<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:46:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:46:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہانہ 50 ہزار روپے سے زائد تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس عائد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104965/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی مد میں حاصل رعائتی حد میں واضح کمی کرتے ہوئے بالترتیب سالانہ 6 لاکھ اور 4 لاکھ کی حد مقرر کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر ریونیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کیا جہاں انہوں نے کئی اشیا کو مہنگی کرنے اور ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی وہیں کم آمدنی والے تنخواہ دار اور غیر تنخوا دار طبقے پر بھی ٹیکس عائد کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2018 میں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار دونوں طرح کے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل قابل ٹیکس آمدن کی کم ازکم حد 4 لاکھ روپے تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2018 میں قابل ٹیکس آمدن کی حد کو تین گنا بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں محصولات کی مد میں 80 ارب روپے کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104964/"&gt;وفاقی بجٹ: چینی ، خوردنی تیل، سیمنٹ مہنگی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ عام طور پر قابل ٹیکس آمدن کی کم ازکم حد ملک کی فی کس آمدن کے تناسب سے ہوتی ہے اور اس طرح کے غیرمعمولی اضافے کی مثال نہیں ملتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمدن میں ٹیکس کی حد اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد پر نظر ثانی کرکے اس سے تنخواہ دار طبقے کے لیے 6 لاکھ روپے اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے 4 لاکھ روپے کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تجویز ہے کہ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے 11 قابل ٹیکس سلیبز 5 فیصد سے 35 فیصد تک کے پروگریس ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کروائے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104954/"&gt;مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 4 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے غیر تنخواہ دار افراد کے لیے آمدن کی 8 سلیبز 5 فیصد سے 35 فیصد ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کروائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے چینی، خوردنی تیل سمیت دیگر اشیا میں بھی ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز دی ہے جس کے باعث آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی مد میں حاصل رعائتی حد میں واضح کمی کرتے ہوئے بالترتیب سالانہ 6 لاکھ اور 4 لاکھ کی حد مقرر کردی ہے۔</p>

<p>وزیر ریونیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کیا جہاں انہوں نے کئی اشیا کو مہنگی کرنے اور ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی وہیں کم آمدنی والے تنخواہ دار اور غیر تنخوا دار طبقے پر بھی ٹیکس عائد کردیے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2018 میں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار دونوں طرح کے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل قابل ٹیکس آمدن کی کم ازکم حد 4 لاکھ روپے تھی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2018 میں قابل ٹیکس آمدن کی حد کو تین گنا بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں محصولات کی مد میں 80 ارب روپے کا نقصان ہوا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104964/">وفاقی بجٹ: چینی ، خوردنی تیل، سیمنٹ مہنگی</a></strong></p>

<p>وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ عام طور پر قابل ٹیکس آمدن کی کم ازکم حد ملک کی فی کس آمدن کے تناسب سے ہوتی ہے اور اس طرح کے غیرمعمولی اضافے کی مثال نہیں ملتی۔</p>

<p>آمدن میں ٹیکس کی حد اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد پر نظر ثانی کرکے اس سے تنخواہ دار طبقے کے لیے 6 لاکھ روپے اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے 4 لاکھ روپے کردیا جائے گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تجویز ہے کہ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے 11 قابل ٹیکس سلیبز 5 فیصد سے 35 فیصد تک کے پروگریس ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کروائے جائیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104954/">مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش</a></strong></p>

<p>غیر تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 4 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے غیر تنخواہ دار افراد کے لیے آمدن کی 8 سلیبز 5 فیصد سے 35 فیصد ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کروائے جائیں گے۔</p>

<p>خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے چینی، خوردنی تیل سمیت دیگر اشیا میں بھی ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز دی ہے جس کے باعث آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104965</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Jun 2019 00:01:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5cffd0ef325b8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5cffd0ef325b8.jpg"/>
        <media:title>سلیبز کا اعلان بعد میں کیا جائے گا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
