پر 56 رنز کی سست ترین بیٹنگ کرنے والے وارنر کو تو میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اگر وہ اتنا سست نہ کھیلتے تو یہ عین ممکن تھا کہ 36 رنز سے شکست کھانے والی ٹیم میچ جیت جاتی۔ لیکن وہ کیا کرتے، ان کو بھارتی باؤلرز نے اتنا ڈرا دیا تھا کہ وہ کھل کر کھیل ہی نہیں پا رہے تھے، اور جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو جلد بازی میں غلط شاٹ کھیلتے ہوئے، باؤنڈری لائن پر کیچ آوٹ ہوگئے، حالانکہ یہی وہ وقت تھا جب وہ اپنی سست بیٹنگ کا بدلہ لے سکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--right  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3df675aad.jpg"  alt="ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/06/5cfe3e02e9d41.jpg"  alt="بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='5cff9564a3bd1'>آسٹریلوی ٹیم کا جائزہ</h3>

<p>ابتدائی 10 اوورز تو آسٹریلوی باؤلرز نے بالکل ٹھیک کروائے، لیکن اس کے بعد ایسا لگا جیسے آسٹریلوی کپتان اور باؤلرز مسلسل اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح بھارت کو زیادہ سے زیادہ رنز فراہم کیے جائیں۔</p>

<p>نہ کوئی فیلڈنگ سے متعلق پلان نظر آیا اور نہ ہی باؤلنگ سے متعلق۔ باؤلنگ کی صورتحال تو یہ تھی کہ ہر بال ایک الگ جگہ پھینکی جارہی تھی، جس کا بھارتی بلے باز بھرپور فائدہ اٹھارہے تھے۔</p>

<p>میچ کے 43ویں اوور تک معاملہ یہ تھا کہ دونوں ہی ٹیموں کا اسکور 282 رنز تھا، یعنی بھارتی ٹیم نے آخری 7 اوور میں 70 رنز بنائے اور آسٹریلوی ٹیم نے صرف 34 رنز۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ دونوں ٹیموں میں یہ فرق ضرور تھا کہ بھارت کی 2 وکٹیں گری تھیں اور آسٹریلیا کی 6 وکٹیں۔ اگرچہ بھارت کو کم وکٹیں گرنے کا فائدہ ضرور حاصل تھا، مگر اس سے زیادہ فرق دونوں کی باؤلنگ کے معیار کا بھی تھا۔</p>

<p>آسٹریلیا کے پرائم اور اہم ترین باؤلر مچل اسٹارک نے ابتدائی 7 اوورز میں صرف 36 رنز دیے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آخری 3 اوورز میں 38 رنز دے کر ساری کسر ہی نکال دی۔</p>

<p>سچ پوچھیے تو ان کو ٹھیک ہی مار پڑی، کیونکہ جب ٹیم کا سب سے بہترین باؤلر اناڑیوں کی طرح باؤلنگ کرے گا، تو باقیوں سے کیا شکایت کی جائے۔ </p>

<p>یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے خلاف کسی بھی ٹیم نے 300 یا اس سے زیادہ رنز اسکور کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی کس قدر خراب رہی۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104848/">کوہلی نے ورلڈ کپ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی نئی مثال قائم کردی</a></strong></p>

<p>میچ کے بعد سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر ٹام مودی کا تجزیہ سننے کو ملا تو انہوں نے یہی شکوہ کیا کہ جب وکٹ پر باؤلرز کے لیے کچھ نہ ہو تو ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ یارکروں پر توجہ دی جائے، لیکن افسوس کہ آسٹریلوی باؤلرز ایسا کرنا بھول گئے جس کی ان کو بھرپور سزا ملی۔</p>

<h3 id='5cff9564a3be6'>آئی پی ایل کا کردار کتنا رہا؟</h3>

<p>آسٹریلوی شکست کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس شکست کی ذمہ داری انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) پر بھی ڈالی جارہی ہے، اور یہ ذمہ داری 2 وجوہات کی بنیاد پر ڈالی جارہی ہے۔</p>

<p><strong>پہلی وجہ:</strong> چونکہ بڑی تعداد میں آسٹریلوی کھلاڑی آئی پی ایل کا حصہ رہے ہیں، اس لیے بھارتی ٹیم ان کی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے، لہٰذا انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔</p>

<p><strong>دوسری وجہ:</strong> مفادات کا کھیل، اگرچہ یہ بات بہت عجیب محسوس ہورہی ہے، لیکن بہرحال لوگوں کو کچھ بھی کہنے سے کون روک سکتا ہے؟ کہا یہی جارہا ہے کہ چونکہ اب آئی پی ایل ایک بڑی منڈی بن چکی ہے، اس لیے آسٹریلوی کھلاڑی یہ ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بھی ’غلطی‘ کی وجہ سے وہ اگلی مرتبہ آئی پی ایل کھیلنے سے محروم ہوجائیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان کو ناراض نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ (نوٹ: اس خیال سے میں کچھ زیادہ اتفاق نہیں کرتا)</p>

<h3 id='5cff9564a3bf9'>بھارت کو کس طرح ہرایا جائے؟</h3>

<p>یہ بہت اہم ترین سوال بنتا جارہا ہے، کیونکہ بھارتی ٹیم جہاں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر باقی ٹیموں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، وہیں اس کو حاصل کمال کا اعتماد بھی مخالف ٹیموں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ICC/status/1137781216072097792"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایسی ٹیم کو ہرانے کے لیے اس جیسا ہی اعتماد درکار ہے، کیونکہ آسٹریلوی ٹیم اگر کل کا میچ ہاری ہے تو صرف اسی خوف کی وجہ سے۔ چونکہ پاکستانی ٹیم کا بھارت سے مقابلہ اب سے 6 دن بعد ہے، اس لیے قومی ٹیم کو ہمت اور اعتماد سے کام لینا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی کی جیت کو یاد رکھتے ہوئے اس اعتماد سے میدان میں اترنا ہوگا کہ اگرچہ ورلڈ کپ میں کبھی بھی بھارت کو شکست نہیں دی جاسکی ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہونے جارہا ہے۔ </p>

<p>اگر گھبراہٹ کی وجہ سے بلے بازوں نے سست آغاز لیا تو یہ دباو نیچے تک آتا چلا جائے اور خدانخواستہ وہی نتیجہ آئے گا جو ہر ورلڈ کپ میں آتا ہے، لیکن اس بُرے نتیجے سے بچنا ہے تو اس کا حل صرف یہی ہے کہ بھارتی ٹیم کا مقابلہ اسی اعتماد سے کیا جائے، جس اعتماد سے وہ اس وقت باقی ٹیموں کا سامنا کررہی ہے۔ کیونکہ مسئلہ ہار اور جیت کا نہیں، بلکہ مسئلہ تو لڑائی کا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104878</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Jun 2019 16:49:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہیم پٹیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cfe442993690.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cfe442993690.jpg"/>
        <media:title>Australia's Mitchell Starc (L) is run out by India's Bhuvneshwar Kumar during the 2019 Cricket World Cup group stage match between India and Australia at The Oval in London on June 9, 2019. (Photo by Adrian DENNIS / AFP) / RESTRICTED TO EDITORIAL USE — AFP
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
